سماج (6) ۔ داخلے کی کنجی

یہ فرض کر لینا آسان ہے کہ چیونٹیوں کے کالونی مارکر سمیت تمام ایکشن جینیاتی طور پر جامد ہوتے ہیں۔ لیکن یہ اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ جینیات میں ایک خاکہ موجود ہوتا ہے۔ سماجی کیڑوں کے رویوں میں انسان جیسی لچک نہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ بالکل بھی لچکدار نہیں۔
اور اپنی قومی بو سے شناخت سیکھنا بھی ایک حد تک سیکھا جاتا ہے۔ اس کی مثال غلام بنانے والی چیونٹیوں کی ہے۔ چیونٹیوں کی پچاس انواع ایسی ہیں جو دوسری کالونیوں پر اس لئے جارحانہ حملہ کرتی ہیں کہ وہاں سے غلام جا سکیں جو انہیں اپنے گھر میں مشقت کے لئے درکار ہوتے ہیں۔ اور یہ حملہ عام طور پر دوسری نوع کی چیونٹیوں پر کیا جاتا ہے۔ بڑی عمر کی چیونٹیاں تو ان کے کام کی نہیں۔ کیونکہ بالغ چیونٹیاں مر جائیں گی لیکن دوسری شناخت قبول نہیں کریں گی۔ لیکن غلام بنانے والی کالونیوں کے بچوں کو اٹھا لے جاتی ہیں۔ خاص طور پر پیوپا کو۔ پیوما میں ابھی کالونی کی بو نہیں آئی ہوتی۔ یہ جب چیونٹی بنتا ہے تو پھر اپنی سوسائٹی کی قومی بو کو سیکھتا ہے۔ لیکن اغوا ہو جانے کے بعد ان پر اغوا کنندگان کے نشانوں کی پہچان ہو جاتی ہے۔
کبھی کبھار غلام بن جانے والی چیونٹی کو پتا لگ جاتا ہے کہ کچھ گڑبڑ ہے اور یہ بھاگنے کی کوشش کرتی ہے لیکن اس کو اغوا کرنے والے اسے زبردستی واپس لے آتے ہیں۔
چیونٹی صرف جینیات پر چلنے والی کٹھ پتلی نہیں بلکہ adaptable دماغ بھی رکھتی ہے۔ اور اس کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ کئی کالونیوں سے آنے والے غلام اکٹھے ملکر کام کرتے ہیں، اگرچہ ان کی بو یکساں نہیں۔ یہ نوعمری میں سیکھا گیا رویہ ہے۔ اور اس کی وجہ سے یہ سوسائٹی ہم آہنگی سے کام کرتی رہتی ہے۔
کم سن چیونٹیاں جس ماحول میں رہتی ہیں، اس کی وجہ سے ان کی بو میں تبدیلی آتی ہے۔ اور اس کا ایک غیرمتوقع نتیجہ ہوتا ہے۔ اگر کبھی کوئی غلام بھاگ جائے اور واپس اپنے آبائی گھر پہنچ جائے جہاں پر اس کے ساتھی اور بہنیں ہیں تو پھر اس کے ساتھ ویسا سلوک ہو گا جو دشمن کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ ان کی ٹریجڈی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
قومی نشان حاصل کر لینا شہر میں داخلے کی کنجی ہے اور یہ غداروں کو داخلے کی اجازت بھی دے سکتا ہے۔
ایک مکڑی کی نوع Myrmaplata palataleoides ہے۔ یہ مکڑی جالا نہیں بناتی بلکہ ویور چیونٹیوں کی شناخت چراتی ہے۔ اس کا طریقہ چیونٹیوں کو پکڑ کر ان کی بو جذب کرنے کا ہے۔ قومیت کا نشان اوڑھ کر یہ چیونٹیوں کے بل میں بلاروک ٹوک جا سکتی ہے۔ یہاں پر ان کے لاروے چھین کر کھاتی ہے اور اسے کچھ نہیں کہا جاتا۔
لیکن اس میں ایک خطرہ بھی ہے۔ اگر یہ کسی غلط بِل میں گس جائے تو اس پر چیونٹیوں کی فوج کی طرف سے حملہ کر دیا جاتا ہے۔ مکڑی سمجھ کر نہیں، بلکہ دشمن چیونٹی کے طور پر۔
اور دوسری نوع کے مقابلے میں اپنی نوع سے جنگ میں زیادہ خونخواری دکھائی جاتی ہے۔
(جاری ہے)

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply