سیاستدان اور عوام/عبدالرؤف خٹک

یہ ہے ہمارا ملک پاکستان ، جسے ہم لوگ تعویز، گنڈوں، پیروں،فقیروں اور روحانی سلسلوں سے چلا رہے ہیں۔ ملک کم لگتا ہے ۔ پیری فقیری کا آستانہ زیادہ لگتا ہے، جہاں حکمران اپنی وزارتیں بچانے کے لئیے پیروں فقیروں کا سہارا لیتے ہیں۔
جاوید چوہدری کے کالم پڑھ کر تو سر چکرا جائے کہ آیا، ہمارا ملک ہم نے ان کمزور عقیدہ لوگوں کے حوالے کر رکھا ہے ۔ اور ہم امید لگائے بیٹھے ہیں کہ یہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ یہ تو خود تماشہ بنے ہوئے ہیں ۔ جادو ٹونے پر ملک چلایا جارہا ہے۔
اک طرف یہ طرف تماشہ ہے، تو دوسری طرف ملک کو کوٹھا بنا کر رکھا ہوا ہے، جس میں روز ملک کے نامور شرفاء ننگے نظر آتے ہیں۔ اب بات الزامات سے نکل کر آڈیوز ویڈیوز پر آچکی ہے، لیکن مجال ہے کوئی تردید کرے ان کی۔
یہ حکمران کہیں سے بھی نہیں لگتے ۔ یہ سب عیاش ٹولہ ہے ۔ انھیں عوام سے کوئی غرض نہیں ۔ انھیں صرف اپنی عیاشیاں عزیز ہیں ۔ عوام ان کے لئیے بھیڑ بکریوں سے زیادہ کچھ بھی نہیں ، وہ چاھے ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والے ہوں یا اللہ اکبر کا۔
غیرت و حمیت سے عاری سیاستدان جنھیں نہ ملک کی پرواہ نہ قوم کی ۔ پوری دنیا میں اپنا تماشہ بنایا ہوا ہے۔ آئے دن ہمارے سیاستدانوں کا کوئی نہ کوئی اسکینڈل میڈیا کا زینت بنتا ہے جسے پوری دنیا دیکھتی ہے، لیکن مجال ہے ان کے سر پر جوں تک رینگتی ہو۔
یہ ملک انھیں عزیز ہو یا نہ ہو، لیکن ہمیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ اگر خدا نہ کریں کبھی اس ملک پر برا وقت آیا تو ہم اگلی صف میں نظر آئیں گے، لیکن یہ ہمارے حکمران جنھیں بخار بھی آتا ہے تو باھر جا کر پیناڈول کھاتے ہیں۔ ان سے ملک بچانے کی امید سوائے خام خیالی کے کچھ بھی نہیں۔
ملک، قوم، معاشرے بننے سے بنتے ہیں۔ انھیں اک پلیٹ فارم پر جمع کرنا پڑتا ہے۔ ان میں یکسوئی پیدا کرنا پڑتی ہے۔ انھیں وطن کی مٹی سے محبت کرنا سکھایا جاتا ہے، قوم کو سکھایا جاتا ہیکہ کیسے اپنے خون سے وطن کو سینچا جاتا ہے۔ اسے یہ بھی بتایا اور پڑھایا جاتا ہے کہ ملک پر اگر کبھی دشمن میلی نگاہ ڈالے تو کیسے خود سے بڑھ کر اپنے وطن کا دفاع کیا جاتا ہے، لیکن افسوس اس قوم کو ان حکمرانوں نے بجائے اک کرنے کے الگ الگ ٹکڑیوں میں بانٹ دیا ہے۔ اور انھیں ملک سے وفاداری کا درس دینے کے بجائے اپنی پارٹی بچانے کا درس دیا جارہا ہے۔
قوم کو سبق پڑھایا جاتا ہیکہ جہالت ختم کریں شعور کو اجاگر کریں اور ملک کو روشن کریں ، لیکن اگر حالت حکمرانوں کی دیکھی جائے ، تو قوم کو خود سے زیادہ ان پر ترس آتا ہے۔
یہ ملک پاکستان ایسا تو نہ تھا اور نہ اس کے حکمران ایسے تھے۔ ہر طرف خوشحالی تھی ۔ ہریالی ہی ہریالی تھی۔ شہر کے بابو خوش تھے۔ گاؤں کے مکین چست تھے۔
کھانے پینے کی ریل پیل تھی۔ ہر طرف خوشیوں کے گیت تھے۔ لوگوں میں محبتیں تھیں۔ اتحاد اور اتفاق اک دوسرے کے ساتھ نتھی تھے۔ محبتوں کو عروج تھا ۔ نفرتوں کو زوال تھا۔
لیکن اب سب کچھ بدل گیا ہے۔ اب ہر طرف نفرتوں کے بیج ہیں۔ عوام کی جان ومال محفوظ نہیں۔ ڈاکوؤں نے شہروں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ سیاستدانوں نے عوام کو اپنا پالتو سمجھ رکھا ہے۔ پیٹ سیاستدان بھرتے ہیں۔ خالی پیٹ نعرے ان بھوکی عوام سے لگواتے ہیں۔
یہ وہ عوام ہے جو اپنے لیڈر کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی۔ لیکن نعرے ان کی گھٹی میں پڑے ہیں۔ ہر پارٹی کو اپنا لیڈر عزیز ہے، لیکن کسی بھی لیڈر کو اپنے کارکن کی پرواہ نہیں کہ اس کے گھر کے حالات کیا ہیں؟
بدلاؤ کہاں سے آئے گا؟ عوام سے۔ لیکن عوام کو اپنی قسمت بدلنے کا خیال ہی نہیں ۔ وہ آوارہ پنچھی کی طرح کبھی اک نگر کبھی اک ڈگر۔ نہ جانے وہ اپنے لیڈروں سے کونسی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ مہنگائی کا رونا بھی یہ عوام ہی روتی ہے۔ سیاستدانوں کو گالیاں بھی یہی عوام دیتی ہے، لیکن ووٹ بھی یہی عوام ان سیاستدانوں کو دیتی ہے۔
انقلاب کیسے آئے گا سمجھ سے بالاتر ہے۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

عبدالرؤف خٹک
میٹرک پاس ۔اصل کام لوگوں کی خدمت کرنا اور خدمت پر یقین رکھنا اصل مقصد ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply