برہسپتی/مبشر حسن

اس کی پیدائش ہوئی اندازاً ساتویں صدی قبل مسیح اور وفات ہوئی اندازاً چھٹی صدی قبل مسیح،یہ  ہندوستان کا رہنے والا تھا۔

برہسپتی چارواک لوکایت مکتبہ کا بانی اور اس کے سوتروں کا مصنف تھا۔ چارواک لوکایت مادیت پسند فلسفی تھے۔ تاہم برہسپتی کی مادیت پسندی کو صرف اسی مکتبہ تک محدود کر دینا ایک سنگین غلطی ہوگئی کیونکہ اس طرح ہندوستانی مادیت پسندی کی وسعت واہمیت گھٹ جائے گی ۔ ہندوستانی فلسفہ کے تقریباً سبھی نظاموں یا مکاتب میں مادیت پسندانہ رجحان خلقی حیثیت رکھتا ہے بشمول جدید دور کے معروضی عینیت پسند ویدانت مکتبہ فکر کے۔

یہ برہسپتی ہی تھا جس نے قدیم ہندوستانی مادیت پسندی کو ممتاز بنایا۔ اس کی زندگی کے بارے میں ہمیں کچھ معلوم نہیں ۔ اس کی فکر چارواک لوکایت مکتبہ کے سوتروں کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہے۔
چارواک نے خدا کی موجودگی کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے چار عناصر کو جوہر تسلیم کیا مٹی پانی آگ اور ہوا۔ انہی عناصر کے امتزاجات نے تمام چیز میں اور مادی و روحانی مظاہر فطرت پیدا کیے۔ روح بھی شعور کا حامل ایک جسم ہے روح کا جسم سے باہر کوئی وجود نہیں۔ شعور غیر شعوری عناصر سے مخصوص حالات میں جنم لیتا ہے ۔ شعور محض مادی عناصر کو ملانے کے مخصوص عمل کا نتیجہ ہے ۔ انسان کی موت سے اس کا شعور اور روح دونوں فنا ہو جاتے ہیں۔

چھٹی صدی قبل مسیح میں اجیت کیش کمبلی نامی چارواک نے کہا کہ دانا اور بے وقوف دونوں ہی اپنے جسم سمیت فنا ہو جاتے ہیں اور موت کے بعد ان کا کوئی وجود نہیں رہتا۔
چارواک نے مذہبی توہمات کو مسترد کیا جو لوگوں کو لاعلم اور استحصال کا شکار رکھتی ہیں۔

اور حسِ ادراک کے نتیجے کے طور پر ان کے نظریہ بصیرت کی مخالفت کی۔ یہ مجہول حساسیت کا نقطۂ نظر یقیناً کچھ کمزور پہلو رکھتا تھا۔ حسیات اور ادراکات کو علم کا واحد مآخذ تسلیم کرتے ہوئے، چارواک یہ بھول گئے کہ ادراک میں حسیاتی اور استدلالی عناصر کا ایک جدلیاتی اتحاد پایا جاتا ہے۔انہوں نے انسان کی ادراکی سرگرمی کو مجرد سوچ کی صورت میں غیر درست یا بہر صورت غیر معتبر سمجھا۔ چارواک نے کہا کہ ذہن (یعنی مجردسورچ) کا حسیات اور ادراکات کے بغیر کوئی وجود نہیں۔ قضیے اور تمثیلات صرف تبھی ممکن ہیں جب ان کی بنیاد حسیاتی ذرائع سے حاصل کردہ ڈیٹا پر ہو ۔ نیز مجرد استدلالی سوچ (یعنی ذہن ) حسیاتی ادراک کی فراہم کردہ معلومات میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتی۔ یہ الفاظ دیگر وہ مظاہر کی تفہیم سے جوہر کی تفہیم کی جانب عبور کی جدلیات کو شناخت کرنے میں ناکام رہے۔

تاہم یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ چارواکوں کا اصل مقصد برہمن مت کی آئیڈیالوجی کے زور دار حملے سے نمٹنا تھا۔ مادیت پسندی کے مخالفین ( زیادہ تر برہمن پروہت) نا صرف مادیت پسند فلسفوں کی سرکوبی کرتے بلکہ ان کی تحریروں کو نذر آتش بھی کر دیتے تھے ۔ اس لیے چارواک لوکایت کی زیادہ تر مادیت پسندانہ تلف ہو گئیں ۔ اب ہمیں مادیت پسندوں کے نظریات صرف مخالفین کی تردیدی تحریروں میں ہی ملتے ہیں۔

چارواک مادیت پسندی عینیت پسندانہ اور مذہبی نظریات کے خلاف براہ راست تنقید سے متصف ہے ۔ ان کا مقصد کوئی باقاعدہ نظام فکر مرتب کرنے کے بجائے محض برہمنی آئیڈیالوجی کی تردید کر نا ہی نظر آ تا ہے۔ چارواک لوکایت کے نظریات کو مندرجہ ذیل نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے۔
(1) تمام ہَستی کی بنیاد چار مادی عناصر ( مہا بھوت ) پر ہے۔ آگ، مٹی، پانی اور ہوا۔ یہ عناصر بے ساختہ انداز میں مستعد ہیں اور ان کے اندرخلقی طور پر اپنی ایک قوت (سو بَھاو ) پائی جاتی ہے۔
(2) صرف ’’یہ دنیا‘‘ (لوک ) موجود ہے ؛ کوئی پرلوک یا حیات بعد الموت نہیں ہوگی ، یعنی انسان کی موت کے بعد اس کی زندگی نہ تو ’’وہاں‘‘ برہمن – آ تما دنیا میں جاری رہے گی اور نہ ہی ’’یہاں‘‘ زمین پر دوبارہ قائم ہوگی ۔
چارواک کہتے ہیں:
جب تک زندہ ہو خوشی خوشی زندگی گزارو؛
موت کی متلاشی آ نکھ سے کسی کو بھی مفر نہیں ؛
جب ایک مرتبہ تمہارا یہ بدن جلا دیا جائے تو یہ دوبارہ واپس کیسے آ سکتا ہے؟

انہوں نے اس مذہبی قضیے پر تنقید کی کہ’’شعور لافانی روح کی ملکیت ہے‘ اور اصرار کیا کہ انسان کے ساتھ ہی اس کا شعور بھی فنا ہو جا تا ہے جبکہ خود انسان چار بنیادی عناصر میں منتشر ہو جا تا ہے ۔ ان کے مطابق انسان چار عناصر سے مل کر بنا ہے اور موت آنے پر یہ چار عناصر اپنے اپنے مآخذ میں لوٹ جاتے ہیں ۔

(3) کوئی مافوق الفطرت ( الوہی ) قوتیں موجود نہیں ۔خْدا غریبوں کو دھوکا دینے کے لیے  اَمیروں  کا وضع کردہ فریب ہے ۔ چارواک کا خیال تھا کہ برہمن مت بھی دیگر مذاہب کی طرح نقصان دہ اور ناممکن الثبوت ہے کیونکہ یہ غریبوں کی توجہ اور طاقت کو خیالی دیوتاؤں کی عبادت کرنے نامعلوم قوتوں کو نذرانے چڑھانے اور فضول وعظ سْننے وغیرہ کی جانب لگا دیتا ہے۔ مذہبی تحریر میں مادی مقاصد رکھنے والے افراد کے مخصوص گروہ کی تخیل بازیوں پر مبنی ہیں۔

(4) کوئی روح موجود نہیں ۔ یعنی مذہبی مسالک اور فلسفیوں کی بیان کردہ روح ۔ یہ سوچ کی اہلیت کا حامل مادہ ہے اور اس کا مادے سے علیحدہ کوئی وجود نہیں ۔

(5) قانون کرم ( یعنی اچھے و برے اعمال کی جزاوسزا) مذہب کے پیروکاروں
کی اختراع ہے جسے عینیت پسندفلسفیوں نے بھی استعمال کیا۔ اس دنیا میں برائی کا مآخذ معاشرے میں موجود ظلم و نا انصافی میں تلاش کر نا چا ہیے ۔ فطرت کے علم کا واحد منبع حسیاتی ادراک ہے۔صرف براہ راست ادراک ( حواس خمسہ کے ذریعے ہی انسان کو حقیقی علم ( پرتیکشا ) دیتا ہے۔ صرف اس چیز کا وجود ہے جو براہ راست طور پر قابل ادراک ہو ۔ نا قابلِ ادراک چیز وجودنہیں رکھتی ۔’’ نا قابل ادراک‘‘ سے چارواک کی مراد خدا ، روح ، آسمانی بادشاہت وغیرہ جیسے مذہبی’’ جواہر‘‘ ہیں۔

چارواکوں کے مطابق حسیاتی ادراک دوقسم کا ہو سکتا ہے۔۔ خارجی اور داخلی ۔ داخلی ادراکات استدلال کی فعالیت سے پیدا ہوتے ہیں ۔ خارجی ادراکات پانچ حسیاتی اعضاء کی فعالیت کے ساتھ مربوط ہیں۔ چنانچہ خود علم کی بھی دو اقسام یا صورتیں ہیں۔

پہلی قسم کا علم حیاتی اعضاء اور خارجی دنیا کی اشیاء کے درمیان رابطے کا نتیجہ ہے ۔ دوسری قسم کا علم حسیاتی ڈیٹا کی بنیاد پر ذہنی سرگرمیوں سے حاصل ہوتا ہے ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اگر چہ وسطیٰ دور کے اختتام تک چارواک مکتبہ فکر غائب ہو چکا تھا لیکن اس کے نظریات دیگر فلسفیوں اور مکا تب میں سرایت کر گئے۔ سانکھیہ نظام فکر کی مادیت پسندی کافی حد تک برہسپتی اور دیگر چارواک مفکرین سے فیض یاب نظر آتی ہے ۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply