برین واش/جمیل آصف

نواز شریف دورِ  حکومت میں مختلف تعلیمی اداروں میں لیپ ٹاپ سکیم کا اجراء ہُوا ۔تاکہ نوجوان اپنی تعلیمی کارکردگی بہتر کرنے کے  لیے اس سے معاونت حاصل کر سکیں ۔بیشتر نے اسے سیاسی سٹنٹ اور مخالفین نے کرپشن کا ایک ذریعہ قرار دیا ۔

چونکہ اس وقت پروجیکٹ عمران خان پر کام تیزی سے ہو رہا تھا اس کے لیے نوجوان طبقے پر محنت کی گئی اور ایک عمر رسیدہ فرد کو قوم کا نمائندہ اور نجات دہندہ بنا کر پیش کیا گیا۔

سکرپٹ رائٹرز نے اخلاق، اوصاف اور کارکردگی کے حوالے سے دیو مالائی کردار بنا کر اس کی شخصیت میں رنگ بھرا ،اور ایک خلقت کو اس کے سحر میں جکڑ دیا ۔

قصہ مختصر، پروپیگنڈہ کے میدان میں نوجوان خون جو مسلسل نفرت انگیز زہر سے آلودہ اذہان لیے ہوئے تھا جدید تعلیمی انفارمیشن کے حصول کے بجائے حکومت کے فراہم کردہ لیپ ٹاپ کو سیاسی مقاصد اور معاشرے میں تعفن کے فروغ کے لئے استعمال کرنے لگے ۔

نفرت کا یہ عالم تھا کہ  لیپ ٹاپ کے بیگ پر درج وزیر اعلیٰ  یا وزیر اعظم لیپ ٹاپ سکیم یا میاں نواز شریف کے نام بلیڈ سے کاٹتے دیکھے کہ یہ چور ہیں ۔
ان نفرت زدہ ذہنوں کی علمی شناخت ہائی کوالیفائیڈ تھی ۔یہی وجہ ہے اس وقت جو معاشرے  میں فکری، ذہنی سیاسی غلاظت سے متعفن فضا ہے وہ کالجز اور یونیورسٹیز میں سالوں کی اس محنت کا نتیجہ ہے جو عقل و دانش سے ما ورا متضاد راہنما کے قول و فعل کے تضاد کے باوجود اس کی اندھی تقلید میں نظر آتی ہے ۔

زندگی کے ہر میدان میں ناقص حکمِ ت عملی کے باوجود راہنما کی ہر غلطی اور قول کا دفاع کرنے والی نسل وہی ہے جس نے اس وقت میں اثر قبول کیا جب وہ کچے اذہان کے مالک تھے ۔

بدقسمتی سے ایک واضح تفریق سماجی طور پر پھیل چکی ہے جس نے، ملک، صوبے، شہر، محلے، گلی اور گھر کو متاثر کر رکھا ہے ۔

Advertisements
julia rana solicitors

ضرورت اس وقت یہ ہے  کہ ایسی سیاسی فکر کا احیا ء ہو جو سمجھ بوجھ اور عقل و دانش سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو ۔
اس کے لیے تمام مکاتبِ  فکر کے سٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ معاشرے کو تباہ ہونے سے پہلے اپنی ذمہ داری نبھائیں ۔تاکہ سلجھی قیادت سے ملک و قوم کا فائدہ ہو ۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply