مُجھ کو دیارِ غیر میں مارا وطن سے دُور/پروفیسر عامر زرین

18 دسمبر 1990ء کو جنرل اسمبلی نے تمام مہاجر مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کے حقوق کے تحفظ کے بین الاقوامی کنونشن پر ایک قرارداد منظور کی۔تارکین وطن /مہاجرین کے عالمی دن کو لاکھوں تارکین وطن کی طرف سے اپنے میزبان اور آبائی ممالک کی معیشتوں میں دیے گئے تعاون کو تسلیم کرنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو ان کے بنیادی انسانی حقوق کے احترام کو فروغ دیتا ہے۔ یقینا یہ سوال بہت سے لوگوں کے ذہن میں ہوگا کہ لوگ اپنے آبائی علاقوں یا ملکوں سے ہجرت کیوں کرتے ہیں؟ اس کے جواب میں تمام عوامل انتہائی سادہ اور سیدھے سادھے ہیں کہ کچھ لوگ کام یا معاشی مواقع کی تلاش میں، خاندان میں شامل ہونے، یا تعلیم حاصل کرنے کے لیے منتقل ہوتے ہیں۔ دوسرے تنازعات، ظلم و ستم، دہشت گردی، یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بچنے کے لیے دیارِ غیر میں منتقل ہوتے ہیں۔ اب بھی دوسرے لوگ موسمیاتی تبدیلیوں، قدرتی آفات، یا دیگر ماحولیاتی عوامل کے منفی اثرات کے باعث ہجرت کرتے ہیں۔
دُنیا بھر میں ہر سال 18 دسمبر کو مہاجرین کا عالمی دن منانے کا مقصد تمام تارکین وطن مزدوروں اور ان کے خاندانوں کے ارکان کے حقوق کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی کنونشن (A/RES/45/158) کے UNGA کی طرف سے 1990 کو گود لینے کی سالگرہ کے موقع پر کیا گیا تھا۔ اس دن کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے، 2000 ء سے، برطانیہ اور دُنیا بھر میں لوگوں نے 18 دسمبر کو مہاجرین کا عالمی دن منایا۔ یہ اس بات پر غور کرنے کا وقت ہے کہ کس طرح ہجرت کی تحریک ہمیشہ سے انسانی تاریخ کا حصہ رہی ہے، اور کس طرح تارکین وطن اپنے میزبان ممالک میں مقامی معاشرے اور برادریوں کا ایک ناقابل تسخیر حصہ بنتے رہے ہیں۔اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ تارکین وطن کا کسی بھی دوسرے ملک کی معیشت میں اپنی محنت ، لگن اور جذبے سے ریڑھ کی ہڈی کی طرح اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ اس طرح ان کی قدرو قیمت کو میزبان ملک یا علاقے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
عالمی یا مقامی ہجرت کی چند ایک اقسام مشاہدے میں آئی ہیں جو کہ مذکور ہیں:‘‘ اندرونی نقل مکانی: کسی ریاست، ملک یا براعظم کے اندر منتقل ہونا۔ بیرونی ہجرت: ایک مختلف ریاست، ملک، یا براعظم میں منتقل ہونا۔ ہجرت: ایک ملک چھوڑ کر دوسرے ملک منتقل ہونا۔ امیگریشن: ایک نئے ملک میں منتقل ہونا۔
دھکا (Push) اور کھینچنے والے (Pull) عوامل۔ لوگوں کے ملک چھوڑنے کی وجوہات Push عوامل ہیں، سماجی و سیاسی عوامل۔…-95 آبادیاتی اور اقتصادی عوامل۔…-95ماحولیاتی عوامل…. وغیرہ لوگوں کے ہجر ت کے اسباب کو سمجھنے میں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔
ہجرت کے مسائل کو سمجھنے کے لئے اس کے عالمی قوانین کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ یہ قوانین ملاحظہ ہوں……ایک معاوضہ دینے والا منتقلی کا بہاؤ جوابی بہاؤ پیدا کرتا ہے۔ دُور دراز کے تارکین وطن تجارت اور صنعت کے عظیم مراکز میں سے ایک پر جاتے ہیں۔ شہروں کے مقامی باشندے دیہی علاقوں سے آنے والوں کی نسبت کم نقل مکانی کرتے ہیں۔ خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہجرت کرتی ہیں۔
ہجرت ماڈل کے ریوینسٹائن کے قوانین کا بیان کچھ اس طور ہے: ‘‘ زیادہ تر تارکین وطن صرف مختصر فاصلے پر جاتے ہیں، ہجرت قدم بہ قدم (مرحلہ بہ قدم) اور طویل فاصلے کے تارکین وطن بڑے شہروں میں جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔’’ ہجرت یا نقل مکانی میں چند رکاوٹیں حائل ہو سکتی ہیں: ‘‘ لسانی اور ثقافتی اختلافات، مکانات کے لین دین کے اخراجات اور تمام ممالک میں پنشن کے حقوق کی پورٹیبلٹی کا فقدان نقل مکانی کی راہ میں ممکنہ رکاوٹیں ہو سکتی ہیں۔اس کے علاوہ ہجرت میں مزید چند بنیادی رکاوٹوں کا بیان کچھ اس طور ہے:طبعی رکاوٹوں میں پہاڑ اور وسیع علاقے شامل ہیں جو بہت زیادہ ٹھنڈے یا بہت گرم ہیں جیسے صحرا ،جو لوگوں کی نقل و حرکت کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایریزونا کا گرم صحرا، میکسیکو کے باشندوں کو امریکہ کی طرف ہجرت کرنے سے روکتا ہے۔ ہجرت کی راہ میں اقتصادی رکاوٹوں میں غربت اور ہجرت کی زیادہ لاگت بھی مشاہدے میں آتی ہے۔
کسی فردِ واحد یا افراد کی ہجرت کو مختلف نوعیت کے عوامل متاثر کرتے ہیں۔ مثلاً عمر، جنس، ازدواجی حیثیت، تعلیم، پیشے، ملازمت وغیرہ۔ عمر اور جنس اہم آبادیاتی عوامل ہیں جو ہجرت کو متاثر کرتے ہیں۔ مرد عموماً دوسری جگہوں پر ہجرت کرتے ہیں حالانکہ شادی کے بعد شوہروں کی دوسری جگہوں پر ہجرت کرنے والی خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

افراد کی ہجرت کے پیشِ نظر تارکین وطن کسی بھی علاقے یا مُلک پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ جیسے تارکین وطن بالآخر میزبان ممالک میں سماجی، اقتصادی اور سیاسی مسائل پیدا کرتے ہیں، بشمول 1) آبادی میں اضافہ، موجودہ پر منفی اثرات کے ساتھ / سماجی ادارے/ امدادی سامان اورخدمات کی مانگ میں اضافہ/ دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل و حمل وغیرہ۔
2021 ء ‘‘تارکین وطن /مہاجرین کے عالمی دن ’’کا موضوع: ”انسانی نقل و حرکت کی صلاحیت کو بروئے کار لانا” رکھا گیا تھا۔اس موضوع کو تجویز کرنے کا مقصد عالمی ،سماجی اور اقتصادی منظر نامے کے مؤثر فیصلوں کے ذریعے تشکیل دیا جا سکتا ہے تاکہ عالمی نقل و حرکت اور لوگوں کی جانب سے پیش کردہ مسائل اور مواقع سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔
نقل ِ مکانی یا ہجرت کے کچھ اور موضوعات درج ذیل ہیں: طالب علم/اساتذہ کی انکوائری کے ذریعے امیگریشن کے درج ذیل عام موضوعات کی نشاندہی اور وضاحت کی جانی چاہیے: ہجرت کی تحریک، انضمام، معاشی مسائل (بشمول زندگی اور کام کے حالات)، تعلیم، منزل کا انتخاب، زبان کی مشکلات، اور تعصب کے مسائل وغیرہ ان موضوعات میں اہمیت کے حامل ہیں۔یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ……2020 ء میں دنیا بھر میں تمام بین الاقوامی مہاجرین میں سے 40 فیصد سے زیادہ (115 ملین) ایشیا میں پیدا ہوئے، تقریباً 20 فیصد بنیادی طور پر چھ ایشیائی ممالک بشمول ہندوستان ، چین، بنگلہ دیش، پاکستان، فلپائن اور افغانستان سے تعلق رکھتے ہیں۔
دسمبر 18 کو مہاجرین کے عالمی دن سے متعلق مختلف عوامل، مسائل، اثرات اور قوانین کے بارے میں اہمیت و آگاہی سے ہر باشعور شہری کو علم ہونا ضروری ہے۔ تاکہ اپنے آبائی مُلک یا پھرمیزبان ممالک میں رہائش رکھتے ہوئے اس دن کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا اوربہتر انتظام کیا جاسکے۔اور ہر سال 18 دسمبر کو مہاجرین کا عالمی دن مناتے ہوئے تمام تارکین وطن مزدوروں اور ان کے خاندانوں کے ارکان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے عملی اقدام کیا جاسکیں۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply