ذرا تم دام تو بدلو۔فاروق بلوچ

SHOPPING
 “اگر یہ فیصلہ  مشہور  ہو  جائے کہ کل بڑے پیمانے پہ سرمایہ داروں کو پھانسی دی جائے گی تو آج یہ سرمایہ دار رسیاں بنانا شروع کر دیں گے”. کارل مارکس

پانامہ پیپرز کا ہنگامہ ابھی تک پوری شد و مد سے جاری و ساری ہے. صرف پاکستان نہیں پوری دنیا کی اشرافیہ اِس گندے دھندے میں ملوث ہے. شاذونادر ایسے دولت مند ہیں جن کے جرائم اور دھوکہ دہی منظرِ عام پہ نہیں آتی ہے کیونکہ وہ اپنی کرپشن میں انتہائی چالاک اور “ہنرمند” واقع ہوئے ہیں وگرنہ یہ لوگ اتنے طاقتور ہیں کہ اِن کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی اِن پہ بھی ہاتھ ڈالے گا. ہاتھ ڈالنا تو خیر اب بھی ممکن نہیں ہے. یہ سرمایہ دار بظاہر تکالیف کا شکار نظر آتے ہیں لیکن دراصل اِن کے ٹھاٹ باٹ تو جوں کے توں برقرار ہیں. نواز شریف کو ہی دیکھ لیں. نواز شریف سے وزارت عظمی کی کرسی تو چھین لی گئی ہے مگر جناب کا مغلیہ ٹھاٹ باٹ سب کے سامنے ہے. اگر عام عوام، محنت کش طبقہ یا کسان طبقہ کے کسی فرد کی طرف سے یہ اعمال سرزد ہوئے ہوتے تو وہ کب کا جیل میں سڑ رہا ہوتا. یہ اِس نظام کا اصل چہرہ ہے جو سب پہ عیاں ہو چکا ہے. دنیا بھر کی اشرافیہ، امیر اور حکمران طبقے میں شامل تقریباً ہر شخص اِس کیچڑ میں لتھڑا ہوا ہے. ریاستوں کے موجودہ اور سابق سربراہان، بڑی بڑی کاروباری اور مشہور شخصیات سب کے سب بےپناہ دولت کے گھن چکر میں کیا کچھ نہیں کر رہے ہیں. پانامہ پیپرز سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح دو لاکھ آف شور کمپنیوں کو اپنا پیسہ بچانے اور تحقیقات سے بچنے کے لئے استعمال کیا گیا.

یہ کوئی ایڈونچر نہیں تھا جیسے ایک سمگلر پیسوں سے بھرا ہوا سوٹ کیس اٹھا کر سوئٹزرلینڈ میں داخل ہو جاتا ہے. بلکہ بڑے بڑے بینک اور کئی سرکاری اہلکار اِس دھندے میں ملوث ہیں. ایچ ایس بی سی، یو بی ایس، سوسائٹی جنرل، کریڈٹ سوئس وغیرہ جیسے بڑے “معتبر” بینک اِس مکروہ معاملے میں ملوث دکھائی دیتے ہیں. یہ ہمارے اِس دعوے کا ایک اہم ثبوت ہے کہ دولت کے ہر بڑے اجتماع کے درپردہ ایک جرم موجود ہوتا ہے. بڑے بڑے قائدین اِس دھندے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پکڑے گئے ہیں. یوکرائنی صدر پروشینکو، برطانوی وزیراعظم ڈیوڈکیمرون کے والد، پاکستانی نواز شریف، ارجنٹائنی صدر میکری، خادمین حرمین شریفین شاہ سلیمان، یواےای کے امیر،کوفی عنان کے بیٹے اور چائنیز کمیونسٹ پارٹی کے عہدیداروں سمیت کئی قائدین اِس فہرست میں شامل ہیں.

پاکستانی نوازشریف کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے احباب کا نام بھی چور دروازے استعمال کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہے. کرپشن مخالف تحریک انصاف کے قائدین عمران خان اور جہانگیر ترین کا نام بھی اسی فہرست کا حصہ ہیں. اگر کوئی عام آدمی یہ اعتراف کرلے کہ وہ جوا بھی کھیلتا تھا، پیسے بچانے کے لئے ہنڈی کا راستہ اور آف شور کمپنیوں جیسے چور دروازے بھی استعمال کرتا تھا تو اُس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جائے گا جو عمران خان کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے. یہاں سب ایک سے ہیں. نواز شریف کو بھی اس لیے نااہل کیا گیا ہے کیونکہ اُس کی موجودہ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر چل رہی تھی اور عمران خان کو اِس لیے “اہل” قرار دیا گیا ہے کیونکہ اُس کا موجودہ اسٹیبلشمنٹ سے “یارانہ” کوئی ڈھکا چھپا نہیں ہے. پاکستانی عدالت اگر نواز شریف کو نااہل کر دے تو درست فیصلہ، لیکن اگر جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا جائے تو عمران خان کہتے ہیں “مجھے جہانگیر ترین پہ مکمل اعتماد و اعتبار ہے”.

یہ کیسے لوگ ہیں، اِن کے کیا معیارات ہیں، یہ کیسے قائدین ہیں؟ ہاں سرمایہ دارانہ نظام میں یہ سب کچھ اچھا ہے اور بورژوازی نگاہ میں یہ سب قابل قبول ہے. نواز شریف کا دفاع کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے فرمایا تھا کہ “ہر کوئی حق رکھتا ہے کہ وہ اپنے اثاثوں کے ساتھ جو چاہے کرے: سمندر میں پھینک دے، فروخت کر دے، یا پھر کسی ٹرسٹ میں ڈال دے. یہ سب کچھ بین الاقوامی قانون اور پاکستانی قانون میں جرم نہیں ہے”. یقیناً یہ سچ ہے، بلکہ سرمایہ دارانہ نظام میں ارتکازِ دولت کی تعریفیں کی جاتی ہیں. یہی وجہ ہے کہ اِن مجرموں کو  ذرہ   برابر تکلیف بھی نہیں ہو گی. یہ مجرم اپنی بےپناہ دولت کے ساتھ شادمان رہیں گے. لیکن ہم مارکس وادی یہ سوال کرتے ہیں کہ عوام کی نظر میں کروڑوں ڈالر کو چھپا کر رکھنے والے نواز شریف کی کیا وقعت ہے؟ پاکستان جہاں کی ساٹھ فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے، جہاں کی ساٹھ فیصد آبادی یومیہ دو سو روپے سے بھی کم کما سکتی ہے، وہاں کے قائد جب کروڑوں ڈالر چھپا کر رکھتا ہے، اُس کے پاس کیا جواز ہے؟ اُن کی اپنی سٹیل ملز تو دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتی ہیں مگر پاکستانی عوام کی واحد سٹیل مل مسلسل خسارے کا سامنا کرتی ہے.

دنیا بھر کے حکومتی ادارے اور حکومتیں اِن چوروں کو نہ صرف تحفظ فراہم کرتی ہیں بلکہ عالمی معاشی دھندوں سے براہ راست فائدہ اٹھا رہی ہیں. گذشتہ آٹھ برسوں میں اشرافیہ ایک اسکینڈل کے بعد دوسرے اسکینڈل کا سامنا کر رہی ہے. چرچوں اور مدارس کے جنسی اسکینڈل، فیفا ٹورنامنٹ میں رشوت کے اسکینڈل، برطانیہ میں پیٹروبراس اسکینڈل، برازیل کا منی لانڈرنگ کا اسکینڈل اور پھر اب پانامہ اور پیراڈائز اسکینڈل۔۔ ہم مارکس وادیوں کے لیے یہ اسکینڈل بالکل بھی کوئی حیران کن معاملہ نہیں ہیں. یہ ایک سچ ہے کہ دنیا بھر کی ایک فیصد دولت مند اشرافیہ باقی پوری دنیا کو بیوقوف بنا رہی ہے.

SHOPPING

دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی عمران خان جو صبح شام کرپشن کے خلاف باتیں کرتے نہیں تھکتے کس بنیاد پہ جہانگیر ترین پہ مکمل اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں؟ دراصل عمران خان پہ لگنے والا یہ الزام کہ جہانگیر ترین کیونکہ عمران خان پہ سرمایہ کاری کر رہا ہے، سچ ہے. ایک مشہور سیاست دان اپنے اوپر سرمایہ کاری کرنے والے نااہل اور بےایمان شخص پہ اعتماد کا اظہار نہ کرے تو کیا کرے؟

SHOPPING

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *