• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • منتشر نظریہ،منقسم سوچ اور گلگت بلتستان کا اصل مسئلہ۔شیر علی انجم

منتشر نظریہ،منقسم سوچ اور گلگت بلتستان کا اصل مسئلہ۔شیر علی انجم

محترم قارئین کہتے ہیں کسی بھی معاشرے میں بسنے والے افراد کا اخلاقی اور معاشرتی رویہ اس قوم کی پہچان ہوتی ہے۔ بلکہ روزمرہ کے معمولات میں رونما ہونے والے تمام تر واقعات میں ہمارا مثبت یا منفی رویہ بھی دراصل کسی قوم کی پہچان ہوتی ہے۔ یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ تعلیم، سماجی پس منظر،اور معاشرتی سیاسی اور مذہبی تربیت ہمارے رویوں کی تشکیل کرتے ہیں کسی بھی معاشرے میں اگر لوگ تعلیم یافتہ ہوں  اور شعور رکھتے ہوں   تو لازمی بات ہے کہ اس کا اظہار اُن کے رویے اور فکر میں بھی نظر آناچاہیے۔اور پھر یہی رویہ مہذب دنیا میں اُن کی پہچان اور شناخت بنے گی۔

لیکن بدقسمتی سے جب ہم اپنے معاشرے کی طرف دیکھتے ہوئے لوگوں کے  رویوں اور سوچ کا مشاہدہ کرتے ہیں تو پتا یہ چلتا ہے ہے کہ ہمارا معاشرہ نہ صرف معاشی طور پر بلکہ سماجی ،مذہبی اور سیاسی سطح پر زوال پذیر ہے۔  ہمارے ہاں ایک دوسرے کے لئے  محبت اور وطن کے لئے  فکر اور منظم نظریے  کا فقدان ہے لیکن بغض ، عناد  اور سیاسی منافقت  ہر  گلی کوچے میں پھلتے پھولتے نظرآتا ہے۔ اس منتشر معاشرے میں جب کہیں کہیں خلوص کی ایک ہلکی سی جھلک نظر آتی ہے تو دل کو گمان ہوتا ہے حضرت انسان کا دل ابھی مکمل طور پر مردہ نہیں ہوا ہے مگر اجتماعی طور پر معاشرے کے ہر فرد کا رویہ اس بات کا مظہر ہے کہ اب افراد میں اپنے ہم نفسوں کے لئے وہ محبت نہیں رہی جو کبھی آباؤ اجداد کا خاصہ تھی۔

گلگت  بلتستان کے عوام نے جس سیاسی ،  مذہبی اور   سماجی  نظام  کے  تحت  تربیت  حاصل  کی  ہے  اس بناء  پر  آج  ہمارے اندر معاشرتی رویوں اور قومی نظریے  کے حوالے سے انتشار عام سا  ہوگیا  ہے، تو اس کی بنیادی وجہ عوام نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جن کے ذمہ یہ کام تھے لیکن اُنہوں نے اس حوالے سے خیانت کی اور ظاہری مفادات کے لئے  معاشرے کو ایک طرح سے ایک عجیب قسم کی  سوچ دی  جس کو لے کر  آج ہر کوئی ذہنی طور پر منتشر ہے ۔ جب ہم گلگت بلتستان کے معاشرے کی بات کریں تو ایسا لگتا ہے کہ ہمارے لوگ اپنے گریبان میں جھانکے بغیر اپنے گھر اور محلے کے حالات کو چانچے اور پرکھے بغیر پڑوسیوں کی  فکر میں مبتلا نظر آتے  ہیں  ۔اس کی وجہ بھی معاشرتی رویہ ہے جو ہمیں ایسا کرنے پر مجبور کرتا ے ۔

تاریخ کی طرف پلٹیں تو گریٹ تبت کے ٹوٹ جانے سے لے کر سکھوں کے ماتحت ہونے تک اور پھر ڈوگروں کو بیچ دینے کے معاملے سے ڈوگروں کی جانب سے اس خطے کو انگریز وں کو پٹے پر دینے ،پھر انقلاب گلگت اور اُس انقلاب کی ناکامی اور الحاق کے جھوٹے نعرے کے ساتھ اس خطے پر غیر مقامی شخصی حکومت اور مسلسل ایف سی آر تک کی تاریخ میں ہمیں غلامی میں رہنا سکھایا ،یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی ذہنی سماجی معاشرتی اور سیاسی طور پر غلامی کا طوق پہن  کر  رقص کرنے کو سیاست ،جمہوریت اور پہچان سمجھتے ہیں۔ خطہ بے آئین گلگت بلتستان جو کبھی تبت،بلورستان، بروشال،درستان کے نام سے الگ الگ ریاستیں تھیں

  لیکن تاریخ نے جب پلٹا کھایا اور تقسیم برصغیر سے لے کر  ریاست جموں کشمیر بکھر کر ریزہ ریزہ ہونے تک یہ خطہ مہاراجہ اسٹیٹ کے دو قانونی اور آئینی صوبے تھے لیکن ایک طرف مہاراجہ کا بھارت سے الحاق دوسری طرف گلگت اسکاؤٹس  کا مہاراجہ سے بغاوت کے بعد جو کچھ اس خطے کے ساتھ ہوا وہ ہماری اجتماعی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام نے اس خطے کو آزاد کرایا اور تمغہ انگریز لے اُڑے ،لیکن اس خطے کے عوام کو بے معنی نعرے کے ساتھ  سپیشل کا لقب وراثت میں ملا، جس کی بنیاد پر حقوق حاصل کرنا اب خود مسئلہ کشمیر سے بڑھ کر ایک مسئلہ بن چُکا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس خطے کی مقامی زبانیں جو صدیوں پرانی ہیں یہاں کی تہذب وتمد ن، ثقافت ،رسم و رواج ہزاروں سال پر محیط ہیں لیکن اب سب کچھ خطرے میں نظر آتا ہے  بلکہ اب تو اس خطے کی  ڈیموگرافی بھی مکمل طور پر تبدیل ہونے کے آثار نظر آنا شروع ہوئے ہیں ۔لیکن معاشرتی رویے  کا عالم یہ ہے کہ عوام نہ سمجھنے کے لئے  تیار  ہے اوراگر کوئی سمجھانے کی کوشش کرے  تو وہ تمام الزمات اُن افراد پر لگائے جاتے ہیں  جو شاید  اس خطے کے عوام کی قسمت میں نہ تھی۔معاشرتی رویے  اور بے حسی کا یہ عالم ہے کہ جب تک مصیبت اپنے گھرمیں نہیں آتی  یہاں کوئی لب کشائی کے لئے  تیار  نہیں ہوتا ۔

اس معاشرے میں ذہنی پستی  کا عالم یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں میڈیا سے لے کر سیاست تک میں الزام تراشی ایک فیشن بن چُکا   ہے اور ایسے ایسے الزامات ایک دوسرے پر لگانے کا رواج عام ہوگیا ہے جس سے شاید گلگت بلتستان میں کام کرنے والی  سرکاری خفیہ ایجنسیاں بھی چکرا کر رہ جائیں  ۔ گلگت بلتستان کی متنازع  حیثیت پر بات کرنا نہ صرف جرم بنتی جارہی ہے بلکہ اس نظریے  کے تحت بین الاقوامی قوانین اور دستور پاکستان کی روشنی میں بات کرنے والے معاشرے میں ایک گالی بنتا  جارہا  ہے جو کہ ستر سالہ سیاسی سماجی اور مذہبی تربیت کی عکاسی کرتا  ہے۔ اس خطے میں معاشرتی رویے  کا خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں جو ممکن نہیں اُس پر لوگ ڈٹ جاتے ہیں لیکن جو ممکن ہے اُس پر بات کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ،

مثال کے طور پر آئین پاکستان کے مطابق گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر سے منسلک ایک ایسا خطہ ہے جس کو اگر مسئلہ کشمیر سے الگ کرکے پاکستان میں قانونی طور پر شامل کیا تو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بھارت کو اُن کے زیر انتظام خطے کو ہڑپ کرنے کا موقع مل سکتا ہے کیونکہ جموں کشمیر میں بھی مسلمانوں کا دل پاکستان کے لئے دھڑکتا ہے بالکل یہی صورت حال گلگت بلتستان کی  بھی ہے ،یہاں کے عوام کی تمام تر وفاداریاں پاکستان کے ساتھ ہیں لالک جان اور دیگر کئی سو جوانوں کی شہادت سے لے کر  بشارت حسین کی شہادت سے ہم نے اس ملک کی آبیاری کی ہے لیکن اس مجبوری کو سمجھنے کے لئے نہ سیاسی لوگ تیار  ہیں  نہ مذہبی شخصیات، اب اس فلسفے کے پیچھے کس قسم کے عوام کارفرما ہیں کم ازکم ہم جیسے عام آدمی لاعلم ہیں۔

دوسری طرف مسئلہ کشمیر اور دستور پاکستان پر کسی قسم کی آنچ آئے بغیر گلگت بلتستان کے عوام کی ستر سالہ محرومیوں کو ختم کرنے اور اس خطے کے عوام کی منجمد شدہ شناخت کو بحال کرنے کے لئے  جس طرح بھارت نے جموں کشمیر میں آرٹیکل370کے تحت اور مملکت پاکستان نے ایکٹ 74کے تحت آزاد کشمیر کو الگ شناخت دی ہوئی ہے بالکل اسی طرح گلگت بلتستان کو تاریخی حقائق اور انقلاب گلگت کی روشنی میں سٹیٹس دے سکتا ہے لیکن یہاں نعروں میں تضادات ہیں۔ پی پی حکومت میں تھے تو نعرہ لگایا  جا رہا  تھا  کہ وہ گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنا کر دم لیں گے جبکہ اُس وقت موجودہ حکمران جماعت اس نعرے کے بالکل مخالف تھے اور اُنہوں نے اس نعرے کو مسترد کیا اور گلگت بلتستان کا مسئلہ  کشمیر کے تناظر میں آئینی صوبے کی مخالفت کی،

آج نون لیگ حکومت میں ہے تو اُنہوں نے الیکشن کے دنوں میں عوام کو آئینی صوبے کا خواب دکھایا ، اپنے نظریے  پر واپس پلٹتے ہوئے انہوں نے   کہا کہ مسئلہ کشمیر کے تناظر میں ایسا ممکن نہیں ہے بلکہ وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن اپنی  کئی میڈیا  ٹاک میں بالکل واضح انداز میں کہہ چُکے ہیں کہ مسئلہ کشمیر حل ہونے تک گلگت بلتستان کے عوام کو کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔دوسری طرف امجد ایڈووکیٹ جن کو پارٹی کی طرف سے نئی ذمہ داریاں       ملنے کے بعد عجیب و  غریب قسم کے نعرے    ا یجاد کیے گئے ہیں  مثلاً  حق ملکیت اور حکمرانی کا نعرہ اور اس نعرے کی بنیاد پر سٹیٹ سبجیکٹ کی بحالی کے لئے  آواز بلند کرنے کو  تیار  نہیں، جس  کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ گلگت بلتستان میں قانون باشندہ کی سب سے پہلی خلاف ورزی بھٹو دور میں ہوئی ،

اسی طرح گلگت بلتستان پر غیرقانونی ٹیکس کے نفاذ کا سہرا بھی پیپلزپارٹی کے سر جاتا ہے کیونکہ ٹیکس اڈاپٹیشن  2012میں امجد ایڈووکیٹ وغیر ہ چونکہ عہدوں پر فائز تھے اس لئے خاموشی اختیار کر لی آج دستخط دکھاؤ  جیسی  نامعقول دلیل کے ساتھ گلگت بلتستان کے عوام کو بیوقوف بنانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ پیپلزپارٹی جو کل تک آئینی صوبے کا نعرہ لگاتی  تھی ،بعد میں  آزاد کشمیر طرز کے سیٹ کی مخالفت میں جموں کشمیر طرز کے سیٹ اپ کے لئے  بغیر قانونی آئینی دلیل کے    نعرہ لگانا شروع کیا ۔ساتھ ہی گلگت بلتستان کو متنازع  کہنے والوں پر غدار ہونے کا الزام لگایا، لیکن وہ یہ بھول گئے کہ گلگت بلتستان یہاں کے عوام کی وجہ سے نہیں بلکہ دستور پاکستان اور مسئلہ  کشمیر اور اقوام متحدہ کی چارٹرڈ کی  روشنی میں متنازع  کہلاتے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر مسلسل تنقید کے بعد اپنے بیان سے منحرف ہوگئے اور مقامی صحافیوں پر الزام لگایا۔

اسی ہفتے اُنہوں نے اپنے  تمام نعروں پر یوٹرن لے کر  گلگت بلتستان کے لئے آزاد کشمیر طرز کے سیٹ اپ کا مطالبہ کیا ہے جو کہ خوش آئند بات ہے لیکن یہ کنفرم نہیں کہ یہ نعرہ کب تبدیل ہوجائے گا۔ اس تمام صورت  حال کو باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں منقسم معاشرتی رویے  اور سوچ کی اصل وجہ کیا ہے۔ اسی طرح عوامی ایکشن کمیٹی اور اپوزیشن لیڈر کا بھی گلگت بلتستان کے حوالے سے یہی کہنا ہے کہ مکمل آئینی حقوق دو اور ٹیکس نافذ کرو ،حالانکہ اس نعرے میں بھی جان نہیں ہے لیکن اُنہوں  نے متبادل کشمیر طرز پر  بااختیار نظام کا بھی مطالبہ کیا ہے جوکہ انتہائی خوش آئند ہے مگر مذہبی جماعتوں نے آج بھی گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر کے تناطر میں بین الاقوامی قوانین اور دستور پاکستان اور خارجہ پالیسی پر سٹڈی نہ کرنے  کی قسم کھائی ہوئی ہے۔

محترم قارئین اب اگر ہم اس ایشو پر معاشرتی سوچ کی بات کریں تو ایسے بھی لوگ صحافت کے لبادے میں موجود ہیں جو گلگت بلتستان کو قانون  ا ور آئین کے مطابق حقوق مانگنےاور  اس سلسلے میں قلمی،سیاسی اور زمینی سطح پر کردار ادا کرنے والوں پر مسلسل بیہودہ قسم کے الزامات لگا رہے ہیں ، اب تو حد ہوگئی ہے کہ  لوگ وٹس ایپ کے گروپس سے نکالے جانے پر بھی راء کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں اور اس قسم کے بیہودہ اور صحافت کے لبادے میں جیب خرچی مافیا کو کوئی روکنے والا نہیں کیونکہ گلگت بلتستان میں صحافت کے لئے تجربہ اور تعلیم کی بنیاد پر آج تک کوئی ایسا میکنزم نہیں بنایا گیا    جہاں صحافی اور صحافتی اقدار کو پرکھا جاتا ہو ۔

یہاں افسر شاہی کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ دنوں اسٹنٹ کمشنر کھرمنگ نے کچھ افراد کو اس لئے گرفتار کیاکہ وہ لوگ سوشل میڈیاپر معاشرتی مسائل کو ہائی لائٹ کرتے تھے جسے اُنہوں نے ذاتی دشمنی کا  نام دے کر  سرِ   بازار اُن لڑکوں کو گالیاں دیں  لیکن اجتماعی معاشرتی رویہ جب مردہ ہوجاتا  ہے تو لوگ اس قسم کے واقعات پر یا تو خاموش رہتے ہیں یا مسکرا کر گالی کی تائید کرتے ہیں۔ لہذا جب تک اس قسم کے رویے  کو ترک نہیں کرتے معاشرہ اس ڈگر کے ساتھ لاعلمی کی سڑک پر بھاگتا رہے گا اور چند مفاد پر ست عناصر سیاست کے نام پر عوام کو بیوقوف بنا کر مفادات حاصل کرتے رہیں گے۔ اللہ ہم سب کا حامی و  ناصر ہو!

شیر علی انجم
شیر علی انجم
شیرعلی انجم کا تعلق گلگت بلتستان کے بلتستان ریجن سے ہے اور گلگت بلتستان کے سیاسی،سماجی اور معاشرتی مسائل کے حوالے سے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *