کالی اور گوری صحافت۔قمر نقیب خان

لگ بھگ بارہ سال پہلے میں کوہاٹ، بنوں اور میرانشاہ کے علاقوں میں گیا تھا. اس وقت پورے بنوں شہر میں عورت ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی تھی، بس کالے نیلے شٹل کاک برقعے تھے. میری والدہ اور بہن نے سادہ شلوار قمیض اور چادر اوڑھ رکھی تھی، ہر شخص میری والدہ اور بہن کو یوں دیکھتا جیسے کسی بیکری میں بچے پیسٹری کو دیکھتے ہیں. پھر یوں ہوا کہ جن کے گھر ہم مہمان گئے تھے انہی کے برقعے استعمال کیے. مجھے ایک ہائی فائی سپیکر سسٹم خریدنا تھا، دوستوں کے ساتھ مین بازار اور سبزی منڈی کی طرف گیا تو یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ میرے دوست پاس سے گزرنے والی عورتوں کے بارے میں ٹھیک ٹھاک جانکاری سے بتا رہے تھے. معلوم کرنے پر پتا چلا کہ یہ عورت کے پیروں اور چال ڈھال سے اس کی عمر، رنگت اور خوبصورتی کا اندازہ لگا لیتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ برقعے کی بناوٹ سے عورت کا علاقہ بھی معلوم کر لیتے ہیں..
اس روز یہ حقیقت عیاں ہوئی کہ پاکستانی اتنے ٹھرکی ہیں کہ عورت کی زرا زرا سی چیزیں بھی نوٹ کر رہے ہوتے ہیں. برَاَ کی سٹرپ نظر آ جائے، ٹائٹ پاجامہ نظر آ جائے، اونچے چاک نظر آ جائیں یا پھر کلیویج نظر آ جائے.. اتنے غور سے اتنے انہماک سے دیکھتے ہیں کہ دنیا و ما فیہا کی خبر بھی نہیں ہوتی.
کراچی میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کا اتفاق ہوا، ایک صاحبہ کا گلا قدرے کھلا تھا، کلیویج اور برا سٹرپ نظر آ رہے تھے، میں اپنی طبیعت سے مجبور ان صاحبہ کی طرف پیٹھ پھیر کر بیٹھ گیا. یوں آنے جانے والوں کے چہرے پڑھنے میں بھی آسانی ہوئی. کئی لوگ دس بیس مرتبہ وہاں سے گزرے، گزرتے گزرتے اس عورت کے آگے پیچھے دائیں بائیں ہر طرف سے گردن اٹھا اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کرتے کہ شاید کلیویج کے ساتھ ساتھ کچھ اور بھی نظر آ جائے.. بہرحال وہ میرے لیے بہت ہی برا تجربہ تھا
کل ایک بار پھر مجھے تقریباً اسی کیفیت سے گزرنا پڑا، معاصر سوشل بلاگنگ ویب سائٹ”ہم سب” کےایڈمن چاہتے تو عمران اور جمائما کو شادی کے مشورے کے لیے ان دونوں کی کوئی ڈیسنٹ تصویر لگا سکتے تھے، مگر انہوں نے بھی پاکستانی ٹھرکی مردوں کی طرح جمائما کی کلیویج لگانا اور بوائے فرینڈ کے ساتھ تصویر لگانا ہی بہتر سمجھا..
اس کے پیچھے چھپی ذہنیت جاننے کے لیے آپ کو افلاطون یا ارسطو کا دماغ نہیں چاہیئے، مجھ جیسا خر دماغ پٹھان بھی سمجھ سکتا ہے کہ ویب سائٹ کی ٹریفک بڑھانے کے لئے تصویر لگائی گئی ہے. میں اس ویب سائٹ کی ایڈمنسٹریشن کو کوئی مشورہ نہیں دوں گا، ایڈمنسٹریشن ماشاءاللہ سے پہلے ہی بہت سمجھدار ہے. میں تو صرف اپنے  قارئین کو ہی اچھی  تصاویر دکھاؤں گا تاکہ وہ کالی صحافت اور گوری صحافت کا فرق پہچان سکیں…

قمر نقیب خان
قمر نقیب خان
واجبی تعلیم کے بعد بقدر زیست رزق حلال کی تلاش میں نگری نگری پھرا مسافر..!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *