ویکسین (4،آخری قسط) ۔ بنانے کا طریقہ/وہاراامباکر

۱۔ ریسرچ لیبارٹری میں کام شروع کریں۔ اپنے ویکٹر کا ڈی این اے لیں اور جینیاتی تکنیک کی مدد سے اسکو اس وائرس کے ساتھ ملا لیں جس کے خلاف ویکسین بنانی ہے۔ اگر آپ کووڈ 19 کے خلاف ویکسین بنانا چاہتے ہیں تو پھر یہ وہ ڈی این اے ہو گا جو کہ اس وائرس کی سپائک پروٹین بناتا ہے۔ اب آپ کے پاس ڈی این اے کے ٹکڑے ہیں جو کہ پلازمڈ کہلاتے ہیں۔ اس میں اس ویکسین کا مکمل جینیاتی سیکوئنس ہے جس کو آپ بنانا چاہتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

۲۔ بڑی مقدار میں پلازمڈ بنانے کے لئے اسے خاص ٹریٹمنٹ والے بیکٹیریا کے اندر داخل کر دیں۔ اس عمل کو ٹرانسفورمیشن کہتے ہیں۔ بیکٹیریا کو غذائی یخنی میں ڈال دیں۔ یہ اب پلازمڈ ڈی این اے کی مزید کاپیاں بناتے رہیں گے۔
۳۔ خالص کرنا: اس میں پروٹین، ممبرین اور بیکٹیریا کے کروموزوم الگ کر دئے جاتے ہیں تا کہ خالص پلازمڈ ڈی این اے حاصل ہو جائے۔
اس کے بعد والے سٹیپ اب بہت کنٹرولڈ کرنا ہوتے ہیں۔
۴۔ خالص ڈی این اے میں کچھ ایسے سیکونس بھی موجود ہیں جن کی ہمیں ویکسین میں ضرورت نہیں۔ مثال کے طور پر، اس میں وہ جین ہیں جو خود کو بیکٹریا میں کاپی کرتے تھے۔ یہاں پر restriction enzyme (جو کہ ننھی سے کیمیائی قینچی ہیں) کی مدد سے ڈی این اے پر دو کٹ لگائے جاتے ہیں اور فالتو ڈی این اے کو کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے۔
۵۔ باقی بچے ڈی این اے میں ویکسین کا بلیوپرنٹ ہے۔ لیکن ابھی آپ کے پاس اس کی قلیل مقدار ہے۔ چونکہ یہ وائرس پارٹیکل زندہ خلیات میں ہی بڑھ سکتے ہیں تو انہیں ان میں ڈالنا ہو گا۔ یہ وہ ننھی سی فیکٹریاں ہوں گی جہاں پر ویکسین بنے گی۔ اس پراسس کو ٹرانسفیکشن کہا جاتا ہے۔ اس کے لئے خاص کلچرڈ خلیات استعمال ہوتے ہیں۔ (آسٹرازینیکا میں یہ HEK293 ہے جو کہ سٹیم سیلز کی ایک لائن ہے)۔ ان میں ایڈینووائرس کی ایک جین E1 ہے۔ ہم نے جو ایڈینووائرس استعمال کیا (ChAdOx1) تھا، اس میں سے یہی جین نکالی گئی تھی۔ اور اس کی وجہ سے یہ ویکسین میں نہیں بڑھ سکتا۔
۶۔ یہ کام کرنے کے لئے ڈی این اے کو ایک محلول کے ساتھ مکس کرنا ہے تا کہ یہ خلیات کے اندر داخل ہو سکے۔ یہ عمل زیادہ ایفی شنٹ نہیں ہے۔ لیکن اتنا ڈی این اے خلیات میں پہنچ جائے گا کہ وہ کاپیاں بنانی شروع کر دے۔ ایک بار یہ عمل شروع ہو جائے تو یہ پھیل جانے میں ایفی شنٹ ہے۔
۷۔ اپنے مکسچر کو incubate کرنا ہے۔ دس لاکھ خلیات کو دو ملی لیٹر گروتھ میڈیم میں ڈالنا ہے۔ اسے 37 ڈگری پر ایک ہفتہ رکھنا ہے۔ (یہ جسم کا درجہ حرارت ہے)۔ اس دوران زیادہ سے زیادہ خلیات انفیکٹ ہو جائیں گے اور ایڈینووائرس کے زیادہ پارٹیکل بنیں گے۔
۸۔ اس کلچر کو Amplify کرنا ہے۔ اس کے لئے نئے خلیات کو کنٹینر میں انڈیلا جائے گا تا کہ نئے پارٹیکل بن سکیں۔
۹۔ وائرس کو خلیات سے محلول میں ریلیز کر دینا ہے۔
۱۰۔ وائرس کے اس محلول کو dilute کرنا ہے اور اس کو الگ الگ خلیات کے کلچر کو انفیکٹ کرنے کے لئے استعمال کرنا ہے۔ یہ ایک ایک وائرس پارٹیکل سے کی جانے والی انفیکشن ہے جس کو single virion cloning کہا جاتا ہے۔
۱۱۔ ہر کلچر کو دوبارہ انکوبیٹ
۱۲۔ ہر کلچر کو دوبارہ امپلیفائی
۱۳۔ خالص کرنا۔ جس میں پروٹین، فیٹ، کاربوہائیڈریٹ وغیرہ الگ کر کے خالص وائرل ویکسین پارٹیکل مل جاتے ہیں۔
۱۴۔ ان کو ٹیسٹ کرنا۔ اس کے لئے ڈی این اے کو پڑھنا ہے کہ یہ درست ہے۔ سنتھیٹک ڈی این اے میں ہمیشہ غلطی کا امکان ہوتا ہے۔ میوٹیشن ہو سکتی ہیں۔ اس لئے الگ کلچرز میں ہمیں درست والے ویکسین پارٹیکلز کو لینا ہے۔ پچھلے چار سٹیپ بار بار دہرائے جائیں گے تا کہ ویکسین کا درست کلون لیا جا سکے۔
۱۵۔ منتخب کلون کو زیادہ سے زیادہ بڑے والیوم میں کلچر کرنا ہے۔
۱۶۔ اب آپ کے پاس جو میٹیریل ہے، یہ انتہائی قیمتی ہے۔ یہ وہ ابتدائی مواد ہے جو ویکسین کی تمام پروڈکشن کا بیج بنے گا۔ اس کی درستگی کو ٹیسٹ کیا جانا ہے، اس کو sterile کرنا ہے اور کسی بھی بیرونی شے کی ملاوٹ سے آزاد ہونا ہے۔ اب اس کو certify کیا جائے گا اور ویکسین بنانے والی manufacturing facility کو بھیجا جائے گا۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply