مثنوی معنوی از مولانا رومؒ ۔ قسط نمبر 2 ۔ لالہ صحرائی

حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ

سوانح حیات حصہ دوئیم

تحریر : لالہ صحرائی

 مولانا روم نے جب شمس بابا کی ہم نشینی اختیار کرلی تو اہلِ قونیہ ایک ہردلعزیز اور معتبر عالمِ دین کی ہم نشینی سے محروم ہو گئے، اسی بات کو لے کر انہوں نے شمس صاحب کے خلاف ایک شورش کھڑی کر دی جس کے پیشِ نظر شمس تبریز صاحب قونیہ چھوڑ کر دمشق چلے گئے۔

 شمس بابا کے جانے کا مولانا روم کو گہرا رنج پہنچا تو اہلِ شہر کو بھی بابا کے خلاف اپنے رو یے پر سخت ندامت ہوئی، پھر کچھ لوگ ان کی تلاش میں نکلے، مولانا کے بڑے صاحبزادے سلطان ولد کی قیادت میں ایک قافلہ مولانا کا منظوم مکتوب لے کر دمشق کی طرف روانہ ہوا، اس خط سے متاثر ہو کر شمس بابا دوبارہ قونیہ تشریف لاۓ اور دو سال یہاں مقیم رھے۔

 شمس تبریز صاحب اس کے بعد کب اور کہاں گئے اس کے بارے میں تاریخ کوئی حتمی معلومات نہیں رکھتی تاہم یہ بھی کہا جاتا ھے کہ مولانا روم کے دوسرے صاحبزادے علاؤالدین چلپی کے رو یے سے آزردہ ہو کر اب کی بار وہ اپنا پتا ٹھکانہ بتاۓ بغیر چلے گئے تھے۔

 علاوالدین کو شمس بابا سے کچھ گہری چپقلش تھی جس کی وجہ ایک خاص واقعہ تھا، وہ واقعہ میں بیان نہیں کرنا چاہتا کہ مجھے اس کے سچا ہونے پر کوئی دوسری گواہی نہیں مل سکی، محض ایک جگہ اس واقعے کا بیان ھے، اسی چپقلش کے پیش نظر بعض کا کہنا ھے کہ وہ علاؤالدین کے ہاتھوں شہید ہو گئے تھے، بعد ازاں علاوالدین بھی کسی مرض میں تڑپ تڑپ کر فوت ہوگئے، مولانا روم نے چونکہ اس سے قطع تعلق کر لیا تھا اس لئے اس کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی۔

 مولانا صاحب، شمس بابا کے بعد درد جدائی سے ایک عرصہ تک بے حال رھے اور اسی حال میں جنگلوں اور وادیوں میں گھومتے رھے، وہ کبھی کبھی شہر آتے اور پھر واپس چلے جاتے لیکن ایک دن ایک عجیب واقعہ پیدا ہوا جس کے بعد مولانا صاحب کو کچھ درد مند ساتھی میسر آگئے، اس کے بعد وہ باقاعدہ شہر میں سکونت اختیار کر گئے یہ واقعہ قونیہ کے صدر بازار میں اس وقت پیش آیا جب آپ صلاح الدین زرکوب کی دکان پر پہنچے، یہ ایک انہونا وجد تھا اور اسی وجد کے بعد انہوں نے آستانہ قائم کیا اور وجدانی محفلیں جاری ہوئیں۔

 صلاح الدین زرکوب کی دکان پر وجد کا آغاز

 شمس بابا کے بعد مولانا صاحب کا کوئی ھمراز اور ھم رکاب نہ تھا جو ان کی قلبی کیفیات کو سمجھ سکتا جو عین عشقِ الہی میں ھر وقت رواں رھتی تھیں، تاھم ایک دن گھومتے گھومتے پھر شہر کی طرف آ نکلے، آپ صدر بازار سے گزر رھے تھے، جب صلاح الدین زرکوب کی دکان سے ذرا آگے نکلے تو ایک آواز نے آپ کے قدم روک لئے، اسی آواز نے دوبارہ مخاطب کیا تو آپ واپس مڑے اور صلاح الدین زرکوب کی دکان کے سامنے کھڑے ھو گئے، وہ آواز مسلسل آپ سے ھی مخاطب تھی اور حیرت دیکھئے کہ وھی آواز سارا دن اس بازار میں صلاح الدین زرکوب کی دکان سے اٹھتی تھی مگر کبھی کسی نے اس پر کان نہیں دھرا حتیٰ کہ خود صلاح الدین زرکوب بھی اس آواز کے اس مفہوم سے نا آشنا تھے حالانکہ وہ بھی ایک صاحبِ طریقت انسان تھے اور سید برھان الدین محقق سے ھی تعلیم یافتہ اور بیعت تھے جن سے مولانا نے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔

 صلاح الدین اپنی دکان میں چاندی اور سونے کے ورق بناتے تھے جو ادویات اور مٹھائیوں پر لگاۓ جاتے ھیں، یہ صدیوں پرانا فن ھے، یہ ورق سازی لکڑی کے اڈے پر ھوتی تھی جہاں سونے چاندی کی پتری یا ڈلی رکھی جاتی اور لکڑی کے ہتھوڑے سے اسے کوٹا جاتا اور وہ پستے پستے اوراق کی شکل اختیار کرتی جاتی تھی۔

 چاندی کے ورق کوٹتے ھوۓ ایک ٹھک کی آواز ابھرتی ھے اور اسی آواز نے مولانا صاحب کے قدم روکے تھے، یہ آواز بارِ دگر گونجی تو مولانا صاحب نے حق کا نعرہ لگایا، صلاح الدین زرکوب نے سر اٹھا کر مولانا صاحب کو دیکھا تو مسکراۓ اور ساتھ ھی ایک پر شوق ہتوڑا پھر اڈے پر دے مارا، پیر رومی نے بھی دوبارہ حق کا نعرہ بلند کیا اور پھر یہ ایک ردھم بن گئی، ادھر صلاح الدین زرکوب ایک خاص ترتیب سے ہتھوڑا چلاتے گئے اور ٹھک ٹھک ٹھک ٹھک کی آواز آتی گئی اور ادھر مولانا صاحب حق حق حق حق کا نعرہ لگاتے گئے

 یہ ٹھک ٹھک حق حق، ٹھک ٹھک حق حق لمحہ بہ لمحہ نہ صرف بلند ھوتی گئی بلکہ ارد گرد کے لوگ، اہل بازار اور آمدورفت والے سب آہستہ آہستہ صلاح الدین زرکوب کی دکان پر اکٹھے ھوتے گئے۔

 اہلِ بازار مولانا کی آواز میں آواز ملاتے گئے اور صدرالدین زرکوب کے شاگرد اپنے اپنے ہتھوڑے لے کر استاد کے ساتھ شامل ہو گئے، یوں پورا بازار ٹھک ٹھک حق حق ٹھک ٹھک حق حق کے نغمے سے گونجنے لگا اور ایک ایسا وجد آفرین سماں پیدا ھوا کہ لوگ اپنے ھوش و حواس کھو بیٹھے، ھر کسی پر ایک جنون طاری تھا، لوگوں نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے، ایک لے تھی ایک جزبہ تھا، اک راگ تھا کہ تھمنے میں نہیں آ رھا تھا اور یہ سلسلہ تقریباً بعد از دوپہر شروع ھوا تو عصر کی اذان تک چلتا رھا، مولانا ہوں یا صدرالدین، عام ہوں یا خاص، راہ گیر ہوں یا دکاندار سب کے سب پسینے میں شرابور تھے اور بازار کی فضائیں حق حق کی صداؤں سے گونج رہی تھیں، جیسے ہی عصر کی اذان شروع ہوئی تو صدرالدین زرکوب ہتھوڑا پھینک کر باہر آ گئے اور مولانا سے لپٹ گئے یہی حال باقیوں کا تھا سب ایک دوسرے سے گلے لگ کے رو رھے تھے، صدرالدین زرکوب نے اپنی دکان شاگردوں کے حوالے کی اور پیرِ رومی کے ساتھ ان کے آستانے پر چلے آۓ۔

 اس موقع پر پیرِ رومی نے یہ شعر کہا اور مسلسل یہی دھراۓ جا رھے تھے

یکے گنجے پدید آمد از دکانِ زرکوبی —– زھے صورت، زھے معنی، زھے خوبی زھے خوبی

 اس زرکوبی کی دکان سے ایک خزانہ مل گیا

عجب صورت، عجب معنی، عجب خوبی، عجب خوبی چند سال بعد صلاح الدین زرکوب 662 ہجری میں انتقال کر گئے، ان کے بعد تقرب خاص حسام الدین چلپی صاحب کے حصے میں آیا جو معتمد خاص بنے اور آخر دم تک آستانے کا نظام وہی سنبھالتے رھے، حسام الدین چلپی نے ایک دن فرمائش کی کہ حضرت مولانا ایک مسلسل کلام ارشاد کیجئے جو مثنوی کی طرز کا ہو، اس دور میں کہیں کہیں مثنوی کی صنف میں لکھنے کا رواج موجود تھا۔ مولانا صاحب سے پہلے اور بعد میں کئی صاحبان شعور نے مثنویاں لکھی ہیں ان میں بوعلی قلندر صاحب بھی شامل ہیں، چنانچہ حسام الدین چلپی کی فرمائش پر کچھ عرصے بعد مثنوی کی تحریر کا آغاز ہوا۔

حضرت مولانا صاحب نے مثنوی شریف میں حسام الدین کا تزکرہ بارہا کیا ھے، مثنوی کے بیشتر باب انہوں نے حسام الدین کو مخاطب کرکے شروع کئے ہیں یا کہیں نفسِ مضمون میں انہیں مخاطب کیا لیکن جہاں جہاں بھی انہوں نے حسام الدین چلپی سے کلام کیا وہ انکی محبت کا خاص مظہر ھے اگر یہ کہا جاۓ کہ صحیح معنوں میں حسام الدین چلپی ہی مثنوی تخلیق کرانے کا باعث تھے تو بے جا نہ ھوگا، حسام الدین بھی پیرِ رومی سے بے پناہ عقیدت رکھتے تھے وہ مولانا صاحب کے وضو خانے میں وضو کرنے کو بھی بے ادبی تصور کرتے تھے اور بعض اوقات برف باری کے وقت بھی اپنے گھر جا کے وضو کر کے آتے تھے

پیر رومی کا ذریعہ معاش

حاکم وقت کی طرف سے آپ کو اوقاف سے پندرہ ہزار دینار ماہوار وظیفہ ملتا تھا، ایسا وظیفہ شیخ صدرالدین قونوی کو بھی ملتا تھا بلکہ ان کو بہت زیادہ ملتا تھا، آپ نے فرمایا یہ میں مفت میں نہیں لوں گا اس کے بدلے میں مجھ سے کوئی کام لے لو تو پھر مجھ پر حلال ہیں چنانچہ طے یہ ہوا کہ اس کے بدلے آپ ضرورتمند عوام کو فتویٰ لکھ کے دیا کریں، آپ کا حکم تھا کہ میں کسی حال میں بھی ہوں اگر کوئی سائل کوئی مسئلہ پوچھنے آئے تو فوراً مجھے خبر کرو تاکہ مشاہرہ حلال ہو، جب کبھی آپ وجد میں ہوتے تب بھی شاگرد حضرات اس حکم کے پیش نظر قلم دوات ساتھ رکھتے مبادا کہیں ضرورت پڑ جائے، ایک بار آپ نے حالت وجد و سرور میں کسی سائل کو فتویٰ لکھ کے دیا جس کی ایک عالم نے تغلیط کر دی تو مولانا نے فرمایا فلاں کتاب کے فلاں صفحے پر یہ جواب موجود ھے، جب چیک کیا گیا تو مولانا صاحب کا جواب درست نکلا۔

پیر رومی کی سخاوت

حضرت مولانا ہمیشہ ایسا کرتہ یا جبہ پہنتے تھے جو عبا کی طرح سامنے سے کھلا ہوتا تاکہ اتارنے میں دقت نہ ہو، جب بھی کوئی سائل آتا آپ کرتہ یا جبہ جو بھی پہنا ہوتا اتار کے اس کے حوالے کر دیتے، اس سخاوت کے باعث گھر میں اکثر کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا، نذرانے میں جو کچھ کھانے پینے کی اشیاء آتیں تو اہل محفل میں تقسیم کر دیتے، اس کے بعد بھی کچھ بچتا تو صلاح الدین زرکوب یا حسام الدین چلپی کے گھر روانہ کر دیتے، سلطان ولد ایسے مواقع پر اکثر یاد دلاتے کہ ابا جی اپنے گھر میں بھی کچھ نہیں ھے کچھ گھر میں بھی بھیج دیں۔

پیر رومی کا مزاج

حضرت مولانا کا مزاج بہت ملائم اور شگفتہ تھا، لوگ ان سے بات کر کے بہت خوش ہوتے تھے، ایک بار آپ بازار سے گذرے تو لوگوں نے آپ کو گھیر لیا اور آپ کے ہاتھ چومنے لگے، آپ بھی جواباً ان کے ہاتھ پر بوسہ دیتے رھے ایک لڑکے نے آواز لگائی مولانا حضرت میرا انتظار کریں میں اس کام سے نکل کر آپ سے ملتا ہوں، آپ تا دیر اس کا انتظار کرتے رھے تاکہ اس کا دل نہ ٹوٹے۔

تواضع اور انکساری کا یہ عالم تھا کہ گالیاں دینے والے مخالفین بھی ان کی منکسرالمزاجی دیکھ کر شرمندہ ہو جاتے تھے، سراج الدین قونوی بڑے رتبے کے فاضل تھے لیکن پیر رومی سے چشمک اور ملال رکھتے تھے، انہوں نے اپنے ایک مستعد شاگرد کو بھیجا کہ مولانا سے پوچھنا، کیا واقعی یہ آپ کا قول ھے کہ میں تہتر مذاہب سے متفق ہوں، اگر وہ اقرار کریں تو ان کی خوب خبر لینا، مولانا نے اس شاگرد کا سوال سن کر فرمایا ھاں یہ میرا ہی قول ھے، اس شاگرد نے جواب سن کر گالیاں دینا شروع کر دیں تو پیر رومی نے فرمایا ھاں میں تمھارے ساتھ بھی متفق ھوں، اس پر وہ شرمندہ ھو کے چپ ھو گیا۔

ایک بار بازار میں دو بندے لڑ رھے تھے، ایک نے دوسرے سے کہا اگر تم مجھے ایک گالی دو گے تو میں تمھیں دو گالیاں دوں گا، دوسرا بھی کچھ اسی قسم کے جذبات کا اظہار کر رھا تھا، پیر رومی نے ان دونوں سے مخاطب ہو کر کہا، تم مجھ سے کہہ لو جو کہنا ہے ورنہ تمہاری لڑائی ختم نہیں ہو گی، اگر تم مجھے ھزار گالیاں دو گے تو میں جواب میں ایک بھی نہیں دوں گا، ان دونوں نے شرمندہ ہو کر معذرت کرلی اور آپس میں صلح کرلی۔

ایک بار قاضی القضاء کسی عالم کو قاضی مقرر کرنا چاہ رھا تھا اس عالم نے آ کر بتایا کہ میں ہر شرط پر پورا اترتا تھا لیکن رباب پر کام رک گیا، قاضی کو رباب پسند نہیں اور انہیں پتا چل گیا کہ میں آپ کے پاس بیٹھ کر رباب سنتا ہوں، آپ نے فرمایا چلو اچھا ہوا، یہ رباب کی ایک ادنیٰ سی کرامت ہے کہ اس نے تمہیں ایک مشکل عہدے کی بھینٹ چڑھنے سے بچا لیا۔

ایک دن فرمایا رباب کی آواز بہشت کے دروازے کی آواز ھے جو ھم سنتے ہیں، اس پر ایک سماع کے منکر نے کہا کہ رباب سن کر جس قدر مولانا گرم ہوتے ھیں ایسا ھمیں تو کچھ محسوس نہیں ہوتا، آپ نے فرمایا ھم دروازہ کھلنے کی آواز سنتے ہیں اور وہ دروازہ بند ھونے کی آواز سنتا ھے۔

پیر رومی کی ایک خاص کرامت

ہلاکو خان نے بغداد تباہ کرنے کے بعد نیشاپور پر حملہ کیا، اس حملے میں خواجہ فریدالدین عطار جو تذکرہ اولیاء کے مصنف ہیں انہیں بھی شہید کر دیا گیا، خواجہ نجم الدین کبریٰ جو بلند پایہ بزرگ تھے وہ بھی اپنی خانقاہ سے باہر نکلے اور شمشیر بکف لڑتے ھوئے شہید ھو گئے، تصوف کی ایک کتاب میں یہ بھی لکھا ھے کہ ھلاکو خان شیخ نجم الدین کبریٰ کی بددعا سے ھی آیا تھا کیونکہ ان کے ایک خلیفہ خواجہ حمید الدین کو بادشاہ نے قتل کروا دیا تھا، خواجہ حمید الدین انہیں اس قدر محبوب تھے کہ انہوں نے شدت جذبات میں ساری بساط ہی لپیٹ دی، اس بددعا میں انہوں نے اپنے سمیت کسی کو بھی نہیں بخشا تھا

اسی ایڈونچر میں ہلاکو خان نے ایک لشکر قونیہ پر حملے کےلئے بھی بھیج دیا، اہل روم اس لشکر کی کارگزاریاں سن کر لرز رہے تھے، جب شہر کا محاصرہ ہو گیا تب اہل شہر اور امراء نے جا کر مولانا روم سے منت کی کہ اس وبال سے بچنے کی دعا کریں، رومی حاکم مولانا کے بہت قدر دان تھے اس لئے مولانا روم اٹھ کر لشکر کی طرف چل دیئے، کئی لوگ آپ کے پیچھے پیچھے تھے، راستے میں آپ نے فرمایا تم سب واپس چلے جاؤ۔

پھر آپ نے تن تنہا اس ٹیلے پر جا کے نفل پڑھنا شروع کر دیئے جس کے پار لشکر کا پڑاؤ تھا، تاتاری سپاہیوں نے اپنے سامنے ٹیلے پر کسی کو نماز پڑھتے دیکھا تو طیش میں آگئے، انہوں نے تیر کمانوں میں چڑھائے مگر ان سے کمانیں کھینچی نہ گئیں، تلواریں سونت کر گھوڑوں پر چڑھے مگر گھوڑے نہ ہلے، لشکر میں بے چینی کی آوازیں سن کر امیرِ لشکر پیچو خان اپنے خیمے سے باھر آیا، باھر کا منظر دیکھ کر اسے اپنے سپاھیوں پر بھی طیش آ رھا تھا جو تیر نہ چلا سکے اور گھوڑا آگے نہ بڑھا سکے، اس نے ایک سپاہی سے تیرکمان چھین کر نہایت غصے سے تیر چلایا جو کمان سے تو نکل گیا مگر مولانا کے پاس سے گزر گیا، پیچو خان کے بارے میں مشہور تھا کہ اس کا تیر کبھی خطا نہیں کرتا، لیکن جب پے درپے اس کے متعدد تیر خطا ہوئے تو شرمندگی سے اس کا برا حال تھا، اس نے گھوڑے پر بیٹھنا چاھا تو اس کے پاؤں زمین میں دھنس گئے اور وجود ساکت ھو گیا۔

پیچو خان نے اس موقع پر کہا، اے عظیم ساحر میں معافی چاہتا ہوں، مجھے معاف کر دو، اگر آپ مجھے معاف کر دو گے تو میں اسی وقت لشکر لے کر واپس ہو جاؤں گا، اسے نجات ملی تو وہ فوراً لشکر لےکر واپس ہو گیا یوں اہل قونیہ اس افتاد سے بچ گئے۔

پیر رومی کا وصال

سن 672 ھجری میں قونیہ میں ایک خاص شدت کا زلزلہ آیا جس کے جھٹکے چالیس روز تک جاری رھے، لوگوں نے پریشان ھو کر مولانا رومی سے دعا کےلئے عرض کی تو آپ نے فرمایا “زمین بھوکی ھے، اسے کوئی ترنوالہ چاھئے اور انشاءاللہ کامیاب ھوگی” چند روز بعد آپ کی طبیعت ناساز ہو گئی اور اطباء کی سر توڑ کوششوں کے باوجود افاقہ نہ ھوا، شیخ صدرالدینؒ قونوی مزاج پرسی کے لئے آۓ تو حالت دیکھ کر سخت بے قرار ھو گئے اور مولانا کی شفا کے لئے دعا کرنے لگے، پیرِ رومی نے جب دعائیہ کلمات سنے تو کہا، شفا آپ کو مبارک ہو، محب اور محبوب میں صرف ایک پیرہن کا پردہ رہ گیا ھے، کیا آپ نہیں چاھتے کہ وہ پردہ بھی اٹھ جاۓ اور نور، نور میں جا ملے، پھر اہلِ مجلس سے فرمایا اے لوگو آپ مجھے یہاں رکھنا چاھتے ہو اور شمس الدین تبریزی مجھے وہاں بلا رھے ہیں، پھر ایک توقف کے بعد کہا یاد رکھو اس طرف جانا ہی بہتر ھے جو خدا کی طرف بلاۓ، شیخ صدرالدینؒ روتے ہوۓ اٹھ کر چلے گئے، وہ سمجھ گئے تھے کہ پیرِ رومی کا دم واپسی جلد ہی متوقع ھے۔

عالم اسلام کا مینارہء نور اور علم و ادب کا روشن ستارہ 5 جمادی الثانی بروز یکشنبہ 672 ہجری مغرب کے وقت قونیہ کو خیرباد کہہ کر افق عالم کے اس پار چلا گیا اور اس سے اگلی شام کو آپ کا جسد خاکی قونیہ کی سر زمین میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے روپوش ہو گیا۔

پیر رومی کا جنازہ صبح کے وقت اٹھایا گیا تھا لیکن رش کے باعث جنازہ گاہ میں شام کو پہنچا، وصیت کے مطابق شیخ صدرالدینؒ قونوی جنازہ پڑھانے کو کھڑے ہوئے لیکن شدت جذبات و غم سے بے ہوش ہو گئے، پھر قاضی سراج الدین صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی، مولانا صاحب کا تابوت جس صندوق میں رکھا۔

مولانا صاحب کا تابوت جس صندوق میں رکھا گیا تھا وہ راستے میں چند بار بدلا گیا پھر ان صندوقوں کے تختے ٹکڑے ٹکڑے کرکے تبرکاً تقسیم کئے گئے۔

بادشاہ وقت کے علاوہ ہر قسم کے لوگ جنازے میں شامل تھے یہاں تک کہ بعض عیسائی اور یہودی مبلغین بھی تھے جو اپنے صحیفے اٹھائے کچھ اوراد پڑھتے جا رھے تھے، بادشاہ نے دریافت کیا کہ حضرت رومی سے تمھیں کیا نسبت ھے تو انہوں نے کہا وہ ہمارے بھی محبوب تھے۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ہر کسی سے محبت کا رویہ رکھتے تھے، مولانا روم اپنے دیوان شمس میں ایک نظم، چرواھے کی دعا، میں کہتے ھیں

، محبت کا مذہب تمام مذاہب سے الگ ہے، خدا کے چاہنے والوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، سوائے خدا کے۔

ہر سال 17 دسمبر کو آپ کا عرس”شب عروس” کے نام سے منایا جاتا ھے، آپ کی قبر شریف پر یہ کتبہ لکھا ہوا ھے

جب میں مر جاؤں تو میرا مزار زمین پر نہیں، بلکہ لوگوں کے دلوں میں ڈھونڈنا

پیر رومی کے جانشین

لوگوں نے پوچھا آپ کا جانشین کون ہوگا تو آپ نے حسام الدین چلپی کا نام لیا، جب آپ کے بیٹے کے بارے میں پوچھا تو فرمایا وہ پہلوان ھے اسے وصیت کی ضرورت نہیں، شیخ حسام الدین چلپی دس سال تک آستانے کا نظام چلاتے رھے، ان کی وفات 682 ہجری میں ہوئی ان کے بعد خانقاہ کا نظام حضرت مولانا کے بیٹے سلطان ولد نے سنبھالا، مولانا کے فیض یافتگان نے بعد کے ادوار میں قونیہ کے علاوہ قسطنطنیہ، مصر اور شام میں بھی اپنی خانقاہیں قائیم کیں جہاں مثنوی کا درس اور درویشی رقص بھی رائج ہوا، مولانا صاحب اور ان کے پیروکاروں کا طریق شمس بابا کے طریق پر ٹھہرا رہا ھے جو قلندری طریق کہلاتا ھے۔

پیر رومی کے معاصرین

ماہر ریاضیات محقق طوسی، شیخ سعدی، صاحبِ تذکرۃالاولیاء خواجہ فرید الدین عطار، بانی سلسلہ سہروردیہ اور شیخ سعدی کے پیر و مرشد شیخ شہاب الدین سہروردی، شیخ محی الدین ابن عربی، شیخ صدرالدین قونوی جو ابن عربی کے خلیفہ اکبر اور ان کی تصنیفات کے مفسر تھے وہ مولانا کے انتہائی قریبی دوست بھی تھے اور قونیہ میں ہی رہائش رکھتے تھے، وہ نماز جنازہ میں بھی شریک تھے، یاقوت حموی، شاذلی ابن الاثیر، مؤرخ ابن الفارض، عبدالطیف بغدادی، نجم الدین رازی، ابن القفطی صاحب تاریخ حکماء اور بوعلی قلندر صاحب رحمۃاللہ تعالٰی عنہم آپ کے معاصرین میں شامل ہیں، ان میں سے بیشتر کے ساتھ پیر رومی کی ملاقاتیں ہوئی تھیں جبکہ چند ایک ان کے قریبی دوست تھے، حضرت بوعلی قلندر صاحب کافی عرصہ تک قونیہ میں حضرت مولانا کی خدمت میں موجود رھے ہیں۔

مابعد الزماں تعلق

مولانا حضرت نے آخری دنوں میں اپنے حلقہء ارادت سے فرمایا، منصور کی روح نے ڈیڑھ سو سال بعد خواجہ فرید الدین عطار کی روح پر تجلی کی تھی، تم جس حالت میں بھی رہو میرے ساتھ رہنا اور مجھے یاد کرنا تاکہ میں تمھارا مددگار و معاون بنوں گا خواہ کسی لباس میں بھی ہوں گا تمہارے ساتھ تعلق رھے گا۔

علامہ اقبال خود کو مریدِ ہندی اور مولانا جلال الدین کو پیرِ رومی کہتے تھے، سن انیس سو ساٹھ عیسوی کی دہائی میں حکومتِ ترکی نے علامہ اقبال کی اس گہری محبت کے اعتراف کے طور پر حضرت مولانا روم کے قریب علامہ اقبال کی علامتی قبر بنا رکھی ہے جس پر یہ الفاظ کنندہ ہیں۔

پاکستان کے ملی شاعر علامہ محمد اقبال عزیزِ مُرشدی

ہم خو گرِ محسوس ہیں ساحل کے خریدار

اک بحر پُر آشوب و پُر اسرار ہے رومی .اقبال

صحبت پیر روم سے مجھ پر ہوا یہ راز فاش

 لاکھ حکیم سر بہ حبیب ایک کلیم سر بکف ۔ اقبال

ماخذ کتب: دیباچہ مثنوی معنوی ، سوانح مولانا روم از شبلی نعمانی، نفحات الانس از مولانا جامی، مناقب العارفین، سوانح مولانا روم از محمد فتح اللہ گلین
ترکش دانشور و ماہر تعلیم

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”مثنوی معنوی از مولانا رومؒ ۔ قسط نمبر 2 ۔ لالہ صحرائی

  1. ملتان میں جس جو ”شمس تبریزی“ مدفون ھیں کیا وہ یہی بزرگ ھیں کیونکہ ”خان آصف“ اپنی تصنیف ” اللہ کے سفیر“ میں اس طرف اشارہ کر رھے تھے ۔۔

    1. نہیں صاحب اس پر طوالت کی وجہ سے کلام نہیں کیا، ملتان والے شمس صاحب کا مکمل تعارف موجود ھے جس کی بنا پر کوئی اشارہ بھی نہیں ملتا کہ وہ حضرت رومیؒ کے مرشد ھیں، اس پر تفصیلی گفتگو مثنوی شریف کے دیباچے میں موجود ھے، خان آصف ایسا نہیں کہہ سکتے اگر ایسا اشارہ کیا ھے تو انہیں کوئی مغالطہ ھو سکتا ھے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *