• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • اپنے جوتوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار۔محمد اظہار الحق

اپنے جوتوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار۔محمد اظہار الحق

SHOPPING

کیا یہ ممکن ہے کہ  ہم مذہب کو سیاست سے نکال کر اپنی زندگیوں میں لے آئیں ؟

اس وقت مذہب ‘جسے ہم دین بھی کہتے ہیں  ‘ہماری زندگیوں سے کوسوں دور ہے’یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ہماری زندگیاں ہمارے مذہب سے کوئی علاقہ نہیں رکھتیں ۔ہاں ‘سیاست اور تجارت میں مذہب کا استعمال زوروں پر ہے!تجارت میں مذہب کو کیسے استعمال بلکہ غلط استعمال(misuse)کیا جارہا ہے اس پر کئی بار بات ہوچکی ہے ۔یہ اور بات کہ اس کا تذکرہ بار بار کرنا چاہیے یہاں تک کہ مسئلہ ذہنوں  میں اجاگر ہوجائے۔

تاہم سیاست میں مذہب کا استعمال ‘تجارت میں مذہب کے  استعمال سے زیادہ  خطرناک ہے۔کئی گنا خطرناک!سب سے بڑا  سبب اس کا یہ ہے کہ عوام  مذہب پر جان چھڑکتے ہیں !بدعمل سے بدعمل مسلمان بھی مذہب کا احترام کرتا ہے اور مذہب کے حوالے سے’یا واسطے سے کوئی بات اس سے کی جائے تو اسے رد نہیں کرتا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ اسے رد کرے۔اسی لیے شاطر سیاستدان ‘مذہب کا  لبادہ اوڑھتے ہیں ! وہ اپنے لیے نہیں ‘مذہب کے لیے ووٹ مانگتے ہیں حالانکہ ان میں اور دوسرے سیاست دانوں میں ظاہری وضع قطع  کے سوا کوئی اور فرق نہیں !زندگیاں سب کی مذہب سے لاتعلق ہیں !

اب یہاں  ایک سیدھا سادہ سوال پیدا ہوتا ہے یہاں منطق ‘کسی فلسفے ‘کسی پی ایچ ڈی ‘کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں !ایک شخص جو ظاہری وضع قطع  سے پکا کٹر مسلمان لگے ۔فرائض  کی انجام دہی میں قابل رشک حد تک پورا اترے۔پانچ نمازیں باجماعت پڑھتا ہو’رمضان کے روزے رکھتا ہو۔حج کا فرض ادا کرچکا ہو’زکوۃ ادا کرتا ہو۔بلکہ فرائض سے آگے بڑھ کر نوافل اور مستحبات میں بھی سرگرم ہو۔اشراق ادا کیے بغیر مسجد سے نہ اٹھے’اکثر و بیشتر عمرہ کی نفلی عبادت ادا کرنے کے لیے عازم حرم ہوتا ہو ۔تو کیا اس کے بارے میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں  کہ وہ مذہب پر’ ہمارے مذہب یعنی اسلام پر ‘چل رہا ہے؟

نہیں ! اسلام صرف ظاہری وضع قطع عبادات کا نام نہیں ! یہی وہ گرہ ہے جو ہماری سیاست میں پڑی ہوئی ہے۔مذہب کا لبادہ اوڑھ کر سیاست کرنے والوں کے نزدیک مذہب صرف ظاہری شکل و صورت اور عبادات کا نام ہے۔ اسی نکتے پر وہ عوام کا استحصال کرتے ہیں !
فرض کیجیے !کوئی شخص مسلم لیگ میں ہے یا تحریک انصاف میں ‘یا پیپلز پارٹی میں ہے وہ فرائض کی انجام دہی کے علاوہ عملی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں بھی اسلامی تعلیمات کو اپناتا ہے۔جھوٹ نہیں  بولتا’وعدہ خلافی کا مرتکب نہیں ہوتا۔ تجارت میں ‘صنعت میں ‘دفتری زندگی میں ‘خاندانی دائرے  میں ‘آخرت کی جواب دہی کا خیال رکھتا ہے ‘تو کیا وہ اس شخص کے مقابلے میں ووٹ کا زیادہ حقدارنہیں جو عبادات کا پابند ہے’ مذہب کے نام پر ووٹ مانگتا ہے مگر ا س کا نام سن کر ‘اس کے رشتہ دار ‘اس کے ماتحت ‘اس کے متعلقین اس سے معاملات طے کرنے والے’کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں!

مذہب اگر ہماری زندگیوں میں دخیل ہوجائے تو سیاست خود بخود  دُھل کر پاک صاف ہوجائے گی! سچ بولنے والے’معاملات میں شفافیت اختیار کرنے والے اور اس امر سے ڈرنے والے کہ ہر عمل کا کل جواب اور حساب دینا ہوگا اگر منتخب اداروں میں آجائیں تو حکومت کا سارا نظام درست ہوجائے’ سفارش’اقربا پروری’ قومی خزانے کا غلط استعمال’یہ سب وہ کام ہیں جو اسلام کی رُو سے حرام ہیں  ! یہ برائیاں  خودبخود ختم ہوجائیں !

پاکستانی سیاست کا عجیب و غریب پہلو جو شاید  ہی  دنیا  کے کسی اور ملک  میں پایا جاتا ہو ‘یہ ہے کہ مذہبی پارٹیاں ‘جو سیاست کررہی ہیں  اپنی الگ شناخت کسی فلاحی پروگرام کی بنیاد پر نہیں رکھتیں ‘بلکہ ان کی شناخت ان کے مسالک ہیں ! جے یو آئی کے جتنے بھی گروہ ہیں ‘ایک مخصوص مکتبِ فکر کی نمائندگی کرتے ہیں ۔شاہ احمد نورانی کے جانشیں  ایک دوسرے مسلک کا علم اٹھائے ہوئے ہیں !مولانا ساجد میر کی جماعت’ جوسیاسی بھی ہے اپنے مسلک کی بنیاد پر قائم ہے۔اسی طرح مولانا ساجد نقوی ایک اور مسلک کی نمائندگی فرماتے ہیں  ۔آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ سیاست کا اور اسمبلیوں کااور وزارتوں کا ‘اور امورِ حکومت کا اور امورِ مملکت کا ان مسلکوں سے کیا تعلق ہے؟اور کیا تعلق ہوسکتا ہے؟ پارلیمنٹ نے جو مسائل حل کرنے ہیں ان کا تعلق بجٹ سے ہے ‘بین الاقوامی قرضوں سے ہے’ توازن ِ تجارت سے ہے’ کارخانے لگانے سے ہے ‘زراعت کو ماڈرن کرنے اور ترقی دینے سے’بستیوں اور قریوں کو’ قصبوں اور شہروں کو جدید سہولتیں فراہم کرنے سے ہے’ سائنس اور ٹیکنالوجی سے ہے’ آئی ٹی سے ہے ‘ٹیکس لگانے اور وصول کرنے سے ہے’امور خارجہ نمٹانے سے ہے!خدا کے بندو!ان کاموں  کے لیے مسلکی بنیادوں پر سیاسی جماعتیں بنانے اور مسلکی لبادے اوڑھ کر ووٹ مانگنے کا کیا جواز ہے؟

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ جے یو آئی میں ‘یا جمعیت اہل حدیث میں  یا جماعت اسلامی میں شامل ہیں کیا وہ ان افراد سے بہتر مسلمان ہیں  جو مسلم لیگ ‘تحریک انصاف یا پیپلز پارٹی میں شامل ہیں ؟آخر اس بات کا فیصلہ کون کرے گا ؟اور کیسےکرے گا؟کیا بہتر مسلمان ہونے کے لیے اتنا کافی ہےکہ مذہبی جماعت میں شامل ہوا جائے؟ مذہبی جماعتوں پر الگ الگ نام لے کر بات کی جائے تو درِ عمل شدید ہوتا ہے  تاہم حقیقت یہی ہے کہ مذہب کے حوالے سے سیاست کرنے والی جماعتوں کی شہرت قابلِ رشک ہر گز نہیں !ان کے مالی معاملات اور ان کی سماجی قدریں پڑھی لکھی مڈل کلاس کے نزدیک مستحسن نہیں ۔

ان میں سے کچھ کے رہنما  ہر حکومت سے فائدہ اٹھانے کے لیے مشہور یا بدنام ہیں ۔کچھ تعلیمی اداروں میں  تشدد  اور فساد کے ذمہ دار ہیں! لوگوں نے اور میڈیا نے کچھ کے تو ایسے نام رکھے ہوئے ہیں جو خیانت سے عبارت ہیں! حالی نے شاید ایسے حضرات ہی کے حوالے سے کہا تھا

؎اپنے جوتوں  سے رہیں  سارے نمازی ہشیار

اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت!

اب اس معاملے کو ایک اور زاویے سے دیکھیے۔ جن ملکوں کو ہم مغربی یا ترقی یافتہ یا جمہوری کہتے ہیں’ان کے سیاست دان عملی زندگی میں ان اصولوں پر سختی سے عمل  کرتے ہیں’جن پر اسلام نے معاملات کے حوالے سے زور دیا ہے۔ ان کا طرز زندگی عوام جیسا ہے ۔سفارش اور اقربا پروری کی وہاں اجازت ہی نہیں! آسٹریلیا کے صوبے نیو ساؤتھ ویلز کا ایک وزیر ‘یا اسمبلی کا ممبر’ اس لیے زیرِ عتاب آیا کہ اس نے سرکاری لیٹر ہیڈ کو ذاتی سفارش کے لیے استعمال کیا تھا۔ وزیراعظم کی بیوی ٹرین میں بغیر ٹکٹ بیٹھے تو اسے عدالت میں حاضر ہونا پڑتا ہے۔حافظ سعید صاحب جیسا کٹر مسلمان جب اپنے حکمرانوں کے متعیشانہ  طرزِ   زندگی  کے خلاف   عدالت جاتا ہے تو اسلامی طرز رہائش کی مثال دینے کےلیے برطانوی وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کا نام لیتا ہے!کیا یہ سیات دان ان افراد کے مقابلے میں زیادہ صاف شفاف نہیں جو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر قومی خزانے سے بے تحاشا مراعات لیتے ہیں ؟ اور جن کی زندگی ہر گز قابلِ رشک نہیں نہ قابلِ تقلیدہیں ؟

زندگی کو معاملات کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کا کام ہر مسلمان پر فرض ہے اسلام جبہ و دستار کی جاگیر نہیں! جبہ و دستار کی اکثریت اسلام سے صرف فائدہ اٹھاتی ہے۔معاشی فائدہ ‘سیاسی فائدہ اور سماجی فائدہ! یقیناً  جبہ و دستار کے گروہ میں ایسے نیکوکار بھی موجود ہیں جو مفادات کے اسیر نہیں اور اخلاص  اور بے غرضی کے ساتھ خلقِ خدا کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں ۔ایسے افراد اس زوال پذیر معاشرے میں غنیمت ہیں ان میں سے اکثر سیاست اور پی آر کی آلائشوں سےدور ہیں ! مگر المیہ یہ ہے کہ ایسے بزرگوں کی تعداد کم ہے!آٹے میں نمک کے برابر!

ہمارے سیاسی منطر نامے کو بہت سے عوارض گھن کی طرح کھا رہے ہیں اور دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں ۔ان میں ایک بڑا عارضہ سیاست میں مذہب کا استعمال ہے ۔اگر ہم اس عارضے کو جڑ سے اکھیڑنے میں کامیاب ہوجائیں تو ایک بہت بڑا مرحلہ سر ہوجائےگا!اسلام کا  تعلق  سیاست یا تجارت سے نہیں’ہماری زندگی کے ہر پہلو سے ہے ! اور یہی کام مشکل ہے!اسی لیے تو اقبال نے متنبہ کیا تھا۔۔

چومی گویم مسلمانم’بلرزم

کہ دانم مشکلاتِ لاالہ را

SHOPPING

مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہوں تو لرز اٹھتا ہوں مجھے اس راستے کی صعوبتوں کا اندازہ ہے!

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *