• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بدلتے ترکیہ شام تعلقات اور ممکنہ اردگان اسد ملاقات/ڈاکٹر ندیم عباس

بدلتے ترکیہ شام تعلقات اور ممکنہ اردگان اسد ملاقات/ڈاکٹر ندیم عباس

بارہ سال پہلے شام میں عرب میں بہار کے نام پر شروع ہونے والا فساد شام کو تباہ برباد کرچکا ہے۔ شام کے عوام در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور وہ ملک جس میں پورے خطے سے لوگ علاج اور سیر و سیاحت کے لیے آتے تھے, اب کھنڈرات کا منظر پیش کرتا ہے۔ امریکہ، اسرائیل، عرب ممالک اور ترکیہ کے اشتراک سے یہ فساد شروع ہوا، اس فساد سے جنم لینے والی تنظیموں نے شام ہی نہیں, پورے خطے کی سکیورٹی کو تہس نہس کر دیا۔ پٹرول کے سرمائے اور مغربی اسلحے سے اٹھنے والی یہ دہشتگرد تنظیمیں مقامی طور پر کوئی جڑیں نہیں رکھتی تھیں، اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اب داعش، لشکر شام اور دیگر گروہ تتر بتر ہوچکے ہیں۔ ہر روز بشار کے دمشق چھوڑنے کی خبریں دینے والا میڈیا اور خوش فہمی میں مبتلا ہونے والے شام کے بعض پڑوسی خود بدل گئے۔ بشار وہاں پر موجود ہے اور سیریا کے اکثر علاقوں پر شامی افواج کا قبضہ ہے۔ کچھ علاقے امریکی اور ترکیہ افواج کی موجودگی کی وجہ سے ابھی تک شام کی قومی افواج کے قبضے میں نہیں ہیں۔

آہستہ آہستہ عرب ملکوں نے شام کے ساتھ تعلقات کو نارمل کرنے کا آغاز کر دیا تھا۔ ترکیہ کی سرمایہ کاری بہت بڑی تھی اور وہاں جو بیانیہ بنایا گیا تھا، اس کی وجہ سے ترکی کو شام سے تعلقات بحال کرنے میں داخلی مسائل کا سامنا تھا۔ یہ بات تو طے ہے کہ دنیا کا کوئی ملک بھی اپنے کسی دشمن سے بھی ایک لمبے عرصے تک سفارتی تعلقات منقطع نہیں رکھ سکتا۔ رابطے رکھنے کے لیے سفارتخانے اور سفارتی چینلز کھلے رکھے جاتے ہیں، تاکہ کسی بھی انہونی صورتحال سے بچا جا سکے۔ ترکی کو یہ محسوس ہوا ہے کہ اس کا بڑا نقصان ہو رہا ہے اور وہ شام میں آنے والے امن کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ بارڈر پر کرد ہونے کی وجہ سے ترکی کی طرف سے دہشتگرد قرار دی جانے والی کرد قوم پرست تنظیم پی کے کے بھی شام میں متحرک ہوئی ہے۔

جب شامی ترکیہ کی تنظیم وائی پی جے کو وسائل کے ساتھ وسیع علاقہ ترکی بارڈر کے ساتھ ملا ہوا ہوگا تو یقینی طور پر اس کا فائدہ پی کے کے کو ہی ہوگا اور ہم نے دیکھا کہ نومبر میں استنبول میں ایک دھماکہ بھی کیا گیا۔ ترکی بھی یہ سمجھتا ہے کہ اگر کوئی طاقت پی کے کے کو روک سکتی ہے تو وہ شام میں بشار الاسد کی طاقتور حکومت ہے، ورنہ خطے میں آنے والا یہ عدم استحکام یونہی سب کو متاثر کرتا رہے گا۔ ترکیہ کا خیال تھا کہ جلد شام میں ہماری کٹھ پتلی حکومت آجائے گی اور دمشق ہمارے کنٹرول میں ہوگا۔ اسی لیے انہوں نے بڑی تیزی سے جنگ کے متاثرین کو قبول کیا۔ اب ایک دہائی بعد ترکیہ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ یہ بوجھ بہت زیادہ ہے اور اگر کچھ مدت مزید گزر گئی تو یقینی طور پر شامی مہاجرین ترکی کی زندگی کے عادی ہو جائیں گے اور وہ شام واپس نہیں جانا چاہیں گے۔

اگر ابھی مہاجرین کو واپس بھیجنا ہے تو شام میں امن لانا ہوگا، بدامن ملک میں تو مہاجرین واپس نہیں جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ شام میں موجود حکومت کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ ترکیہ کو اپنی پالیسی کے بیک فائر ہونے کا احساس ہو رہا ہوگا کہ کس طرح دوسری قوتیں اس تنازعہ سے آہستہ آہستہ دور ہوگئیں اور سارے مسائل ترکیہ کے گلے ڈال گئیں۔ اب امریکہ، سعودیہ عرب، امارات اور قطر کو تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، انہوں نے آسانی سے منہ موڑ لیا۔ کچھ روز پہلے ماسکو میں ترکیہ، روس اور شام کے وزرائے دفاع اور انٹیلیجنس حکام کے درمیان میں ملاقات ہوئی ہے۔ یہ ملاقات غیر متوقع نہیں تھی۔ کافی عرصے سے ترکی کی طرف اشارے دیئے جا رہے تھے کہ ہم بشار کی حکومت سے تعلقات کی بحالی چاہتے ہیں۔ ایسے میں روس کو درمیان میں لایا گیا اور شام ترکیہ مذاکرات شروع ہوئے۔ یہ ایسے ہی ہے، جیسے ترکیہ نے یوکرین اور روس مذاکرت کی میزبانی کی تھی۔

اب ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ پہلے ہمارے دفاع اور انٹیلجنس کے حکام ملے ہیں، اس کے بعد وزرائے خارجہ ملیں گے اور پھر میں صدر بشار الاسد کو ملوں گا۔ یہ ایک بڑا اعلان تھا، جس کے بعد بہت سے گروہوں کی مایوسی میں اضافہ ہوا، جو اب تک اپنی مرضی مسلط کرنے کے پروگرام بنائے بیٹھے تھے۔ یہ تعلقات آج کل میں بحال ہو جائیں گے۔ اصل بات اپنی جگہ پر رہے گی کہ ترکیہ نے ایک مشکل ترین وقت میں شام کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔ اگر ترکیہ باہر سے آنے والے داعشیوں اور امریکی جہادیوں کے لیے داخلے کا مرکز نہ بنتا اور ان کے لیے سپلائی لائن فراہم نہ کرتا تو سیریا کے حالات اتنے خراب کبھی نہ ہوتے۔ اب تعلقات بحال ہو ں گے، مہاجرین کی واپسی کی بات بھی ہوگی اور آگے کی طرف بڑھا جائے گا، مگر شام اپنی خارجہ پالیسی میں ان ممالک کو زیادہ اہمیت دے گا، جنہوں نے مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

کچھ اپوزیشن گروہ اس متوقع ملاقات اور ترکیہ کی ممکنہ پالیسی شفٹ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ یہ ہمیں دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ انہیں دھوکہ دیا جا رہا ہے، انہوں حکومت دینے کے وعدے دلا کر اسلحہ پکڑایا گیا تھا، مگر اب یہ سارا منصوبہ ہی چوپٹ ہوچکا ہے۔ جب بھی کوئی گروہ اپنی قوم کو چھوڑ کر بیرونی طاقتوں پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ بنیادی طور پر اپنے پاوں پر ہی کلہاڑا مار رہا ہوتا ہے۔ ترکیہ سمیت تمام ممالک کے مفادات بدل گئے تو ان کی دشمنی بھی بدل گئی، جن لوگوں نے امن و امان کو نقصان پہنچایا اور آلہ کار بن کر اپنے ہی ملک کو تباہ کر دیا، وہ یقیناً نقصان میں ہوتے ہیں۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply