میں تمھیں بچانے نہیں آسکا۔۔سلیم فاروقی

ہائیں ہائیں گڈو یہ کیا کر رہے ہو، اپنے ابا کا جوتا پہن کر چل رہے ہو، گر جاؤ گے۔۔ ارے پپو یہ اپنے دادا کا چشمہ مت لگاؤ، ٹوٹ بھی جائے گا اور تمھاری آنکھیں بھی خراب ہو جائیں گی۔

قارئین کرام! اس قسم کی آوازیں اکثر ان گھروں میں سنائی دیتی  ہیں جہاں گڈو میاں، یا پپو میاں اتنے بڑے تو ہوگئے ہیں کہ اپنے قدموں پر چل چل کر پورا گھر فتح کرنا شروع کردیا ہو لیکن ابھی کسی سکول کو شرف باریابی نہیں بخشا ہو۔ یہ گڈو میاں بھی دوسروں کے کہے کو ماننے کی بجائے خود تجربہ کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ کبھی ابو جی کا جوتا پہنتے ہیں اور کبھی دادا کا چشمہ ، اور پھر گڈو میاں اپنے آپ سچی مُچی کا   ابو جی اور دادا میاں سمجھنے لگتے ہیں۔ شاید ایسے ہی کسی گڈو میاں کے خیالات کو رئیس فروغ نے اپنے الفاظ میں کچھ یوں پیش کیا تھا:
ابو کے ابو دادا میاں
اتنے بڑے؟؟؟
جی ہاں، جی ہاں۔۔۔
دادا میاں کے چشمے سے
حرف بڑے ہوجاتے ہیں
ان سے مل کر لوگ بہت
لکھے پڑھے ہوجاتے ہیں
اور ہے ایسا کون سا؟؟؟
بس یہی وقت ہوتا ہے جب اصلی والے ابو جی اور دادا میاں گڈو میاں کو کھیل ہی کھیل میں پڑھانا شروع کر دیتے ہیں۔ کبھی ان کو تصاویر والی رنگین کتب پکڑا دی جاتی ہیں اور کبھی تعلیمی کھلونے۔ اور جب تک گڈو میاں اس کھیل کوسمجھ پائیں ان کا بچپن بچپن میں ہی کہیں کھو چکا ہوتا ہے۔ایک روز ان کو کسی مانٹیسوری سکول کے حوالے کردیا جاتا ہے اور پھر گڈو میاں بڑے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اور مانٹیسوری کے بعد پرائمری سکول سے یونیورسٹی تک وہ نصابی کتب کا مطالعہ کر کر کے کامیاب زندگی کی طرف دوڑنا شروع کردیتے ہیں، ڈویژن، پوزیشن اور گریڈ کی چکی کے پاٹوں میں ایسا رگڑا کھاتے ہیں کہ بائیس چوبیس سال کے بعد ایک اچھے ڈاکٹر، انجنئیر، صحافی، بینکار یا کوئی بھی اچھے پیشہ ور بن کر نکلتے ہیں۔ لیکن کیا یہ اچھے انسان بھی بن پاتے ہیں؟ کیا اچھے مسلمان اور بہترین پاکستانی بھی بن پاتے ہیں؟ بدقسمتی سے اس کا جواب اسی وقت مل جاتا ہے جب یہ منہ ٹیڑھا کرکے بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ”ایکچوئیلی میری اردو بہت ویک ہے، اسی لیے اگر مجھے اردو لکھنی بھی ہو تو رومن میں ہی لکھتا ہوں“۔

لیکن اِن ہی گڈو میاں کے ابو جی بلکہ دادا میاں بھی بہت خوش قسمت تھے جن کے  حصے میں وہ دادا میاں آئے جن کے چشمے سے واقعی حرف بڑے بھی ہوجاتے تھے اور جن سے مل کر بچے ”پڑھے لکھے“ بھی ہوجاتے تھے۔جی ہاں اور ایک نہیں بلکہ دو دو دادا میاں ملے۔ ایک حکیم محمد سعید شہید اور دوسرے حکیم مسعود برکاتی مرحوم۔ تقریباً پینسٹھ سال قبل یعنی 1953ءسے یہ دونوں اکابر ”ہمدرد نونہال“ کی صورت میں آج تک ہر ماہ بچوں کے پاس آتے ہیں، اور ان کو انسانیت و مدنیت کا پیغام دیتے ہیں۔ ہمارا دعویٰ ہے  کہ آج شاید  ہی کوئی پاکستانی محب اردو ہو جو حکیم مسعود برکاتی کا مقروض نہ ہو۔

حکیم سعید شہید نے تو اور بھی بہت سارے محاذ سنبھال رکھے تھے اور ”نونہال“ کا میدان برکاتی صاحب کے حوالے کر رکھا تھا، جنہوں نے اس میدان کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی پوری زندگی اسی کے لیے وقف کردی اور بچوں میں ادب کا وہ شعور پیدا کیا کہ جو بچہ ایک بار اس سے جُڑ گیا، اس میں ادب سے رغبت، ملک سے محبت اور دین سے لگاؤ پیدا ہوگیا۔ اس سلسلے میں معروف محقق اور شاعر جناب عقیل عباس جعفری رقمطراز ہیں کہ
”برکاتی صاحب نے ایک مرتبہ بڑے مزے کا واقعہ سنایا۔ کہنے لگے ہمدرد کی انتظامی میٹنگ جاری تھی۔ اکاونٹنٹ کے پاس ایک موٹی سی فائل رکھی تھی۔ حکیم صاحب نے اسے مخاطب کیا اور پوچھا، اس فائل میں کیا ہے۔ اکاونٹنٹ نے فائل حکیم صاحب کو پیش کی اور بولا ”ہم نے ہمدرد نونہال کی آمدنی اور خرچ کا دس سالہ گوشوارہ بنایا ہے ، اس کے اسٹاف کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات کروڑ سے تجاوز کرچکے ہیں جبکہ آمدنی صرف چند لاکھ ہے۔ یہ رسالہ مسلسل خسارے میں ہے اس لیے ہماری تجویز ہے کہ اسے بند کردیا جائے“، حکیم صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری فائل ایک طرف سرکائی اور اکاونٹنٹ کو مخاطب کرکے بولے ”اس رسالے سے جو منافع ہوتا ہے اسے سمجھنا آپ کے بس کی بات نہیں۔ آگے چلیے“۔

آج کے ادیب و شاعر خواتین و حضرات سے معلوم کر لیجیے کیا ان میں سے کوئی ایسا ہے جس نے ”نونہال“ کے ذریعے برکاتی صاحب سے فیض حاصل نہ کیا ہو، یقیناً  آپ کو ایسی کوئی بھی شخصیت نہیں ملے گی۔ اس سلسلے میں پاکستان میں سو لفظی کہانی کی روایت کے بانی جناب مبشر علی زیدی صاحب کا یہ اعتراف ایک پوری نسل کی ترجمانی کے لیے کافی ہے۔ سماجی رابطے پر لکھتے ہیں۔۔
”چوں کہ میں ایک ناکام اور بے کار شخص ثابت ہوا ہوں اس لیے یہ بتاتے ہوئے مجھے شرمندگی ہورہی ہے کہ میں  سکول اور کالج میں فرسٹ آیا کرتا تھا۔ مجھے ایک موقع کے سوا کبھی سزا نہیں ملی۔میں نے سزا  ملنے کا سو فیصد سچا واقعہ سو لفظوں میں اپنی کتاب نمک پارے میں یوں بیان کیا ہے۔

”عرضی“
میرے بستے سے کہانیوں کی کتابیں نکل آئی تھیں۔
ماسٹر عبدالشکور نے اسمبلی میں پورے  سکول کے سامنے مرغا بنادیا۔
سب کتابیں میری پشت پر رکھ دیں۔
پھر دو بید رسید کرکے بھول گئے۔
سب اپنے اپنے کلاس روم میں چلے گئے۔ مجھے اجازت نہیں ملی۔
مرغا بنے بنے میرے پاؤں سوج گئے۔
رو رو کے آنکھیں بھی سوج گئیں۔
مسعود احمد برکاتی اور اشتیاق احمد  مجھے بچانے نہیں آئے۔
وقت کی برف باری سے میرے بال سفید ہوگئے ہیں۔
اذانیں دے دے کر حلق خشک ہوگیا ہے۔
جھکے جھکے میرا قد رہ گیا ہے۔
ماسٹر جی
اب کھڑا ہوجاؤں؟
میں نے برکاتی صاحب کو اپنی کتاب پیش کی تو وہ ”عرضی“ پڑھ کے سوچ میں ڈوب گئے۔ پھر اپنی بوڑھی، لرزتی آواز میں بولے، ”بیٹے، مجھے افسوس ہے کہ میں تمھیں بچانے نہیں آسکا۔“

قارئین کرام! آج پاکستان میں بچوں کا ادب حقیقی معنوں میں یتیم ہوگیا ہے، اور جب کوئی یتیم ہوجائے تو اس کی جانب کوئی نظرِ کرم کیوں ڈالے؟ اس یتیم کو تو گھر والے بھی پہچاننے سے انکار کرچکے ہیں۔ حتیٰ کہ کراچی میں ہونے والی سالانہ بین الاقوامی اردو کانفرنس نے بھی نظریں پھیر لی ہیں۔ اس سال جو کانفرنس پاکستان کے ستر سالہ یومِ تخلیق کے حوالے سے منعقد ہورہی ہے اس میں سے ”بچوں کا ادب“ بھی نکال باہر کیا گیا ہے۔اس سے قبل اس کانفرنس میں بچوں کے ادب کے حوالے سے باقاعدہ الگ سیشن ہوا کرتے تھے جن میں پاکستان اور ہندوستان کے معروف افراد اس موضوع پر مقالے پڑھا کرتے تھے، لیکن اس سال اس ”یتیم بچے“ کو نکال باہر کیا گیا ہے، بچوں کے ادب کے سلسلے میں کوئی علیحدہ سے پروگرام بھی نہیں رکھا گیا ہے۔ ہمیں یقین ہے جب عالم برزخ میں برکاتی صاحب کو یہ اطلاع ملی ہوگی تو انہوں نے وہیں سے پاکستانی بچوں سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے وہی کہا ہو گا جو مبشر علی زیدی نے بیان کیا ہے۔
“یعنی انہوں نے اپنی بوڑھی، لرزتی آواز میں کہا ہوگا، ”بیٹے، مجھے افسوس ہے کہ میں تمھیں بچانے نہیں آسکا۔“

سلیم فاروقی
سلیم فاروقی
کالم نگار، کہانی نگار، بچوں کی کہانی نگار، صد لفظی کہانی نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *