روس:’’ہیمارس میزائل ‘‘ کیا ہیں؟

روسی فوج کے لئے مہلک ترین ثابت ہونے والے ’’ہیمارس میزائل‘‘سے سینکڑوں ہلاکتیں ہوئیں ۔ چار ہیمارس میزائل امریکا نے یوکرائن کی فوج کو فراہم کئے۔

رپورٹ کے مطابق ما سکو میں روسی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ فوجیوں کو ہیمارس سسٹم کے ذریعے داغے گئے “چار میزائلوں” سے مارا گیا۔ ی قابل ذکر ہے کہ “HIMARS” ہلکے بکتر بند میزائل لانچر ہیں جو فائر گائیڈڈ اور درست نشانہ لگانے والے میزائلوں سے لیس ہیں۔

’ہیمارس‘ میزائل لانچر کو ایک موبائل ویپن یونٹ سسٹم کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے جو ایک ساتھ کئی میزائل فائر کر سکتا ہے۔ ایک ٹرک پر لدے چھ ہیمارس میزائل لانچروں پر لوڈ ہوتے ہیں ، جن میں سے ہر ایک 70 کلومیٹر کی رینج کے ساتھ بالکل درست ٹارگٹ کو ہدف بنانے کا اہل ہے

روس نے تصدیق کی ہے کہ نئے سال کے آغاز پر یوکرین کی جانب سے کیے گئے ایک میزائل حملے میں اس کے کم از کم 89 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ فوجیوں کی بالکل درست لوکیشن ٹریس ہونے کی وجہ ممنوعہ موبائل فون کا استعمال تھا۔ اگرچہ ہلاک ہونے والے روسی فوجیوں کی اصل تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے تاہم یہ روس، یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے ہونے والے کسی حملے میں فوجی ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

یوکرین نے یکم جنوری کی نصف شب یوکرین کے مقبوضہ شہر دونیتسک کے علاقے ماکیوکا میں جبری فوجی بھرتیوں کے ایک سینٹر کو میزائل سے نشانہ بنایا تھا۔یوکرین کا دعویٰ ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ یوکرین نے دعویٰ کیا ہے اس حملے میں روس کے کم از کم 400 فوجی ہلاک ہوئے جبکہ 300 زخمی ہوئے ہیں۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply