• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • نیل کے سات رنگ( طیارے کی واپسی، موسیقی کے دیوانوں کا حملہ، ایک ملک دو حقیقتیں ) -قسط16/انجینئر ظفر اقبال وٹو

نیل کے سات رنگ( طیارے کی واپسی، موسیقی کے دیوانوں کا حملہ، ایک ملک دو حقیقتیں ) -قسط16/انجینئر ظفر اقبال وٹو

(دارفور کے رنگ کی آخری قسط۔ اگلی اقساط میں دریائے نیل کے ایک اور خطے کا احوال (دوسرا رنگ ) پیش کیا جائے گا )
جہاز اب خرطوم کے ہوائی اڈّے کو پیچھے چھوڑتے ہوئے جنوب کی سمت اُڑان بھر رہا تھا۔پائلٹ کوکنٹرول ٹاور سے جنوبی شہر ‘واد مدنی’ جانے کی ہدایات ملی تھیں۔مگر کیوں؟ کوئی نہیں بتا رہا تھا۔ کہیں کوئی نہ کوئی گڑبڑ ضرور تھی ، میں اور شاہ جی ممکنہ طور پر اس کی وجوہات پر بحث کر رہے تھے ۔ ہمارے ارد گرد کے مسافروں کے چہرے بھی اُترے ہوئے تھے۔دارفور کے سفر کا فیصلہ ہمیں بہت مہنگا پڑ رہا تھاتاہم میں نے اس سے یہ مثبت پہلو نکال لیا تھا کہ چلو اسی بہانے ‘واد مدنی” شہر میں کچھ وقت گزارنے کا موقع مل جائے گا۔”واد مدنی” خرطوم سے کوئی 190 کلومیٹر جنوب میں دریائے ‘سفید نیل’ کے کنارے ایک مسلم تاریخی شہر تھا جو کہ وسطی مشرقی ریاست ‘الجزیرہ’ کا ریاستی دارلحکومت تھا۔یہ ہماری دورہ سوڈان کی سفری فہرست میں شامل تھا لیکن اپنی مصروفیات کی وجہ سے ابھی تک ہم یہاں جانے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔تاہم شاہ جی کا خیال تھا کہ مشرف کے طیارے کی طرح شاید ہمارے جہاز میں بھی کوئی چیف موجود ہے اور نیچے خرطوم میں نئے چیف کے حلف لینے تک ہم ہوا میں ہی معلق رہیں گے۔

بیس پچیس منٹ جنوب کی سمت میں اُڑنے کے بعد جہاز نے ایک دفعہ پھرفضا میں لمبا یو ٹرن لیا اور واپس خرطوم کی طرف جانے لگا۔ ‘واد مدنی’ کے پرانے سوق میں رات کو آوارہ گردی کرنے کا میرا پروگرام کینسل ہوتا نظر آنے لگا۔جہاز کے تمام مسافروں کی بے چینی ایک دفعہ پھر بڑھ گئی تھی۔مغرب سے کچھ پہلے کا وقت ہوگا جب جہاز کے پہیوں نے خرطوم ایئرپورٹ کے رن وے کو چھوا۔ ایئرپورٹ بالکل خالی تھا اور ایک بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ہم متعدد بار یہاں سے اُڑان بھر چکے تھے مگر ایسی ویرانی کبھی نہ دیکھی تھی۔

لینڈنگ کے بعد جہاز ٹیکسی کرتے ہوئے ایئرپورٹ کی مرکزی ٹرمینل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دائیں طرف کے کارگو ٹرمینل کے سامنے آکر رُک گیا۔ میں نے کھڑکی سے نیچے جھانکا تو سکیورٹی فورسز نے جہاز کو گھیرے  میں لینا شروع کر دیا تھا۔ ایئرپورٹ کی چار دیواری سے پرے نظر آنے والی خرطوم کی مصروف ترین ‘ شاہراہ افریقہ’ بھی بالکل سنسان پڑی تھی۔شاہ جی کا خیال تھا کہ شاید خرطوم میں ‘کوو’ ہو گیا ہے۔کوئی نہ کوئی گڑبڑ ضرور تھی۔جہاز میں عملہ بے چینی سے ادھر اُدھرآ جا رہا تھا۔ کوئی پندرہ بیس منٹ کے صبر آزما انتظار کے بعد جہاز کا دروازہ کھول دیا گیا اور مسافر ایک ایک کرکے سیڑھی سے نیچے جانے لگے۔ جہاز سے باہر نکلتے ہی آنسو گیس کی شدید ترین بُو ہمارے نتھنوں سے ٹکرائی اور آنکھوں میں ہلکی سی سوزش ہونا شروع ہوگئی۔

نیچے اُترتے ہی ایک آرمی آفیسرہمارے پاس آگیا اور ہم غیر ملکیوں کو رن وے پر ہی روک لیا۔ ہمارےادارے کے ڈرائیور سے رابطہ کیا گیا جو کہ کافی دیر بعد کارگو ٹرمینل والے گیٹ سے گاڑی اندررن وےپر لے آیا۔اس وقت تک رات کا اندھیر چھا چکا تھا مگر ایئرپورٹ کی ساری بتیاں گُل تھیں۔ڈرائیور نے خاموشی سے ہمارا سامان گاڑی میں رکھا اور ہمیں ایک چھوٹے گیٹ سے نکال کر شاہراہ افریقہ پر لے آیا جس پر ‘دریسا’ گاؤں کی گلیوں جیسی ویرانی چھائی ہوئی تھی۔وہ ہمیں جلد ہی وسطی خرطوم کی اندرونی چھوٹی غیرمعروف گلیوں میں لے گیا جو اسی طرح ویران پڑی ہوئی تھیں۔ ہم نے گھوم کر ایئرپورٹ کے مخالف سمت والے پوش علاقے ‘الریاد’ میں اپنے گیسٹ ہاؤس جانا تھا۔

ڈرائیور بتا رہا تھاکہ آج صبح نئی نسل کے ہردل عزیزشاعر اور پاپ گلوکار ‘محمد عبدالعزیز’ کا قاہرہ کے ہسپتال میں جوانی میں ہی انتقال ہوگیا تھا۔ وہ موجودہ فوجی حکومت کے مخالف نظریات رکھتے تھے جس کی وجہ سے زیر عتاب تھے۔نوجون پیار سے انہیں “الحوت” کہتے تھے۔جس کا مطلب ہے “بڑی وہیل مچھلی”۔ انہیں سوڈان کے نوجوانوں کا دیوتا بھی کہا جاتا تھا۔ان  کی میت تدفین کے لئے قاہرہ سے خرطوم لائی جارہی تھی۔خرطوم ایئرپورٹ سے باہر ہزاروں کی تعداد میں نوجوان ان کے آخری دیدار کے لئے جمع تھے۔جنہوں نے حکومت کے خلاف نعرہ بازی شروع کردی اور پھر جیسے ہی میت کو لانے والا جہاز رن وے پر اُترا تو نوجوانوں نے ایئرپورٹ پر دھاوا بول دیا اور رن وے پر آکر جہاز کو گھیرے میں لے لیا۔ائیرپورٹ سکیورٹی کے ادارے اس حرکت کے لئے بالکل تیا ر نہ تھے۔ایئرپورٹ اور رن وے کو ان بلوائیوں سے خالی کروانے کے لئے فوج طلب کرلی گئی اور گھنٹے دو گھنٹے کی کوشش کے بعد ایئرپورٹ کو کلیئر کروا  کر ارد گرد کے سارے علاقے میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔تاہم گلیوں میں یہ نوجوان ابھی بھی موجود ہیں اور مظاہرے کر رہے ہیں۔ہمیں بچ بچا کر یہاں سے نکلنا ہوگا۔

انسان بھی بہت عجیب مخلوق ہے۔ اس ملک کے ایک حصّے میں نوجوان ہاتھوں میں اسلحہ لئے اپنی جان بچانے کے لئے ہزاروں دوسرے لوگوں کی جان لے رہے تھے اور دوسرے حصّے میں ہزاروں نوجوان اس بے انصافی سے بے نیاز اپنے ہردل عزیز موسیقار کی موت پر دارلحکومت کو بند کیے ہوئے تھے۔ہم آدھا گھنٹہ مرکزی خرطوم کی اندرونی گلیوں پر گھومتے ہوئے اپنے گیسٹ ہاؤس پہنچ گئے جہاں ‘وجےہاؤس’ میں ہمارے کام ودہن کے مزے کے لئے بہت سے پاکستانی اور انڈین کھانے تیار تھے۔ ایک ہفتے بعد مصالحہ دار کھانے کو ملا  تھا  لہذا ہم کھانے پر خوراکی جنجوید بن کر پَل پڑے تھے۔اور کھانا کھاتے ہی بستروں پر ڈھیر ہوگئے تھے۔

صحرائے صحارا میں آسمان کی طرف منہ کیے ‘جبل مورنی” کی ہزاروں سالوں سے سوئی ہوئی ممی اس رات ایک جھٹکے سے اچانک اٹھ کر بیٹھ گئی تھی اور اپنے کپڑے جھاڑ کر’دریسا’ گاؤں کی طرف چلنا شروع کردیا تھا۔اس کےساتھ ہی ہزاروں کی تعداد میں دارفور ی مہاجرین بھی اپنی سرکنڈوں سے بنی ہوئی جھونپڑیوں سے نکل آئے تھے اور اس کے پیچھے ‘نعرہ مورنی’ لگاتے ہوئے چل پڑے تھے۔ان میں مجھے ہالہ بھی نظر آرہی تھی جو اپنے شوہر کی باقی تین بیویوں کے ساتھ ساتھ تیزی سے چل رہی تھی۔وہ بار بار اپنے پاؤں کی انگلیوں پر اوپر اٹھ کر دیکھتی کہ  شاید  ‘دریسا’ گاؤں کی دور سے جھلک نظر آئے تو وہ دوڑ کر وہاں پہنچ جائے۔جبل مورنی کی ممی بہت غصے میں تھی اور بڑے بڑے درختوں کو تنکے کی طرح اکھاڑ کر ادھر اُدھر پھینک رہی تھی۔اچانک ‘دریسا’ پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھے جنجوید نے جھاڑیوں میں چھپے چھپے ہی ممی کے سینے پر گولیوں کا ایک برسٹ مارا تھا جس سے ممی ایک جھٹکا کھا کر رک گئی تھی اور اس کی آنکھیں انگارے اُگلنے لگی تھیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

میں اپنے بیڈ پر ایک جھٹکا لے کر نیند سے اٹھ بیٹھا تھا۔ میرا سارا جسم پسینے سے شرابور تھا۔ میں کافی دیر بیڈپر بیٹھا یہ طے کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ یہ خواب تھا یا حقیقت۔ پاس کی مسجد سے صبح کی اذان کی صدا بلند ہو رہی تھی۔میں نے وضو کیا اور مالک کے سامنے سجدہ تشکربجا لانے لگا۔
جاری ہے

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply