سماج (28) ۔ آزادی/وہارا امباکر

جب ہم مستقبل کی جانب دیکھتے ہیں تو ایک آئیڈیا پر بحث دلچسپ رخ اختیار کر لیتی ہے۔ یہ آزادی کا آئیڈیا ہے۔ اور ہر جگہ پر اس لفظ کا احترام کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ سادہ شے نہیں۔
ہر قوم اپنی تاریخ کے اس وقت پر فخر کرتی ہے جب وہ آزاد ہوئی تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کے معنی کیا ہیں؟
ہم سب جانتے ہیں کہ ہم جہاں پر بھی ہوں، ایسا بالکل بھی نہیں ہے کہ ہم جو چاہیں کر لیں۔ سماج ہم پر طرح طرح کی قدغن عائد کرتا ہے۔ ہمارے لئے ذمہ داریاں طے کرتا ہے۔ جب تک ہم ان بندشوں کے اندر اندر ہیں، تب تک آزاد ہیں۔ مطلق آزاد ہونا بے معنی بات ہے۔
آزادی ایک پرکشش سیاسی نعرہ ہے لیکن nuanced اور مبہم تصور ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عام طور پر سماج کے ارکان اپنی بندشوں کو بخوشی قبول کرتے ہیں۔ اپنی سوسائٹی کے ٹھیک ہونے پر یقین رکھتے ہیں اور ان حدود کی پاسداری میں سکون محسوس کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں انہیں سماج اچھی deal دیتے ہیں۔ دوستی، رفاقت، ہم خیال لوگ، حفاظت اور سماجی سپورٹ جو اس رکنیت کے ساتھ آتی ہے۔ اور پھر وسائل تک رسائی، ملازمت کے مواقع، شادی کے لئے موزوں افراد، آرٹ، کھیل اور بہت کچھ۔۔۔
جہاں پر لوگ آزادی کی اور ان مواقع کی قدر کرتے ہیں۔ وہاں پر سماج کی طرف سے عائد کردہ پابندیاں بھی اتنی ہی اہم ہیں۔ ان کے بغیر آزادی افراتفری اور chaos بن جائے گی۔
آزادی دراصل بہت محدود ہے۔ اور صرف باہر والے لوگ ہی یہ اشارہ کرتے ہیں کہ آپ کس طرح کی زنجیروں میں قید ہیں اور آپ کا کلچر کس قدر دم گھونٹ دینے والا ہے۔
انفرادیت پر مبنی کلچر (جیسا کہ امریکہ) اور اجتماعیت پر مبنی کلچر (جیسا کہ چین یا انڈیا) اپنے ممبران کو الگ طرز کے مواقع اور خوشیاں دیتے ہیں۔ اگر کچھ شہری معاشرے کی لگائی گئی پابندیوں سے باہر ایسا رویہ رکھیں جو دوسروں کے لئے تکلیف دہ ہو تو یہ اتحاد کمزور پڑ جاتا ہے۔
خواہ یہ جھنڈے کو جلانا ہو، شادی کا غیرروایتی بندھن ہو یا لباس کا کوئی طریقہ۔۔
کئی معاشرے آج ایسے مسائل سے دوچار ہیں۔ ایک ذیلی گروہ کی اپنی مرضی کی کوشش دوسرے کے لئے ناگواری پیدا کر سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے علاوہ نسلی تنوع آزادی اور اتحاد کو درپیش ایک اور طرز کا چیلنج پیش کرتا ہے۔ اپنی نسل اور قومیت کے لوگوں سے بڑھ کر دوسروں سے اتحاد اور اپنائیت بنا لینے کے لئے مشترک نظریات اور ورلڈ ویو کا بندھن درکار ہوتا ہے۔ بدلتی دنیا کے ساتھ اس میں ہونے والی ترمیم لازم ہے اور اس میں دانشمندی نہ دکھانا معاشرے میں دراڑیں اور شگاف ڈال دیتا ہے۔
اقلیتی گروہوں کو غالب گروہوں کی توقع کے مطابق اپنے اطوار میں ردوبدل کرنا پڑ سکتا ہے۔ شہری نہ صرف خود کو سوسائٹی کے فرد کے طور پر شناخت کرتے ہیں بلکہ اس ذیلی وابستگی سے بھی۔ مثال کے طور پر، ایک “ہسپانوی امریکی” شہری اپنی نظر میں بھی اور دوسروں کے لئے بھی “ہسپانوی” شناخت رکھتا ہے۔
جبکہ اکثریتی گروہ عام طور پر اپنی نسل یا ذیلی شناخت کے بارے میں کم پرواہ کرتے ہیں۔ ان کے لئے بڑی شناخت کی ضرورت ہی کافی رہتی ہے۔
(جاری ہے)

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply