لڑکی کا نکاح،مذہبی اور سماجی پہلو۔۔ڈاکٹر طفیل ہاشمی

انعام رانا کی  وال پر ایک پوسٹ دیکھی۔جو کچھ یوں تھی۔۔

 “جسٹس نواز چوہان کی عدالت میں تھا(کیا قابل جج تھے)، ایک وکیل صاحب نے اپنی بیٹی کی  مرضی کی شادی پر کیس لگایا ہوا تھا۔ چوہان صاحب نے باریش وکیل صاحب کو بنچ کے بالکل پاس بلا کر ہلکی سی سرگوشی میں کہا “سر  آپ کو پتہ ہے ان کیسز میں کیا ہوتا ہے، بہتر ہو گا پٹیشن وڈرا کر کے میرے چیمبر میں صلح کر لیں”۔ وکیل صاحب یکدم دھاڑے “نہیں سر، my point is that this marriage is illegal ،and she is committing zina”۔ یکدم سناٹا چھا گیا، چوہان صاحب کے چہرے کا رنگ پہلے پیلا اور پھر لال سرخ ہو گیا۔ چوہان صاحب نے حسب قانون بالغ بچی کے خلاف پٹیشن ڈسمس کر دی۔ سوچتا ہوں وکیل صاحب کی “عزت” کا کونڈا ان کی بیٹی نے کیا یا انہوں نے خود۔”(انعام رانا)

اس مسئلے کے دوپہلو ہیں مذہبی اور سماجی۔ مذہبی پہلو سے فقہاء کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ عورت خود معاہدہ نکاح نہیں کر سکتی. ان کا استدلال ایک حدیث سے ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :جو عورت اپنا نکاح خود سے کر لیتی ہے اس کا نکاح باطل ہے ” جبکہ فقہاء کے ایک دوسرے گروہ کی رائے میں عورت دیگر معاہدات کی طرح اپنا نکاح بھی خود کر سکتی ہے. جیسے قرآن نے اسے حقوق ملکیت دیے ہیں اور وہ اپنے مال میں کسی دوسرے کی اجازت کے بغیر تصرف کر سکتی ہے اسی طرح اپنا معاہدہ نکاح بھی کر سکتی ہے کیونکہ قرآن حکیم نے ایسی طلاق یافتہ عورت کے بارے میں جسے اس کے شوہر نے تین طلاق دے دی ہوں کہا ہے کہ وہ اس وقت تک پہلے شوہر کے لیے جائز نہیں ہو سکتی جب تک وہ(یعنی عورت خود) کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کر لے. (البقرہ 2:229)

اس آیت میں نکاح کرنے کا اختیار عورت کو دیا گیا ہے. ایک دوسری آیت میں عورت کے اولیاء (والدین /سرپرست) سے کہا گیا ہے کہ جب کوئی عورت کسی مرد سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو تمھیں اختیار نہیں کہ تم اسے روک دو (البقرہ 2:232) اس کے علاوہ سنن ابوداؤد میں روایت ہے کہ ایک نوجوان کنواری دوشیزہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آئی  اور آکر اپنے باپ کی شکایت کی کہ اس نے میری رضامندی کے بغیر میرا نکاح اپنے نالائق بھتیجے سے کر دیا ہے. آپ نے اس کے والد کو بلا بھیجا اور لڑکی کو اختیار دے دیا کہ وہ چاہے اپنا نکاح باقی رکھے چاہے فسخ کر دے (حدیث نمبر، 2096)۔

ان تمام آیات و روایات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیون ساتھی کا انتخاب عورت کا حق ہے لیکن اسے اپنا یہ حق اپنے ولی کے توسط سے استعمال کرنا چاہیے کیونکہ اسلام صرف قوانین کا نام نہیں ہے، یہ خوش گوار زندگی اور محبت بھرے تعلقات کی راہ بھی دکھاتا ہے کہ لڑکیوں اور والدین دونوں کو ایسا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے جو عزت، احترام مودت، محبت اور دیرپا رشتوں کی استواری کا ضامن ہو. بچیوں کو والدین سے ماورا فیصلے نہیں کرنا چاہییں  اور والدین کو بچیوں کی پسند ناپسند کو نظرانداز کرنے کی اجازت نہیں ہے.

اسلام کی یہ خوبی ہے کہ جہاں بھی دو طرفہ تعلقات ہوتے ہیں ہر فریق کو دوسرے کے حقوق و جذبات کی پاس داری کی تعلیم دیتا ہے. سماجی پہلو سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں جہاں والدین اپنے ناجائز اختیارات مسلط کر کے بے جوڑ شادیاں کر دیتے ہیں بچوں کی ساری زندگی عذاب مسلسل ہو جاتی ہے اور وہ ہمیشہ والدین سے نفرت کرتے ہیں، جہاں ہزار ہا بچیاں لمحہ لمحہ جیتی اور مرتی ہیں وہاں کبھی کبھی ایسے کیسز کورٹس میں بھی آ جاتے ہیں جو عزتوں کی سرعام نیلامی کا باعث بنتے ہیں.

دوسری طرف مغرب میں جہاں والدین کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا خواتین کی اکثریت ساری زندگی بوائے فرینڈز تبدیل کرتی رہتی ہیں اور آخر عمر میں کتے بلیاں اور دوسرے جانور پال کر اپنی تنہائی کا مداوا کرتی ہیں .میرا ماننا یہ ہے کہ اگر بچی کو یقین ہو کہ والدین اپنا فیصلہ مجھ پر مسلط نہیں کریں گے اور میری رائے پر ہی آخری فیصلہ ہوگا تو وہ کبھی انتہائی قدم نہیں اٹھاتیں . بچیوں کی حق تلفی ایسے حالات کو جنم دیتی ہے!

ڈاکٹرطفیل ہاشمی
ڈاکٹرطفیل ہاشمی
استاد، ماہر علوم اسلامی، محبتوںکا امین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *