انجیر/ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

نباتاتی نام: (Botanical name)
انجیر کا نباتاتی نام فکس کریکا (Ficus Carica) ہے۔

تاریخی پس منظر: (Historical Background)
انجیر کی کاشت قدیم زمانے سے جاری ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کی ابتدا روم اور مغربی ایشیا سے ہے۔یہ چھوٹے درخت کی ایک قسم ہے جو دیکھنے میں جھاڑی نما دکھائی دیتا ہے۔ان پودوں کی لمبائی 7 سے 10 میٹر یا 23 سے 33 فٹ لمبی ہوتی ہے۔ درخت کی چھال سفید ہوتی ہے۔اس کی 800 سے زائد اقسام ہیں۔تاہم دنیا بھر میں کاشت تقریبا بیس اقسام کی ہوتی ہے۔اس کا پھل لمبا جلد کے ساتھ جامنی یا بھورے رنگ میں پک جاتا ہے۔پھل اندر سے میٹھا اور نرم جبکہ گودا سرخی مائل ہوتا ہے۔یہ سال میں دو مرتبہ پھل دیتا ہے۔انجیر ایک منفرد اورذائقہ دار پھل ہے۔اس کا سائز ہاتھ کے انگوٹھے کے برابر ہوتا ہے۔
اس میں سینکڑوں بیچ پائے جاتے ہیں۔اندرونی حصہ زیادہ تر گلابی جبکہ بیرونی حصہ سبز یا بھورے رنگ پر مشتمل ہوتا ہے۔
شمالی نصف کرہ میں تازہ انجیر موسم گرما کے آخر سے خزاں کے شروع تک ملتا ہے۔انجیر اعتدال پسند ٹھنڈ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ گرم آب وہوا میں بھی نشوونما پاتے ہیں۔انجیر کو تازہ اور خشک کھایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ جام ،رول، بسکٹ اور دیگر اقسام کے میٹھوں میں پراسیس کیا جاتا ہے۔یہ پھل زیادہ تر تجارت خشک پیداوار اور پراسیس شدہ شکلوں میں ملتا ہے۔
کچے انجیر میں 80 فیصد جبکہ پکے انجیر میں 20 فیصد کاربوہائیڈریٹ ہوتے ہیں۔خشک انجیر میں شوگر اور کیلوریز زیادہ ہوتی ہیں۔اس لیے انہیں اعتدال میں کھانا چاہیے۔انجیر کے پتے اور پھل سبھی کارآمد ہیں۔

اقسام : ( Types)
انجیل کی تقریبا 800 اقسام ہیں تاہم قابل کاشت تقریبا 20 اقسام ہیں۔ ذیل میں چند کی تفصیل پیش خدمت ہے۔

1۔ ایڈریاٹک انجیر: ( Adriatic Figs)
اس قسم کی انجیر کی جلد ہلکی سبز ہوتی ہے۔اس کا گودا اندر سے ہلکا گلابی ہوتا ہے۔پھل کی جلد پتلی گودا سرخ اور ذائقہ میٹھا ہوتا ہے۔
2۔ سیلسٹی انجیر : ( Celeste Figs)
یہ قسم اپنے غیر معمولی میٹھے ذائقے کی وجہ سے مشہور ہے۔عموما اسے میٹھا انجیر کہا جاتا ہے۔یہ کم درجہ حرارت میں بھی نشوونما پا لیتا ہے۔یہ زیادہ سے زیادہ 15 ڈگری فارن ہائیٹ میں اچھی طرح پک سکتا ہے۔اس کا پھل درمیانے سائز کا ہوتا ہے۔اسے چبا کر کھایا جاتا ہے۔اس کے بیج بھی کرچی ہوتے ہیں۔
3۔ بلیک مشن انجیر : ( Black mission Figs)
یہ انجیر کی سب سے عام قسم ہے۔اس پھل کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ گرمی اور سردی دونوں موسم میں پھل دیتا ہے۔
کیلیفورنیا میں یہ وسیع پیمانے پر درخت لگائے جاتے ہیں۔یہ تقریبا 30 فٹ لمبے ہوتے ہیں۔یہ قسم درمیانے سے بڑے سائز کے انجیر پیدا کرتے ہیں۔ان کے گودے کا رنگ اسٹرابری جام سے ملتا جلتا ہے۔اس کا ذائقہ ہلکا ہوتا ہے۔
4۔ براؤن ترکی انجیر: ( Brown Turkey Figs)
براؤن ترکی انجیر 10 سے 20 فٹ لمبے درخت ہو تے ہیں۔
یہ 10 فارن ہائیٹ تک درجہ حرارت برداشت کر لیتے ہیں۔
اس پودے کا سائز درمیانہ ہوتا ہے۔جلد بھوری سے جا منی ہوتی ہے۔گودا ہلکا گلابی جبکہ ذائقہ دوسرے انجیر کی نسبت ہلکا ہوتا ہے۔اسے سلاد اور کوکیز کےلئے بہترین سمجھا جاتا ہے۔
5۔ ڈیزرٹ کنگ عرف کنگ انجیر :
( Desert king aka king Figs)
یہ قسم بحرلکاہل کے شمال مغربی علاقے میں پائی جاتی ہے۔اسے پھلنے اور پھولنے کے لئے سرد درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ قسم وافرمقدارمیں پھل پیدا کرتی ہے۔جلد سبز گودا سُرخی مائل گلابی جبکہ ذائقہ غیر معمولی طور پر میٹھا ہوتا ہے۔
6۔ کڈوتا انجیر: ( Kadota Figs)
یہ قسم اٹلی میں پائی جاتی ہے۔اس کے درخت 15 سے 25 فٹ تک بڑھ سکتے ہیں۔یہ درمیانے سائز کا پھل دیتے ہیں۔پھل پرزرد سبز سایہ ہوتا ہے۔گدھے کا رنگ گلابی ہوتا ہے۔
یہ پھل عموما خزاں کے موسم میں پک جاتا ہے۔
7۔ وایلٹ ڈی بورڑو انجیر :
( Violette de Bordeaux Figs)
انجیر کی یہ ایک ایسی قسم ہے جسے پھلنے پھولنے کے لیے 5 فارن ہائیٹ ڈگری درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ قسم نیم بونے انجیر کے نام سے بھی مشہور ہے۔یہ قسم دس بارہ فٹ کے درمیان لمبی ہوتی ہے۔پھل کی جلد جامنی سے سیاہ ، گوگل صرف اور ذائقہ بیر کی طرح ہوتا ہے۔عام طور پر اس قسم کو سب سے زیادہ میٹھی سمجھا جاتا ہے۔
8۔ شگاگو گو ہارڈی انجیر: ( Chica go Hardy Figs)
انجیر کی یہ قسم سرد سمجھی جاتی ہے۔حالانکہ درخت کی شاخیں انتہائی کم درجہ حرارت کی وجہ سے مر جاتی ہیں۔اس قسم کے پودے 10 سے 12 فٹ کے درمیان بڑھتے ہیں۔
درخت کو پھل درمیانے سائز کا لگتا ہے۔پھل کا گودا ہلکا گلابی ہوتا ہے جبکہ ذائقہ اسٹرابری کی طرح ہوتا ہے۔
9۔ ایکسل انجیر : ( Excel Figs)
ڈیزرٹ کنگ کی طرح ایکسل انجیر بھی مختلف آب و ہوا میں بڑھتا ہے۔ ایکسل انجیرعموما 12 سے 20 فٹ کے درمیان بڑھتے ہیں۔اس کا پھل درمیانے سائز کا ، جلد سبز جبکہ ذائقہ شہد کی طرح ہوتا ہے۔یہ پھل پکنے کے بعد پھٹتا نہیں اس لیے اس قسم کو بہترین سمجھا جاتا ہے۔
10۔ کارکیز ہنی ڈی لائٹ انجیر :
( Corky’s Honey delight Figs)
کار کیز ڈی لائٹ انجیر کے درخت کو نیم بونے درختوں کی قسم سمجھا جاتا ہے۔یہ 10 سے 12 فٹ کے درمیان بڑھتے ہیں۔ اس کا پھل درمیانے سائز کا ، جلد ہلکی پیلی ہو جاتی ہے۔اس میں عنبر رنگ کا گودا ہوتا ہے۔

مجموعی پیداوار : ( Gross production)
سوگرام انجیر میں یو ایس ڈی اے (USDA)کے مطابق اس کی غذائی مقدار مندرجہ ذیل ہے ۔
مجموعی پیداوار : (Gross Production)
اقوام متحدہ فو سٹیٹ (FAOSTAT)کے مطابق خام انجیر کی عالمی پیداوار 1.26 ملین ٹن ہے۔سرفہرست ممالک میں ترکی ،مصر ،مراکش، الجزائر ، ایران، اسپین، شام ،یو ایس اے، البانیا، یونان اور برازیل کے نام شامل ہیں۔
ملک کا نام / ملین ٹن
ترکی 320,000
مصر 201,212
مراکش 144,246
الجزائر 116,143
ایران 107,791
اسپین 59,900
شام 46,502
ریاستہائے متحدہ 27084
البانیا 21,889
یونان 19,840
برازیل 19,601
کل پیداوار 1,264,943

غذائی حقائق : (Nutitional Value)
کیلوریز 249
پانی 30 گرام
شکر 47.9 پروگرام
غذائی ریشہ 9.8 گرام
فیٹ 0.93 گرام
کاربوہائیڈریٹس 63.9 گرام
پروٹین 3.3 گرام

وٹامنز / مقدار/ یومیہ ضرورت

وٹامن اے کے مساوی 0 مائیکرو گرام 0%
تھایامین بی ون 0.085 ملی گرام 7%
رائبو فلیون بی ٹو 0.082 ملی گرام 7%
نیاسین بی تھری 0.62 ملی گرام 4%
پینٹوتھینک ایسڈ بی فائیو 0.43 ملی گرام 9%
وٹامن بی سکس 0.11 ملی گرام 8%
فولیٹ بی نائن 9 مائیکرو گرام 2%
وٹامن سی 1 ملی گرام 1%
وٹامن ای 0.35 ملی گرام 2%
وٹامن کے 15.6 مائیکرو گرام 15%

معدنیات / مقدار/ یومیہ ضرورت
کیلشیم 162 ملی گرام 16%
آئرن 2ملی گرام 15%
مگنیشیم 68 گرام 19%
میگنیز 0.51 ملی گرام 24%
فاسفورس 67 ملی گرام 10%
پوٹاشیم 680 ملی گرام 14%
سوڈیم 10 ملی گرام 1%
زنک 0.55 ملی گرام 6%
دفاعی مرکبات : (Phytochemical Compound)

Advertisements
julia rana solicitors

Phenolics
flavonoids
flavonols
Ascorbic acid
lignin
Xanthones
Stilbenes
طبی خصوصیات : (Clinical features)
طبی لحاظ سے انجیر کے مندرجہ ذیل فوائد ہیں۔جن کے استعمال سے انسان مختلف بیماریوں سے بچ سکتا ہے۔
آیئں چند طبی فوائد پر روشنی ڈالتے ہیں۔
1۔ نظام ہاضمہ میں بہتری:
( Improves the digestive system)
انجیر کو قدیم زمانہ سے ہاضمہ صحت کے علاج کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہےیا قبض جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے اس کا استعمال بہت مفید ہے۔اس میں فائبر ہوتا ہے جو قبض ختم کرکے پری بائیوٹک کے طور پر ہاضمہ کی صحت کو فروغ دیتا ہے۔آٹھ ہفتوں تک روزانہ 10 اونس یعنی تین سو گرام انجیر کے کھانے سے قبض میں نمایاں کمی واقع ہو جاتی ہے۔
2۔ ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کنٹرول کرنے کے لئے :
(To control high blood pressure and cholesterol)
انجیر ہائی بلڈ پریشر اور خون میں بڑھی ہوئی چربی کی سطح کم کردیتا ہے۔یہ دل کے امراض سے تحفظ دیتا ہے۔
تاہم یہ ہائی (ایل ڈی ایل) خراب کولیسٹرول کو ٹھیک کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔ایسے لوگوں کو روزانہ اپنی خوراک میں چودہ خشک انجیر روزانہ استعمال کرنا چاہیے۔
انجیر میں پیکٹین ہوتا ہے جو حل پذیر فائبر ہےجس سے کولیسٹرول کی بڑھتی ہوئی سطح کم ہو جاتی ہے۔
انجیر میں موجود فائبر اضافی کولیسٹرول کم کرتا ہے۔
انجیر میں وٹامن بی سکس 6 موجود ہوتا ہے جو سیروٹین پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔اس کے علاوہ انجیر میں اومیگا تھری اور اومیگا سکس فیٹی ایسڈ موجود ہوتے ہیں جو ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی بڑھی ہوئی مقدار کو کنٹرول کرتے ہیں۔انجیر چونکہ پوٹاشیم سے بھرپور پھل ہے جو سوڈیم کے اثر کو زائل کرتا ہے۔
3۔ خون کی کمی : (Deficiency of blood )
جسم میں آئرن کی کمی خون کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔خشک انجیر میں آئرن ہوتا ہے جو ہیمو گلوبن کا اہم جز ہے۔خشک انجیر خون میں ہیمو گلوبن کی سطح بڑھاتا ہے جس کے باعث بچے اور حاملہ خواتین مختلف پچیدگیوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ایسے لوگوں کو انجیر کا استعمال بکثرت کرنا چاہیے جن کی سرجری ہوئی ہو کیوں کہ سرجری کے بعد اکثر جسم میں آئرن کی کمی ہو جاتی ہے جسے پورا کرنے کے لئے انجیر بہترین پھل ہے۔
4۔ قوت معدافعت بڑھانے کے لئے:
(to boost immunity)
انجیر قوت معدافعت بڑھانے کے لیے ایک بہترین پھل ہے۔
اس کے باقاعدہ استعمال سے بکٹیریا، وائرس اور پیٹ کے کیڑے ختم ہو جاتے ہیں۔ انجیر میں پوٹاشیم اور مینگنیز جیسے غذائی اجزاء ہوتے ہیں جو اینٹی اوکسیڈنٹ ہونے کے ساتھ ساتھ قوت معدافعت بھی بڑھاتے ہیں۔
5۔ وزن کم کرنے کے لئے : (to lose weight)
انجیر فائبر سے بھرپور پھل ہے جو وزن کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق انجیر کھانے سے جنک اور تلی ہوئی چیزوں سے نفرت ہو جاتی ہے۔
6۔ دل کے امراض سے تحفظ :
(Protection against heart disease)
انجیر خون میں ٹرائی گلیسرائیڈ کی بڑھی ہوئی مقدار کو کنٹرول کرتا ہے۔ٹرائی گلیسرائیڈ دل کے امراض کو جنم دیتے ہیں کیونکہ یہ چربی کے وہ ذرات ہیں جو خون کی نالی میں ایک ساتھ جمع ہو جاتے ہیں اور دل کے دورے کا باعث بنتے ہیں۔
7۔ ٹائپ ون ذیابیطس کے لیے: (for type 1 diabetes)
انجیر میں موجود کلورو جینک ایسڈ شوگر کے مریضوں میں بلڈ شوگر کی سطح کم کرتا ہے۔اس کے علاوہ پوٹاشیم جو انجیر میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے خون میں شوگر کی سطح کو اعتدال میں رکھتا ہے۔1998ء میں 10 افراد پر ایک تحقیق کی گئی جس کے مطالعہ کے بعد یہ نتیجہ نکلا کہ انجیر کے پتوں کی چائے پینے سے انسولین کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔پتوں کی چائے سے تقریبا 12 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔شوگر کے مریضوں کو خشک انجیر استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ خون میں شکر کی مقدار بڑھا دیتے ہیں۔
8۔ انسداد کینسر خصوصیات :
(Anti-cancer properties)
انجیر کے پودوں اور پتوں میں قدرتی طور پر ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں جن کے باعث کینسر کا خطرہ بہت حد تک کم ہوجاتا ہے۔چونکہ انجیر اینٹی اوکسیڈنٹ پھل ہے جو فری ریڈیکل کے اثرات اور دائمی سوزش کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔انجیر بڑی آنت کے کینسر، چھاتی کے کینسر ، جگر کے کینسر اور سروائیکل کینسر میں بہت مفید پھل ہے۔
9۔ ہڈیوں کی مضبوطی : ( Bone Strength)
انجیر میں کیلشیم، میگنیشیم اور پوٹاشیم پایا جاتا ہے۔
یہ سب ہڈیوں کی صحت اور نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انجیر ہڈیوں کی کثافت کو بہتر بناتے ہیں۔ان کے استعمال سے ہڈیوں کے ٹوٹنے کا خطرہ ٹل جاتا ہے۔کیلشیم صحت مند ہڈیوں کے لیے بہت ضروری ہے۔انجیر میں پوٹاشیم کی موجودگی زیادہ نمک والی خوراک کی وجہ سے پیشاب میں کیلشیم کے بڑھتے اخراج کو روکنے کی استدعا رکھتا ہے۔
10۔ میل/ فی میل آرگن : (Male and Female Organs)
انجیر میل اور فی میل عوارض میں ایک بہترین پھل ہے۔
یہ معدنیات ، جنسی ہارمون ، اینڈروجن اور ایسٹروجن ہارمون کی افزائش کے لیے مؤثر ہیں۔انجیر مختلف قسم کی جنسی کمزوری جیسے بانھ پن ، اور تولیدی نظام کی زرخیزی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔انجیر میں امینو ایسڈ پایا جاتا ہے جو نائٹرک ایسڈ کی پیداوار بڑھاتا ہے جس کے باعث خون کی نالیاں پھیلتی ہیں۔
11۔ میکولر ڈی جنریشن کی روک تھام:
(Prevention of macular degeneration)
انجیر میکولر ڈی جنریشن کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جو بوڑھے لوگوں میں بینائی کی کمی کی بڑی ایک وجہ ہے۔انجیر بینائی کو بڑھاتا ہے۔ میکولر انحطاط کو روکتا ہے۔کیونکہ ان میں وٹامنز اے کی اچھی خاصی مقدار پائی جاتی ہے۔وٹامن اے آنکھوں کو آزاد ریڈیکل سے بچاتا اور رٹینیا کو پہنچنے والے نقصان سے بچاتا ہے۔
12۔ پرسکون نیند لانے کے لئے:
( to induce restful sleep)
اچھی نیند کے لیے متوازن خوراک ضروری ہے۔انجیر کی یومیہ خوراک نیند کے معیار کو بہتر بناتی ہے۔اس میں امینو ایسڈ اور ٹرپٹوفن ہوتا ہے جو میلا ٹونین بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔انجیر میں اومیگا تھری اور فیٹی ایسڈ بھی ہوتے ہیں جو بہتر نیند لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔جب کہ جسم میں مگنیشیم کی کمی ذہنی تناؤ اور چڑچڑے پن کا باعث بن سکتی ہے۔
احتیاطی تدابیر : ( Precaution)
انجیر اپنے طبی فوائد میں ثانی درجہ رکھتا ہے۔تاہم کچھ لوگوں کے لیے یہ نقصان دہ بھی ثابت ہوتا ہے۔مندرجہ ذیل لوگوں کو اسے کھاتے وقت احتیاطی تدابیر کرنی چاہیے۔
* ایسے لوگ جن کی جلد حساس یا ان کو الرجی کی شکایت ہو وہ اسے کھانے یا جلد پر لگانے سے پرہیز کریں۔
* سرجری کے دوران اس کا استعمال ترک کر دینا چاہیے۔
* حمل اور دودھ پلانے کے دوران معالج کے مشورے سے انجیر کا استعمال کرنا چاہیے۔
* کچے انجیر نہ کھائیں کیونکہ وہ لیٹیکس تیار کرتے ہیں جومنھ اور ہونٹوں کے گرد الرجی کا باعث بن سکتے ہیں۔
* انجیر شوگر کی ادویات کے ساتھ تعامل کرتا ہے۔لہذا شوگر کے مریضوں کو ادویات کے ساتھ اس کا استعمال ترک کر دینا چاہیے۔ بعض اوقات یہ شوگر بہت کم کر دیتے ہیں۔
حوالہ جات : (References)
https//www.en.mwikipedia.com
https//www.britannica.com
https//www.webmd.com
https//www.fig.net
https//sciencedirect.com
https//www.healthline.com
https//www.medicalnewstoday.com

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply