سماج (26) ۔ دیوانے کا خواب/وہاراامباکر

کیا سماج کے بغیر رہا جا سکتا ہے؟ کیا سب کو ضم کر کے ایک عالمی سماج قائم ہو سکتا ہے؟ یا کم از کم ان کی حیثیت ثانوی ہو سکتی ہے؟

Advertisements
julia rana solicitors london

کسی utopian دنیا کا خواب دیکھنے والے کئی لوگ اس کا جواب “ہاں” میں دیتے ہیں لیکن دنیا کی تاریخ کچھ اور بتاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بحرِ اوقیانوس میں فوٹونا کا جزیرہ ہے۔ یہ چھیالیس مربع کلومیٹر پر پھیلا ہے۔ اتنی کم جگہ پر دو قبیلے سما سکتے تھے۔ سیگاوے اور آلو۔ یہ دونوں جزیرے میں الگ علاقوں پر بستے تھے اور ایک دوسرے کے حریف تھے۔ جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں۔ کبھی پورے جزیرے پر تہوار منائے جاتے تھے تو یہ اس میں اکٹھے ہو جاتے تھے۔
اتنی کم جگہ پر اور اتنے زیادہ وقت میں ہم توقع رکھ سکتے ہیں کہ ایک قبیلے نے دوسرے کو فتح کر لیا ہو گا۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔
لیکن یہاں پر سوال یہ ہے کہ کیا سیگاوے کے بغیر آلو قائم رہ سکتے تھے اور آلو کے بغیر سیگاوے؟ کیا کوئی تنہا معاشرہ بھی ہو سکتا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوسائٹی کی تُک اس وقت بنتی ہے اگر ان کی تعداد ایک سے زیادہ ہو۔ اگر “دوسرے” نہیں ہوں گے تو “ہم” کا کیا مطلب ہو گا؟
جہاں پر چھوٹے جزیروں میں بھی لوگ پہنچے، وہاں بھی الگ سوسائٹی بن گئیں۔ فوٹونا میں دو، اور ایسٹر آئی لینڈ میں سترہ۔ ایسٹر آئی لینڈ میں ان کا آپس کا مقابلہ بلند سے بلند تر مجسمے بنانے کا تھا۔ آسٹریلیا میں جب یورپی پہنچے تو یہاں پر سینکڑوں ایب اوریجنل معاشرے قائم تھے۔ ان کے اجداد ایک ہی تھے جو ایشیا سے آسٹریلیا پہنچے تھے۔۔۔
ایک ممکنہ تنہا سوسائٹی ہینڈرسن جزیرہ ہو سکتی ہے۔ یہاں پر جگہ اور وسائل بہت کم تھے اور یہ محض چند درجن نفوس کو ہی سپورٹ کر سکتا تھا۔ ان کے پاس کشتی بنانے کو لکڑی نہیں تھی اور یہ اپنے تجارتی پارٹنر سے کٹ گئے۔ قریب ترین جزیرہ پٹ کئیرن تھا جو نوے کلومیٹر دور تھا۔ جب ہسپانوی مہم جوؤں نے یہ جزیرہ 1606 میں دریافت کیا تو یہاں پر کوئی زندہ نہیں بچا تھا۔
ہم نہیں جانتے کہ یہ خود اپنے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے۔ کیا یہ ایک قبیلہ جنہوں نے اپنے لئے کوئی نام رکھا ہو گا؟ کیا ماضی کی دھندلی یاد پر بنی کہانیاں باقی رہی ہوں گی جو بتاتی ہوں کہ “باہر” دوسرے بھی ہیں؟ اور یہ داستانیں انہیں اپنی شناخت دیتی ہوں؟
غالباً، “دوسروں” کے بغیر “اپنوں کے بھی کوئی معنی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کوئی وقت آئے گا جب سرحدیں ختم ہو جائیں گی اور انسانیت کا ایک عالمی معاشرہ بن جائے گا”۔ ایسے خواب دیکھے جاتے رہے ہیں لیکن ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔
کئی لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ عالمی کلچر میں یکسانیت آ رہی ہے۔ (مک ڈونلڈز، ٹویوٹا، سٹار وارز کی مثال دیکھی جا سکتی ہے جو کہ دنیا میں ہر جگہ پر ہیں)۔ یا پھر سوشل میڈیا سے ہونے والے رابطے جغرافیائی سرحدوں کا لحاظ نہیں کرتے۔ اور اس وجہ سے کئی لوگ یہ امید رکھتے رہے ہیں کہ ریاستی سرحدوں کی دیوار گر جائے گی۔ لیکن یہ غلط ہے۔ معاشرے کبھی بھی آزادانہ طور پر نہیں ملے اور یہ تبدیل نہیں ہو گا۔
دنیا بھر میں کوکاکولا، جاپانی گاڑیاں، چینی مصنوعات، ایرانی قالین اور کے ایف سی کے برگر استعمال ہوں گے۔ بیرونی ملک کے لوگوں کے ساتھ میل ملاپ ہو گا۔ لیکن لوگ اپنی قوم سے وفاداری اتنی ہی جذبے سے رکھتے ہیں۔
جو چیز ممکن ہے، وہ اقوام کے اتحادی گروپ ہیں۔ یورپی یونین اس کی مثال ہے لیکن یہ تجربہ اپنے “شہریوں” سے کبھی ملک جیسی وفاداری نہیں لے سکا۔ یہ محض سیاسی اتحاد رہا ہے۔ اس کے شہری اسے اپنی ملکی شناخت کے مقابلے میں ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔ کوئی ایسی اتھارٹی نہیں تھی جو کہ ان شہریوں کو “یورپی شناخت” میں رنگتی۔ مشترک ہیرو بنتے، ایک ہی تاریخ پڑھی اور پڑھائی جاتی۔ علیحدگی پسندوں کو ناپسندیدہ قرار دے کر سختی سے کچل دیا جاتا۔
جب 2016 میں فیصلے کا وقت آیا تو برطانیہ کے شہریوں کی اکثریت نے اس سے الگ ہو جانے کو ترجیح دی اور اس سے نکل گیا۔ اس اتحاد کے پاس کسی کو بھی الگ ہونے سے روکنے کی کوئی قوت ہی نہیں تھی۔
ایسے ووٹر جن کے لئے برطانوی شناخت سے وفاداری کی اہمیت زیادہ تھی، وہ اس سے نکلنے کے حق میں زیادہ تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رونالڈ ریگن نے ایک بار اقوامِ متحدہ میں کہا تھا “میں کئی بار سوچتا ہوں کہ اگر ہمیں کوئی ایلین کے خطرے کا پتا لگ جائے تو ساری دنیا اپنے اختلاف بھلا کر یکجا ہو جائے گی”۔
کئی فلموں میں ایسی کہانی دکھائی جاتی ہے۔ لیکن یہ بھی درست نہیں۔ جارحانہ خلائی مخلوق کا خطرہ بھی ہمیں اکٹھا نہیں کر سکے گا اور تاریخ میں اسے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ خلائی مخلوق کا نہیں لیکن خارجی حملہ آوروں کی صورت میں۔
مثلاً، یورپی جب آسٹریلیا گئے تو ایسا نہیں ہوا کہ یہاں کے رہنے والے قبائل نے اپنی اختلاف بھلا کر ایک شناخت بنا لی ہو۔
ہم دوسروں سے تعاون بھی کر لیتے ہیں اور تجارت بھی۔ لیکن کسی پر انحصار ہو جانا بھی ہمارے لئے ہماری شناخت کی اہمیت کم نہیں کرتا۔ اور نہ ہی اختلاف کے وزن کو۔
یہ آئیڈیا کہ کبھی بھی وہ وقت آئے گا جب ہم سب سے پہلے انسان ہوں گے اور انسانیت کا رشتہ سب پر سبقت لے جائے گا ۔۔۔۔ زیادہ سے زیادہ کسی دیوانے کا خواب ہو سکتا ہے۔
(جاری ہے)

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply