• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کمیونزم اور خاندان: الیکزنڈرا کولونتائی/حصّہ دوم(آخری)/مترجم:سحر راحت خان

کمیونزم اور خاندان: الیکزنڈرا کولونتائی/حصّہ دوم(آخری)/مترجم:سحر راحت خان

ج۔بچوں کی پرورش ریاست کی ذمہ داری ہے

لیکن گھر یلو کام اگرختم بھی ہو جائے تو آپ بحث کر سکتے ہیں کہ دیکھ بھال کے لیے بچے تو ابھی بھی موجود ہیں۔ مگریہاں بھی مزدوروں کی ریاست خاندان کی جگہ لے لے گی۔ معاشرہ رفتہ رفتہ وہ تمام کام اپنے ذمے لے لے گا جو انقلاب سے پہلے انفرادی والدین کی ذمہ داری تھے۔ انقلاب سے پہلے بھی بچوں کی تعلیم والدین کا فرض بن کر رہ گئی تھی۔ ایک بار جب بچے اسکول جانے کی عمر کوپہنچ جاتے تھے تو والدین زیادہ آزادی سے سانس لے سکتے تھے، کیونکہ اب وہ اپنی اولاد کی فکری نشوونما کے ذمہ دار نہیں تھے۔ لیکن ابھی بھی بہت ساری ذمہ داریاں پوری کرنا باقی تھیں۔ بچوں کو کھلانے، جوتے اور کپڑے خریدنے کا معاملہ ابھی باقی تھا اور اس بات کا دھیان رکھنے کا کہ وہ ہنر مند اور دیانتدار کارگزاربن گئے ہیں جو وقت آنے پر اپنی روزی کمانے اور بڑھاپے میں اپنے والدین کا پیٹ پالنے اور کفالت کرنے کے قابل ہیں۔ تاہم، چند مزدور خاندان ہی ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے قابل تھے۔ اپنی کم اجرت کی وجہ سے وہ بچوں کو پیٹ بھر کھانا نہیں دے پاتے تھے، جبکہ فارغ وقت کی کمی نے انہیں ابھرتی ہوئی نسل کی تعلیم پر ضروری توجہ دینے سے روک دیا تھا۔خاندان بچوں کی پرورش کرتا ہے، لیکن حقیقت میں مزدوروں کے بچے سڑکوں پر پلتے ہیں۔ ہمارے آباؤ اجداد کچھ خاندانی زندگی جانتے تھے، لیکن مزدوروں کے بچے کچھ نہیں جانتے۔ مزید برآں، والدین کی کم آمدنی اور خاندان کی نازک مالی صورتحال بچے کواکثر دس سال کی عمر میں ہی ایک خودمختارمزدور بننے پر مجبور کردیتی ہے۔ اور جب بچےکمانا شروع کرتے ہیں تو اپنا پیسہ خودکمانے کی وجہ سے وہ خود کو اپنا مالک سمجھتے ہیں، اور والدین کی باتیں اور نصیحتیں اب ان کے لیے قانون کا درجہ نہیں رکھتیں۔ والدین کا اختیار کمزور ہو جاتا ہے، اور فرمانبرداری ختم ہو جاتی ہے۔

جس طرح گھر کا کام ختم ہو جاتا ہے، اسی طرح والدین کی اپنے بچوں کے لیے ذمہ داریاں آہستہ آہستہ ختم ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ آخر کار معاشرہ پوری ذمہ داری قبول کر لیتا ہے۔ سرمایہ داری کے تحت بچے اکثر، بہت کثرت سے، مزدور خاندان پر ایک بھاری اور ناقابل برداشت بوجھ تھے۔ کمیونسٹ معاشرہ والدین کی مدد کو آئے گا۔ سوویت روس میں پبلک ایجوکیشن اور سوشل ویلفیئر کے کمیشن پہلے ہی خاندان کی مدد کے لیے بہت کچھ کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس پہلے سے ہی بہت چھوٹے بچوں کے لیے گھر، یتیم خانے، کنڈرگارٹن اسکول، بچوں کی کالونیاں اور گھر، ہسپتال اور بیمار بچوں کے لیے صحت کی بحالی کے پُرفضا مقامات موجود ہیں۔ ریستوراں، اسکول میں مفت لنچ اور اسکول کے بچوں میں نصابی کتابیں، گرم ملبوسات اور جوتوں کی مفت تقسیم۔ یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ بچے کی ذمہ داری خاندان سے اجتماع (معاشرے)کو منتقل ہو رہی ہے۔

خاندان میں والدین کی بچوں کی دیکھ بھال کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: (الف) بہت چھوٹے بچے کی دیکھ بھال، (ب) بچے کی پرورش، اور(ج) بچے کی تربیت۔ سرمایہ دارانہ معاشرے میں بھی پرائمری اسکول میں اوربعد میں سیکنڈری اورہائرسیکنڈری تعلیمی اداروں میں بچوں کی تعلیم ریاست کی ذمہ داری بن گئی۔ سرمایہ دارانہ معاشرے میں بھی مزدوروں کی ضرورتوں کو کھیل کے میدان، کنڈرگارٹن، کھیلوں کے گروہ وغیرہ کے ذریعے ایک حد تک پورا کیا گیا۔مزدور اپنے حقوق سے جس قدر واقف ہوتے گئے اورجتنے زیادہ منظم ہوتے گئے معاشرے کو اسی قدربچوں کی دیکھ بھال سے خاندان کو فارغ کرنا پڑا۔ لیکن سرمایہ دارانہ معاشرہ مزدورطبقے کے مفادات کو پورا کرنے میں کافی آگے تک جانے سے خوفزدہ رہا کہ مبادا اس سے خاندان کے تاروپود بکھرنہ جائیں۔ کیونکہ سرمایہ داراس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ پرانی قسم کا خاندان جہاں عورت ایک غلام ہے اورجہاں شوہر اپنی بیوی اوربچوں کی خوشحالی کا ذمہ دار ہے وہ آزادی کے لیے مزدور طبقے کی خواہش کادم گھونٹنے کے لیے اورمزدور مرداورعورت کے انقلابی جذبے کوکمزورکرنے کے لیے ایک بہترین ہتھیار پر مبنی ہے۔ اپنے خاندان کی دیکھ بھال کے بوجھ تلے مزدور دبا رہتا ہے اورسرمائے کے ساتھ سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ جب ان کے بچے بھوکے ہوتے ہیں تو باپ اورماں ہرطرح کی شرائط ماننے پر مجبورہوجاتے ہیں۔ سرمایہ دارانہ سماج تعلیم کو سماجی اورریاستی معاملے میں تبدیل کرنے کے قابل نہیں ہوا ہے کیونکہ ملکیت کے مالک، یعنی سرمایہ دار، اس کے مخالف رہے ہیں۔

کمیونسٹ معاشرہ ابھرتی ہوئی نسل کی سماجی تعلیم کو نئی زندگی کے بنیادی پہلوؤں میں سے ایک سمجھتا ہے۔ تنگ اورمعمولی پرانا خاندان جہاں والدین لڑائی جھگڑا کرتے ہیں اور صرف اپنی اولاد میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ اس قابل نہیں کہ “نئےفرد” کو تعلیم دے سکیں ۔ کھیلوں کے میدان، گھراوردیگر سہولتیں جہاں بچے اپنے دن کا بڑا حصہ باصلاحیت استادوں کی نگرانی میں گزاریں گے وہ دوسری جانب ایسا ماحول فراہم کریں گی جس میں بچہ ایک باشعور کمیونسٹ بن سکتا ہے جسے یکجہتی ، دوستی، امدادباہمی اور اجتماع سے وفاداری کی ضرورت کا ادراک ہو۔ جب انہیں(بچے کی) پرورش اورتعلیم کی ذمہ داری نہیں اٹھانی پڑتی توپھروالدین کے لیے کیا ذمہ داریاں باقی بچتی ہیں ؟آپ کہیں گے کہ بہت چھوٹےبچے کی نگہداشت کی ذمہ داری بچتی ہے جب وہ چلنا اوراپنی ماں کا پلو پکڑنا سیکھ رہا ہوتا ہےاوراسے ماں کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔یہاں بھی کمیونسٹ ریاست مزدورماں کی مدد کو تیزی سےآتی ہے۔یہاں کوئی عورت اکیلے پن کا سامنا نہیں کرتی۔ مزدورریاست ہر دودھ پلانے والی ماں کی مدد کا عزم رکھتی ہے چاہے وہ شادی شدہ ہویا غیرشادی شدہ اوران کے لیے میٹرنٹی گھر، دن کی نرسریاں اوراسی طرح کی دوسری سہولتیں ہر شہر اورگاؤں میں قائم کرتی ہے تاکہ انہیں سماج میں اپنے کام کو ماں کے فرائض کے ساتھ نباہنے کا موقع ملے۔

مزدورماؤں کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں؛ کمیونسٹ بچوں کو ان کے والدین سے الگ کرنے کا یا بچے کو اس کی ماں کے سینے سے چھڑانے کا ارادہ نہیں رکھتے اورنہ ہی وہ خاندان کو تباہ کرنے کے لیے پُرتشدد اقدامات اپنانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں! ایسا کچھ نہیں ہے۔ کمیونسٹ سماج کے مقاصد بالکل الگ ہیں۔ کمیونسٹ سماج دیکھتا ہے کہ پرانی طرزکا خاندان بکھر رہا ہے اور سماجی اکائی کے بطورخاندان کوسہارادینے والے پرانے ستون ٹوٹ رہے ہیں، گھریلو معیشت مر رہی ہے اورمزدور طبقے کے والدین اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرنے کے یا ان کی کفالت اور تعلیم کے قابل نہیں

والدین اوربچے دونوں ہی اس صورتحال میں مصیبت کا شکار ہیں۔ کمیونسٹ سماج مزدورمردوزن سے یہ کہتا ہے:”تم جوان ہو۔ تم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہو۔ہرکسی کو خوش رہنے کا حق ہے۔لہذا اپنی زندگی جیئو۔ خوشی سے مت بھاگو۔شادی سے مت ڈرو حالانکہ سرمایہ داری میں شادی یقینا ً دکھوں کی زنجیرتھی۔ بچے پیدا کرنے سے مت ڈرو۔ سماج کو مزید مزدوروں کی ضرورت ہےاوراسے ہربچے کی پیدائش پرخوشی ہوتی ہے۔ تمہیں اپنے بچے کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں، تمہارے بچے کو نہ بھوک ستائے گی نہ سردی۔” کمیونسٹ معاشرہ بچے کی دیکھ بھال کرتا ہے اوراسے اوراس کی ماں کو مادی اوراخلاقی مدد کی ضمانت دیتا ہے۔ بچے کی خوراک، پرورش اورتعلیم کا بندوبست معاشرہ کرےگا۔ اسی دوران، وہ والدین جو اپنے بچوں کی تعلیم میں شریک ہونے کی خواہش رکھتے ہیں انہیں ہرگز ایسا کرنے سے نہیں روکا جائے گا۔ کمیونسٹ سماج بچوں کی تعلیم سے متعلق تمام فرائض خود نبھائے گا مگربچوں کی نگہداشت کی مسرت کو ان والدین سےنہیں چھینے گا جو اسے انجام دینے کے قابل ہیں۔ یہی کمیونسٹ سماج کے مقاصد ہیں اوران کی اس طرح سے تشریح مشکل سے ہی کی جا سکتی ہے کہ یہ بزورطاقت خاندان کو تباہ کرنا اوربچےکو ماں سے جدا کرنا چاہتے ہیں۔

اس حقیقت سے کوئی مفر نہیں،پرانے قسم کا خاندان اپنی زندگی گزارچکا۔ وہ خاندان بکھر رہا ہے مگراس وجہ سے نہیں کہ ریاست اسے جبراً  تباہ کرنا چاہتی ہے بلکہ اس لیے کہ خاندان کی ضرورت ختم ہورہی ہے۔ ریاست کو خاندان کی ضرورت نہیں کیونکہ گھریلو معیشت اب مزید منافع بخش نہیں رہی، خاندان مزدور کو زیادہ کارآمد اورپیداواری محنت سے بھٹکاتا ہے۔ خاندان کے اراکین کو بھی خاندان کی ضرورت نہیں کیونکہ بچوں کی پرورش کا فرض جو پہلےان کی ذمہ داری تھا وہ اب زیادہ سے زیادہ اجتماع کے ہاتھوں میں منتقل ہورہا ہے۔مرد اورعورت کے درمیان پرانے رشتے کی جگہ ایک نیا رشتہ پنپ رہا ہے: پیار اوردوستی کا اتحاد، کمیونسٹ سماج میں دومساوی اراکین کا اتحاد، جو دونوں آزاد ہیں اوردونوں خودمختار اوردونوں محنت کش ہیں۔ عورت کی گھریلو غلامی اب اورنہیں۔ خاندان میں نابرابری اب اورنہیں۔ عورت کو بچوں کے ساتھ ان کی پرورش کےلیے بے یارومددگار رہنے کے خوف کی اب ضرورت نہیں۔ کمیونسٹ سماج میں عورت مرد پرنہیں بلکہ اپنی محنت پرانحصارکرتی ہے۔ اسے اپنے شوہر میں نہیں بلکہ اپنی محنت کی صلاحیت میں سہارا ملے گا۔ اسے اپنے بچوں کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مزدورریاست ان کی ذمہ داری لے گی۔ شادی سے وہ سب مادی حساب کتاب ختم ہوجائےگا جو خاندانی زندگی کو مفلوج کردیتا ہے۔ شادی دو افراد کا اتحاد ہوگا جو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اورباہمی بھروسہ رکھتے ہیں۔ ایسا اتحاد ان مزدورعورتوں اورمردوں سے مکمل ترین خوشی اوراطمینان کا وعدہ کرتا ہے جو خود کو اوراپنے اردگردموجود دنیا کوسمجھتے ہیں۔ماضی کی ازدواجی غلامی کے بجائے کمیونسٹ سماج عورت اورمرد کو آزاداتحاد کا ایسا موقع فراہم کرتا ہے جو دوستی کے اس جذبے سے مضبوط ہوتا ہے جو اسے جنم دیتا ہے۔ جب محنت کی شرائط بدل جاتی ہیں اور مزدورعورتوں کا مادی تحفظ بڑھ جاتا ہے، جب اس طرح کی شادی جو چرچ کرتا تھا (یہ نام نہاد ناقابل تنسیخ شادی جو اصل میں ایک دھوکہ تھی)، محبت کرنے والے مرداورعورت کے دیانتدارانہ اورآزاد اتحاد کو جگہ دیتی ہے ، تب جسم فروشی غائب ہوجائے گی۔ اس بدی کی جڑیں، جو انسانیت پرداغ ہے اوربھوکی مزدورعورتوں کے لیے ایک لعنت ہے، اجناس کی پیداوار(کموڈٹی پروڈکشن) میں اور نجی ملکیت کے ادارے میں ہیں۔ جب ان اقتصادی شکلوں کو پیچھے چھوڑ دیا جائے گا تو عورتوں کی تجارت بھی خود ہی ختم ہوجائے گی۔ لہذا، مزدورطبقے کی عورتوں کو اس حقیقت سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ خاندان کا خاتمہ اس کا مقدر ہے۔ اس کے برعکس، انہیں نئے سماج کے آغاز کو خوش آمدید کہنا چاہیے جو عورت کو گھریلو غلامی سے آزاد کرے گا ، ماں کے فرائض کو ہلکا کرے گا اوربالآخر جسم فروشی کی دہشتناک لعنت کو مٹا دے گا۔

مزدور طبقے کی آزادی کے لیے جدوجہد کو اپنانے والی عورت کو ضرور یہ سمجھنا چاہیے کہ اس پرانے ملکیتی رویے کی کوئی گنجائش نہیں ہے:”یہ میرے بچے ہیں۔ ان کے لیے میری اپنائیت اورمادری فرائض مجھ پرقرض ہے؛ وہ تمہارے بچے ہیں، وہ میرا دردسر نہیں اورمجھے کوئی پرواہ نہیں کہ وہ بھوکے اورسردی کا شکار ہیں – میرے پاس دوسرےبچوں کے لیے بالکل وقت نہیں۔” مزدورماں کو تمہارے اورمیرے کا فرق نہ کرنا سیکھنا ہوگا؛ انہیں یاد رکھنا ہوگا کہ یہاں صرف ہمارے بچے ہیں، روسی کمیونسٹ مزدوروں کے بچے۔

مزدوروں کی ریاست کو صنفوں کے درمیان نئے تعلقات کی ضرورت ہے۔جس طرح ماں کا اپنے بچوں کے لیے تنگ اور مخصوص پیار اس حد تک پھیلنا چاہیے کہ یہ عظیم، پرولتاریہ خاندان کے تمام بچوں تک وسیع ہوجائے، اسی طرح عورتوں کی غلامی پر مبنی ناقابل تنسیخ شادی کی جگہ مزدوروں کی ریاست کے دو مساوی ارکان کا آزاد اتحادلے لے گا جو محبت اور باہمی احترام کے جذبے سے متحد ہوں گے۔ انفرادی اور انا پرست خاندان کی جگہ محنت کشوں کا ایک عظیم آفاقی خاندان تشکیل پائے گا جس میں تمام محنت کش مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ کمیونسٹ معاشرے میں مرد اور عورت کے تعلقات ایسے ہی ہوں گے۔ یہ نئے رشتے انسانیت کے لیے محبت کی ان تمام مسرتوں کو یقینی بنائیں گے جو تجارتی معاشرے میں مفقود ہیں ۔ یہ ایسی محبت ہو گی جو آزادہوگی اور شراکت داروں کی حقیقی سماجی مساوات پر مبنی ہوگی۔

Advertisements
julia rana solicitors london

کمیونسٹ معاشرہ روشن، صحت مند بچے اور مضبوط، خوش حال نوجوان چاہتا ہے جو اپنےاحساسات اور پیار میں آزاد ہوں۔ مساوات، آزادی اور نئی شادی کی دوستانہ محبت کے نام پر ہم مزدوراور کسان مردوں اور عورتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ خود کو ہمت اور ایمان کے ساتھ انسانی معاشرے کی تعمیر نو کے کام میں لگائیں، تاکہ اسے مزید کامل، مزید مصنفانہ اورفرد کے لیے اس خوشی کو یقینی بنانے کےقابل کیا جائے جس کا وہ مستحق ہے۔سماجی انقلاب کا سرخ جھنڈا جو روس پرلہراتا ہے اور اب دنیا کے دیگر ممالک میں بلند کیا جا رہا ہے، زمین سے آسمان کی طرف جانے کا اعلان کرتا ہے، جس کے لیے انسانیت صدیوں سے آرزو مند ہے۔

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply