سماج (13) ۔ بولیاں/وہارا امباکر

زبانیں، بولیاں، لہجے انسانی شناخت کا بڑا اہم حصہ ہیں۔ ہر زبان ان کے بولنے والوں کو دنیا کا ایک ورلڈ ویو دیتی ہے۔ ایک ماہرِ لسانیات کا کہنا ہے کہ “اگر کوئی گروہ اپنی زبان کھو دے تو وہ اپنی الگ شناخت بھی کھو دیتا ہے”۔ یہ کچھ جگہوں پر درست ہو سکتا ہے لیکن ہمیشہ نہیں۔ افریقہ کے پگمی پچھلے تین ہزار سال میں رفتہ رفتہ پہلے اپنی زبانیں کھو چکے ہیں لیکن پگمی سوسائٹی اپنی الگ سماجی شناخت رکھتی ہیں۔ اپنی پرانی زبانوں سے چند الفاظ ہی باقی رہ گئے ہیں جو کہ جنگلی جانوروں اور پودوں کے بارے میں ہیں۔
لیکن زبان شناخت کا اہم حصہ ہیں۔ زبان کا جو لہجہ آپ بچپن میں سیکھ لیتے ہیں، اسے کسی دوسرے کے لئے اپنانا ناممکن ہے۔ اور اس لہجے کی وجہ سے اپنے گروپ کے باہر والے کی پہچان ہو جاتی ہے۔ ایک بچہ بھی کسی کے بولے گئے ایک لفظ سے ہی یہ پہچان کر لیتا ہے۔ اور یہ وجہ ہے کہ زبان کئی بارے سوسائٹی کے لئے جذباتی علامت بن جاتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم میں سے بہت سے لوگ کئی زبانیں بولتے ہیں۔ کئی جگہوں پر ایسا کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ مثلاً، یورپ میں کئی الگ ممالک چھوٹی جگہ پر ہیں۔ عام طور پر لوگ اپنی آبائی زبان کے علاوہ کئی اور زبانوں کو روانی سے بولتے ہیں۔ اپنے ہمسائیوں، تجارتی پارٹنر کی زبان رابطوں کے لئے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ اور یہ نئی جدت نہیں۔ آسٹریلیا کے قدیم قبائل میں کثیر زبانیں بولنے والے بہت سے لوگ ہوتے تھے۔ دوسرے قبائل میں شادیوں کے رواج کا مطلب یہ تھا کہ بہت سے لوگوں کے لئے ان کے والدین کی ایک زبان نہیں ہوتی تھی۔
کئی بار ایک ہی زبان کئی الگ سوسائٹی میں مشترک ہو جاتی ہے۔ مثلاً، برطانیہ، آسٹریلیا اور امریکہ کے الگ معاشرے ایک ہی زبان رکھتے ہیں۔
زبانوں کی مماثلت اور فرق کی سٹڈی سے زیادہ بڑا سوال یہ ہے کہ مختلف معاشروں میں کونسی چیز کو اہمیت دی جاتی ہے۔ سوسائٹی کی ممبرشپ کے لئے بہت سے لہجے قابلِ قبول رہتے ہیں۔
اسی طرح مذہب شناخت کی ایک اور مثال ہے۔ یہ دنیا میں جغرافیائی سرحدوں سے پار دور دراز کے لوگوں کو ایک گروہ کے طور پر شناخت دیتے ہیں۔ اس کا کونسا پہلو اپنے اور غیر میں تفریق کرتا ہے؟ اس پر اتفاق نہیں ہوتا۔ لیکن بڑی حد تک، اور بغیر کسی کنفیوژن کے، لوگ اس کو طے کر لیتے ہیں۔
سوسائٹی کے ممبران ایک ہی سانچے سے نہیں نکلے ہوتے۔ اس میں مماثلت اور فرق کی گنجائش ہوتی ہے۔ کسی کو اس میں آنے کے لئے اس معاشرے کی قابلِ قبول رویوں کی حدود میں رہنا ہوتا ہے۔ اور یہ قدیم طرز زندگی والے معاشروں کے ساتھ بھی ہے۔ سماجی گائیڈلائن ان لکھی اور ان کہی ہوتی ہے۔ اور یہاں پر یہ یاد رہے کہ یہ شخصی آزادی کو محدود کرتی ہے۔ ایک جاپانی کہاوت ہے کہ “جو کیل باہر نکلا ہو، اسے ہتھوڑی سے ٹھونک دیا جاتا ہے”۔
معاشرے اس بارے میں بھی مختلف ہوتے ہیں کہ کتنے فرق کی گنجائش ہے۔ اجتماعیت پسند کلچر میں یہ گنجائش انفرادیت کے کلچر والے معاشروں سے کم ہوتی ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہر جگہ پر رہتی ہے کہ اگر کوئی ایسے رویے کا مظاہرہ کرے جو کہ سماجی روایات سے ہٹ کر ہے تو باقی افراد کو الجھن ہو گی۔ اور اگر ایسا کرنے والا اپنوں میں سے ہے تو یہ کسی foreigner کے مقابلے میں زیادہ ہو گی۔ یہ ردِ عمل “کالی بھیڑ کا اثر” کہلاتا ہے۔ اور یہ معاشرے کے افراد کو غیررسمی لگام ڈال کر رکھتا ہے۔
(جاری ہے)

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply