لو کمار کا خدا کوئی اور ہے/طفیل مزاری

خبر ہے کہ سندھ کے ضلع تھر پارکر کے صدر مقام مٹھی میں لو کمار نامی ایک ہندو نوجوان کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کرتے ہوئے گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ مقامی مسجد کے پیش امام عبداللہ کپری کی مدعیت میں درج کی گئی ایف آئی آر میں لو کمار کی ایک فیس بک پوسٹ کو بنیاد بنا کر یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔
ایف آئی آر کے مندرجات کے مطابق پیش امام نے تھانے پہنچ کر یہ فریاد کی ہے کہ اس نے فیس بک پر لو کمار کی ایک پوسٹ دیکھی، جس میں اس نے تحریر کیا ہے کہ
” مولا تم نے خلقے ضرور ہیں لیکن اپنے پاس واپس بلانے کا طریقہ بہت خراب ہے۔ تم ان بچوں سے ان کا سہارا چھین لیتے ہو، جو اب تک دنیا کی ریتوں رسموں اور خود پلنے کے قابل بھی نہیں۔ تم ان بچوں کی اس اندھیری رات میں کی گئی آہوں کا جواب کس طرح دو گے۔ تم نے اس بیٹی کی اپنے باپ کے لیے تعمیر کی گئی امیدوں کا جنازہ اٹھوایا ہے، جس کو ابھی اپنے باپ کی گود میں شرارتیں کرنی تھیں۔ تمہاری اہمیت کیسے رہے گی، اس اولاد کے پاس، جو اپنے باپ کے ہوتے ہوئے خود کو بادشاہ کہلواتے تھے۔ مولا تم بہت ظالم ہو۔ آج کل کے تمہارے کیے گئے فیصلوں سے ہمیں بو آ رہی ہے“
درج ایف آئی آر کے مطابق جب عبداللہ نے اس بارے میں دو اور اشخاص کو آگاہ کیا تو وہ اس کے پاس آ گئے۔ جس کے بعد انہوں نے مل کر لو کمار سے اس بارے میں دریافت کیا تو اس نے برابر اپنے الفاظ کی تصدیق کی۔ پیش امام کے مطابق لو کمار نے دو مذاہب میں دشمنی پیدا کرنے اور اللہ پاک کی شان میں گستاخی کر کے مسلمانوں کی سخت دل آزاری کی ہے۔ جس پر کارروائی کی جائے۔
لو کمار کو جب معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا تو اس نے اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کرتے ہوئے اسی دن ایک اور پوسٹ لکھی جس میں اس نے سب دوستوں اور بھائیوں سے ہاتھ جوڑ کر معافی کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ میں بھی اللہ کا بندہ ہوں۔ جس حوالے سے پوسٹ وائرل کی جا رہی ہے میرا ایسا کوئی مقصد نہیں تھا۔ میں نے اپنے ایک دوست کی اچانک موت پر جذباتی ہو کر دکھ میں دو تین الفاظ لکھ دیے تھے۔ اگر کسی مکتبہ فکر کی دل آزاری ہوئی ہے تو اس عمل پر میں سب سے معافی کا طلبگار ہوں۔
لیکن اس وقت تک تیر اپنی کمان سے نکل چکا تھا۔ پوسٹ کا اسکرین شاٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا تھا اور خدائی خدمت گاروں نے اپنے ذہن کے مطابق اس میں اپنے مطلب کے الفاظ ڈھونڈ نکالے تھے اور اس طرح یہ اب نوجوان ایک مہینے سے زیر حراست ہے۔
سوشل میڈیا پر یہ خبر آنے کے بعد سندھ میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک طرف مذہبی شدت پسند طبقہ اس نوجوان کو سخت سزا دیتے ہوئے نشان عبرت بنانے پر اصرار کرتا نظر آتا ہے تو دوسری طرف سندھ کے دانشور افراد کھل کر اس نوجوان کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق اس پوری اسٹیٹمنٹ میں کہیں پر بھی توہین کا عنصر نظر نہیں آتا۔ وہ اس بیان کو خدا اور بندے کے درمیان ذاتی معاملہ قرار دیتے ہوئے لو کمار کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان کی نظر میں اس بیان میں ایک دل شکستہ شخص اپنے مولا کے حضور اس طرح شکوہ کناں ہے، جس طرح ماضی میں بڑے بڑے صوفی بزرگ اور شعرا اپنے خدا کے ساتھ، اس سے ہزاروں گنا بڑے شکوے اور تنقیدی حجتیں کیے بیٹھے ہیں۔ تو کیا ان سب پر بھی ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
کچھ اہل علم کے مطابق اس بیان میں کہیں پر بھی اللہ پاک کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ بلکہ لفظ مولا استعمال کیا گیا ہے۔ چونکہ لفظ مولا عربی زبان کے ان الفاظ میں سے ہے جن کے ایک سے زیادہ معانی ہیں۔ بلکہ اس حوالے سے فتویٰ تک موجود ہے کہ یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا ہے اور اس کے مطابق لو کمار کا عقیدہ الگ ہے اور اس طرح اس کا اپنے مولا سے مخاطب ہونا کسی طرح ہمارے اللہ پاک کی شان میں گستاخی کو ثابت نہیں کرتا۔ ایف آئی آر کی بنیاد ہی جھوٹ سے عبارت ہے، کیونکہ مولوی نے اپنی سمجھ کے مطابق رد عمل دیتے ہوئے مرضی کے الفاظ شامل کر کے مقدمہ درج کروایا ہے۔ لیکن اب مسئلہ یہ درپیش ہے کہ دو قومی نظریے، پوسٹ کے متن اور ایف آئی آر میں الجھی گتھی کو سلجھائے کون۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply