ابنارمل خواب/طارق احمد

رات ہم نے عجیب و غریب خواب دیکھا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ  ایک بہت بڑا جنگل ہے،تاریک جنگل۔ اس جنگل کے بیچوں بیچ ایک بند جگہ ہے  اور اس بند جگہ میں انسان اور جانور آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ غالباً  کوئی میٹنگ چل رہی ہے۔ انسانوں کے گروہ میں آرمی جنرلز ، جاگیردار ، صنعت کار ، سیاستدان، صحافی ، دانشور، اینکرز ، جج ، وکیل ، مولوی، دہشت گرد ، اسمگلرز اور چور ڈاکو شامل ہیں، جبکہ جانوروں کی صف میں لگڑ بگڑ ، شیر ، ہاتھی ، ریچھ ، گینڈے ، بھیڑیے، اودھ بلاؤ، بندر، کتے ، لومڑیاں اور چوہے شامل ہیں۔

خوفناک بات یہ تھی کہ انسانوں اور جانوروں نے آپس میں دھڑ تبدیل کر رکھے تھے۔ یہ دو طرفہ بندوبست بقائے باہمی کے اصول کی بنیاد پر تھا۔ تاکہ اس قومی ڈائیلاگ میں سہولت رہے  اور ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے میں آسانی رہے۔ ایک اور بڑی عجیب بات تھی انسانی چہرے ویسے نہ تھے،جیسے عام زندگی میں نظر آتے ہیں ۔ جنرلز کے چہروں پر تین آنکھیں تھیں۔ دو آنکھوں سے وہ معمول کی کارروائی میں مشغول تھے۔ جبکہ ان کی تیسری آنکھ سیاستدانوں پر تھی  اور وہ سب سیاستدانوں کو اسی ایک آنکھ سے دیکھ رہے تھے۔ سیاستدانوں کی آنکھیں اگرچہ دو ہی تھیں  لیکن وہ آپس میں ملتی نہیں تھیں ۔ جنرلز کے کان نہیں تھے جبکہ سیاستدانوں کی زبان بہت لمبی تھی۔ دانشوروں اور اینکروں کے سر پیالہ نما تھے اور یہ پیالے خالی تھے۔ ان کے سر سیدھے یا گول نہیں تھے۔ کچھ کا سر دائیں طرف مڑا ہُوا تھا، کچھ بائیں جانب جھکے ہُوے تھے۔ یہ سر بے لچک اور فکس تھے۔ ان دانشوروں کی بھی دو آنکھیں تھیں۔ ایک اندر کو مڑی ہُوئی  تھی اور کچھ دیکھنے سے قاصر تھی۔ کیونکہ اندر مکمل اندھیرا تھا۔ دوسری آنکھ کا رخ آسمان کی جانب تھا اور سورج کی چکا چوند سے چندھیائی  ہوئی  تھی۔اور دیکھنے سے معذور تھی۔ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے سر کی جگہ ایک بڑا سا گنبد تھا  اور اس گنبد کے نیچے دروازہ نما دہانہ تھا۔ مولویوں کے سر ان کے معدے کے مقام پر تھے۔ جبکہ ان کے سر کی جگہ ان کے معدے لٹک رہے  اور یہ دماغ اور معدے دونوں خالی تھے۔ صرف اسمگلرز اور چور ڈاکو اپنی اصلی حالت میں تھے۔ آرٹسٹوں اور اداکاروں کے بال مصنوعی تھے۔ پلکیں مصنوعی تھیں۔ ناخن مصنوعی تھے۔ رنگ مصنوعی تھے اور ان کی باتیں مصنوعی تھیں  اور کامک ریلیف کے طور پر اس میٹنگ کی سنجیدگی کو کچھ کم کر رہی تھیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

اس قومی ڈائیلاگ کا ایجنڈا ایک نقطے پر مشتمل تھا۔ اس ون پوائنٹ ایجنڈے کے مطابق میٹنگ میں یہ تجویز رکھی گئی تھی  کہ جس طرح انسانوں اور جانوروں نے اپنے دھڑ تبدیل کر لیے ہیں  کیوں نا  وہ اپنے رہنے کے مقام بھی تبدیل کر لیں  یعنی انسان جنگل میں منتقل ہو جائیں  اور جانور شہروں میں آ کر رہنا شروع کر دیں۔ جانور اس تجویز کے خلاف تھے،ان کا کہنا تھا  انسانوں نے اپنی نفسانی و مادی خواہشات اور بالادستی کی لڑائی میں اپنے شہروں کو ہی جنگل بنا دیا ہے ، ان جنگل نما شہروں میں نہ کوئی قانون ہے،  نہ کوئی آئین ہے۔ اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہے۔ مذہب کو کاروبار بنا لیا ہے  اور مذہب کی لاٹھی سے سب کو ہانکا جا رہا ہے۔ جانوروں کا کہنا تھا ، اپنے شہروں کو بدنما بنانے کے بعد انسان جنگل کی خوبصورتی اور جنگل کے قوانین کو بھی گہنا دے گا۔ کم از کم ہم جانوروں کو یہ تو علم ہے، جنگل میں سب جانوروں کی حیثیت اور اہمیت اور مقام کیا ہے۔ اگر ہم شہروں میں آئے  تو خدشہ ہے  ایک بے نام عفریت کے شکنجے میں آ جائیں گے جسے انسان تہذیب اور عملیت پسندی کہتا ہے۔ انسانوں نے جانوروں کو سمجھانے کی بہت کوشش کی۔ آپ شہروں میں آ کر ماڈرن لائف کو انجوائے کریں ہم جنگلوں میں نئے شہر آباد کر لیں گے لیکن جانوروں نے یہ آفر قبول کرنے سے انکار کر دیا، ان کا خیال تھا  شہروں میں آنے سے ان کی آزادی اور حق ِ حکمرانی ختم ہو جائے گا۔ اس مقام پر یہ میٹنگ ختم کر دی گئی ۔ قومی ڈائیلاگ فیل ہو گیا تھا۔ انسانوں اور جانوروں نے اپنے اپنے دھڑ تبدیل کیے  اور اپنے اپنے جنگلوں اور شہروں کی جانب روانہ ہو گئے۔ اس کے بعد ہماری آنکھ کھل گئی ۔ لیکن جب سے آنکھ کھلی ہے  انسانوں کی اس بستی میں خود کو ابنارمل محسوس کر رہا ہوں۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

طارق احمد
طارق احمد ماہر تعلیم اور سینیئر کالم نویس ہیں۔ آپ آجکل برطانیہ میں مقیم ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply