برفباری/حسان عالمگیر عباسی

برفباری کو انجوائے کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔ مشہور و معروف طریقہ برف سے بنے گولے ایک دوسرے پہ پھینکنا ہے۔ کچھ کو آسمان سے آتی سفید مکھیوں میں دلچسپی ہے۔ مری میں رہنے والے اس سے بالکل مختلف انداز میں لطف و کرم سمیٹتے ہیں۔ پچھلے زمانوں میں صبح آنکھ کھلتے ہی زمیں کی سفیدی شادمانی کا سبب ہوتی تھی۔ اب بھی ایسا ہی ہوتا ہے لیکن پہلے کی بات الگ ہے۔ شکر کے پکوان اور بیسن، آلو اور پیاز کے پکوڑے گھروں میں اس موسم کی مناسبت سے تلے جاتے ہیں۔ تیز پتی والی کم میٹھی چائے بھی کاڑی جاتی ہے۔

سیاح حضرات اور برف بین دوستوں کے لیے یہ ایک عجیب لطف ہے۔ وہ گھروں سے اپنے اپنے فونز سو فیصد چارج کر کے حاضر ہوتے ہیں اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہیں۔ اپنے چاہنے والوں کو بتاتے ہیں کہ وہ دنیا کے کسی مختلف کونے پہ موجود ہیں۔ وہ خرید و فروخت کرتے ہیں۔ چادریں خریدتے ہیں۔ رہائش ڈھونڈتے ہیں۔ کھانے پکاتے ہیں۔ باربی کیو کرتے ہیں۔ وی لاگز بھی بناتے ہیں تاکہ باقیوں کو بھی للچایا جا سکے!

جب برف مٹیالی زمین کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے اور سفیدی پہ سفیدی کی سفید تہیں چڑھ جاتی ہیں تو خبر بنتی ہے کہ مری میں دس فٹ برف نے مناظر بدل ڈالے۔ اب چار سے پانچ فٹ برف بھی ایک بڑی خبر ہے۔ جب برف گر جاتی ہے اور آسمان پہ تارے جگمگانے لگتے ہیں اور مغرب کی آذان ہو جاتی ہے اور کہیں کہیں گیدڑوں کی آوازیں بھی سنائی دینے لگتی ہیں تو ایک عجیب ہی منظر پیدا ہوتا ہے۔

مجھے یہ شام کا منظر بھوتوں کا آشیانہ معلوم ہوتا ہے۔ شام اندھیرا ہوتے ہی مال روڈ مری شہر سے کہیں باہر جاکر کے اوسیاہ کے کھیتوں میں یہ ایک مختلف منظر ہوتا ہے۔ تنہائی، شور و غل سے آزاد مختلف ڈراؤنی قدرتی آوازوں کے مجموعے کو برف کی سہانی شام کہتے ہیں۔ عموماً یہاں بھینسیں پالنے کا رواج پہلے کی نسبت کم ہو گیا ہے۔ پہلے زیادہ ہوا کرتا تھا۔ اب دودھ فروخت ہوتا ہے۔ شام میں عشائیے سے پہلے دودھ لانا پڑ جائے اور زمین پہ برف باری ٹھنڈ کی شدت کی وجہ سے جمی پڑی ہو یا کورا بن جائے تو اس پہ چلنا بھی ایک زبردست مہارت کہلاتی ہے۔

مندرجہ بالا صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے لمبے لمبے بازوؤں والے پلاسٹک کے جوتے پہنے جاتے ہیں تاکہ جوتوں کی جلد سے پرے تین چار انواع و اقسام کی جرابیں پانی پانی نہ ہو پائیں۔ میں تو کوشش کرتا ہوں کتے کو بھی ساتھ اپنے دائیں بائیں ساتھ لے کر چلوں۔ اس کی آنکھوں میں رات کے اندھیرے میں ایک روشنی ہوتی ہے جو ایک اچھا پیغام ہوتی ہے۔ برفباری پہ چلتے رہنے کا بھی ایک اپنا مزہ ہے۔ کھرچ خرچ کی آوازیں معمولی آوازیں نہیں ہوتیں۔ ان میں بھی ایک زبردست اور انوکھا پیغام ہے۔ اپنی جڑوں سے محبت استوار رکھنے کا پیغام!

Advertisements
julia rana solicitors

میرے سامنے بے شمار مناظر ہیں۔ ایک منظر قبرستان سے گزرتے ہوئے ہے۔ ایک بڑے بڑے نالوں سے آتے پانیوں کا منظر ہے۔ ایک اگلی صبح ٹہنیوں پہ موجود جمی کلفیوں کا بھی ہے۔ ایک ماضی سے متعلق ہے جب برف کو دودھ میں ملا کر چینی ڈال دی جاتی تھی اور جام شیریں چھڑک کر اسے کھا لیا جاتا تھا۔ دعا ہے کہ مری کی یہ مختلف صورتیں یونہی نکھر کر سامنے آتی رہیں!

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply