رونالڈو کی “لونڈی”(2)-محمد مشتاق

سعودی اولوا الامر اور ہمارے “اولوا التمر”

Advertisements
julia rana solicitors

ان تمہیدی نکات کے بعد اب صلبِ موضوع پر چند نکات ملاحظہ کیجیے:
1۔ معاصر بین الاقوامی نظام کے متعلق یہ مفروضہ کہ اس نے غلامی کا خاتمہ کردیا ہے، محض پروپیگنڈا ہے اور بس۔ غلامی کی دونوں قسمیں (غلام بطور مال اور غلام بطور شخص و مال) معاصر دنیا میں نہ صرف رائج ہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کی رو سے انھیں تسلیم بھی کیا گیا ہے ۔ چند مثالیں ملاحظہ کیجیے۔ نوے کی دہائی میں سعودی عرب نے اپنے ایک شہری کو (اس شہری کا نام خوفِ فسادِ خلق کی وجہ سے نہیں لے رہا) حقوقِ شہریت سے محروم کردیا۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا۔ نہ ہی تنہا سعودی عرب نے یہ کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ بہت سے ممالک نے بارہا بہت سارے لوگوں کو حقوقِ شہریت سے محروم کیا ہوا ہے۔ دور کیوں جائیں؟ روہنگیا اور بہار میں ہی دیکھ لیجیے۔ سوال یہ ہے کہ حقوقِ شہریت سے محرومی کا قانونی مطلب کیا ہےبالخصوص جب آپ دوسری ریاستوں کو بھی مجبور کریں کہ وہ اس شخص کو شہریت تو کیا “سیاسی پناہ “بھی نہ دے ؟ حقوقِ شہریت سے محروم شخص ، جو کسی بھی ریاست کا شہری نہ ہو، جسے بین الاقوامی قانون کی زبان میں stateless person کہا جاتا ہے ، کے قانونی حقوق کیا ہوتے ہیں؟ پھر یہ بھی یاد کیجیے کہ بین الاقوامی قانون کی رو سے انسانی حقوق کےلیے مطالبہ ریاست سے کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ایسا شخص کسی ریاست کا شہری ہی نہیں ہے تو اس کے حقوق کا مطالبہ کن سے کیا جائے؟ ہاں، اس سوال پر بھی ضرور غور کیجیے کہ اس کی حیثیت قانونی طور پر اس غلام سے کیسے مختلف ہے جس کےلیے قانونی شخصیت تسلیم کی گئی ؟دوسری مثال گوانتانامو کے قیدیوں کی ہے۔ بین الاقوامی قانون کی رو سے مانا جاتا تھا کہ جنگ میں آپ کے مخالف فریق یا تو مقاتل ہیں اور یا غیر مقاتل اور پھر دونوں قسموں کےلیے قانونی حقوق و فرائض متعین تھے۔ امریکا نے کہا کہ یہ لوگ نہ مقاتل ہیں، نہ ہی غیر مقاتل اور اس وجہ سے بین الاقوامی قانون میں موجود دونوں قسموں کے قانونی نحقوق سے محروم ہیں۔ مزید انھوں نے ان کو امریکا سے باہر گوانتانامو کے جزیرے میں رکھا کہ امریکی قانون کی پہنچ سے بھی دور رہیں۔ سوال یہ ہے کہ گوانتانامو میں موجود قیدیوں کو کس بنیاد پر غلاموں سے مختلف گروہ مانا جائے؟ اور ہاں۔ گوانتانامو تو محض ایک مثال ہے۔ برطانیہ کی بل مارش جیل ہو، عراق کی ابوغریب جیل ہو، افغانستان کی بگرام جیل ہو یا پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود انٹرنمنٹ کیمپس ہوں، اس نوعیت کی غلاموں کی فیکٹریاں تقریباً ہر ریاست نے بنا رکھی ہیں۔ مقدار اور معیار کا فرق ضرور ہوگا لیکن نوع ایک ہی ہے۔ پھر “مسنگ پرسنز” کو غلام نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟ ان کی تو قانونی شخصیت ہی کا انکار کیا جاتا ہے۔ ہمیں کیا پتہ وہ کہاں ہیں؟ جہاد کےلیے گئے ہوں گے۔ گوادر میں دریافت ہوئے۔ بوریوں میں لاش مل گئی،شکر کریں۔ پھر کارپوریٹ غلامی (corporate slavery)کی کیا بات کی جائے؟ اور اس سب سے آگے بڑھ کر ریاست کی غلامی تو اس وقت بھی بین الاقوامی قانون کا رکنِ رکین ہے۔اپنے دستوری نظام میں ہی دیکھیے۔ پاکستان میں جو کچھ ہے اور جو کوئی بھی ہے، وہ پاکستان کی ملکیت ہےاور پاکستان کے ساتھ غیرمشروط وفاداری اس کا ناقابل تنسیخ فریضہ ہے۔ آپ فلم کو بے شک عنوان دیں “مالک” اور شوق سے کہیں کہ میں اس ملک کا مالک ہوں لیکن قانونی طور پر ملک مالک ہے اور میں اور آپ مملوک۔ چند دن قبل عرض کیا تھا کہ پاکستان میرا نہیں ہے، میں پاکستان کا ہوں ۔ یقین نہ ہو تو جبری خدمت کا قانون ہی دیکھ لیجیے ۔ ریاست کیسے ہم سب کو زبردستی کام کرنے پر مجبور کرسکتی ہے۔ ینگ ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی اسی قانون کے تحت تو ہوتی ہے۔ ریاست کے غلام ہو تم، انکار کیسے کرسکتے ہو؟ جبری تعلیم بھی دیکھیے۔ آپ چاہیں یا نہ چاہیں، آپ کے بچے کو تعلیم دیں گے اور اسے وہ کچھ پڑھائیں گے جو ہم چاہیں گے۔ جبری ویکسینیشن کو ہی دیکھیے۔ آپ لاکھ چیخیں چلائیں، آپ کے بچے کو ہر بار پولیو کے قطرے پلائیں گے۔ وغیرہ ۔ اب کہیے کہ اس جبر میں اور غلامی میں فرق ہوتا ہے۔ میں مان لوں گا لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ اس غلامی اور اس غلامی میں بھی فرق ہوتا ہےاور غلامی کی بہت سی قسموں کو لمحۂ موجود میں بھی بین الاقوامی قانونی نظام نے تسلیم کیا ہوا ہے۔ اس لیے یہ سوال ہی غلط ہے کہ کل کو اگر مسلمان عالمی سیاسی غلبہ حاصل کرلیں گے تو وہ غلامی کو کیسے رائج کرسکیں گے؟ بے فکر رہیں۔ انسانوں نے غلامی کو ہمیشہ تسلیم کیا ہے اور آئندہ بھی تسلیم کرتے رہیں گے۔ ہاں، مغربی سیاسی نظام کی منافقت یہ ہے کہ “غلامی” کے عنوان پر پابندی لگادی ہے خواہ غلامی کی کئی نئی بدترین شکلیں انسانی تاریخ میں پہلی دفعہ اسی نظام نے رائج کی ہوں۔
2۔ یہ سوال بھی معاصر بین الاقوامی قانون کی اساس سے بے خبری (یا تجاہل) کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان ریاست اس وقت ان معاہدات میں شامل نہ ہو جو غلامی پر پابندی عائد کرتے ہیں تو کیا غلام بنانا شرعاً اس کےلیے جائز ہوگا؟ بھائی، معاصر بین الاقوامی قانونی نظام کے تحت آپ “ریاست” یا “نظم اجتماعی” کی صورت تبھی اختیار کرسکتے ہیں جب پہلے ان معاہدات کو تسلیم کرلیں ؛ ورنہ بصورتِ دیگر آپ کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو کلاسیکی رومی قانون کی رو سے غلاموں کے ساتھ کیا جاتا تھا! تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ سو سال قبل اوپن ہائم نے ، جس کی کتاب کو بین الاقوامی قانون پر کلاسیکس میں شمار کیا جاتا ہے، صراحتاً کہہ دیا تھا کہ یہ بین الاقوامی قانونی نظام یورپی مسیحی اقوام کا تشکیل کردہ ہے؛ اس میں غیر یورپی اور غیر مسیحی اقوام تین شرائط پر شامل ہوسکتی ہیں: ایک یہ کہ وہ تہذیب کی ایک خاص سطح تک پہنچی ہوئی ہوں ؛ دوسری یہ کہ وہ اس نظام کی شرائط اور قیود قبول کرلیں؛ اور تیسری یہ کہ اس نظام میں پہلے سے شامل (یورپی مسیحی ) اقوام انھیں اس نظام میں شامل کرنے پر آمادہ بھی ہوں۔ ان شرائط کے اثرات دیکھنے ہوں تو اوپن ہائم کی یہ بات بھی نوٹ کیجیے کہ امریکا تو یورپی مسیحی اقوام کی ہی extension ہے؛ اور ایتھوپیا اگرچہ مسیحی ہے لیکن ابھی وہ تہذیب کے اس خاص مقام تک نہیں پہنچا کہ اسے اس نظام میں شامل کیا جائے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اس نظام کو اقوام متحدہ کی تنظیم کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے اور اب بھی اقوام متحدہ کی تنظیم کے چارٹر میں دیکھ لیجیے کہ کون سی شرائط پوری ہوں تو اس کے بعد ہی آپ کو اس نظام میں شامل سمجھا جاسکتا ہے؟ چین ہی کی مثال لے لیجیے۔ 1949ء میں کمیونسٹ چین نے قوم پرست چین کو شکست دے دی تھی لیکن 1970ء تک کمیونسٹ چین کو اقوام متحدہ کا رکن ہی بننے نہیں دیا گیا۔ ہاں ، جب ساٹھ کی دہائی میں اس نے ایٹمی دھماکا کیا اور دوسری طرف کمیونسٹ بلاک میں روس کی اجارہ داری کے سامنے لیڈرشپ کے ایک نئے امیدوار کے طور پر بھی سامنے آگیا ، تو امریکا نے پاکستان کے ذریعے چین کے ساتھ فاصلے کم کیے اور پھر اسے اقوام متحدہ کا رکن بننے دیا۔ اسی طرح جب کبھی کوئی مسلمان ریاست اتنی طاقت حاصل کرلے گا کہ اسے تسلیم کرنا مجبوری بن جائے تو اسے غلامی کی ان تمام شکلوں سمیت قبول کرلیا جائے گا جو اس مسلمان ملک میں رائج ہوں ، جیسے چین میں رائج غلامی کی لاتعداد شکلوں کو قبول کرلیا گیا ہے۔ تب تک کیا ہوگا؟ تب تک یہ ہوگا کہ اوپن ہائم کی ذکر کردہ شرائط پر آپ کو ناپا اور تولا جائے گا۔ آج کل پہلی شرط (تہذیب کی ایک خاص سطح) کےلیے معیار نام نہاد حقوقِ انسانی کے معاہدات ہیں۔ ان معاہدات کو مانے بغیر آپ سسٹم کا حصہ نہیں بن سکتے بلکہ آپ کو اسی طرح کچلا جائے گا جیسے افغانستان میں طالبان یا عراق و شام میں داعش کو کچلا جارہا ہے اور اس ضمن میں حقوق ، آزادی، غلامی کے سارے تصورات غیرمتعلق ہوجاتے ہیں۔ اس لیے یہ مفروضہ ہی غلط ہے کہ کوئی ریاست اس نظام سے الگ رہ کر اپنے تصورات رائج کرے گی (اپنا نظام غلامی رائج کرے گی ) تو کیسے کرے گی؟
(جاری ہے)

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply