حج و عمرہ اور سعودی سیاحت بارے غلط فہمیاں/راشد جلیل سیال

سعودی عرب نے بھی دیگر دنیا کی طرح اپنے ذرائع آمدن کے متبادل ذرائع پیدا کرنے شروع کر دیے ہیں جس میں سیاحت کا بڑا کردار ہے،لیکن سیاحتی اعداد و شمار کو لے کر لاتعداد لوگ اسے حج و عمرہ کے ساتھ جوڑ کر غلط فہمی کا شکار ہیں اس مختصر تحریر کے تین حصے ہیں پہلا حصہ حج و عمرہ، دوسرا سعودی عرب کی سیاحت اور تیسرے حصے میں غلط فہمی کا ازالہ۔

*حج و عمرہ
سعودی عرب حکومت حج و عمرہ کے ویزہ کی کوئی فیس نہیں لیتی ۔ بطور ثبوت آپ اپنے پاسپورٹ پر حج و عمرہ کی ویزہ سٹمیپ دیکھ لیں اس پر اگر الرسوم میں کوئی رقم درج ہے تو وہ قیمت آپ کے ویزہ کی ہے جو سعودی عرب کی حکومت کو براہ راست جائے گی۔اگر تو وہاں الرسوم کے آگے مجاناً لکھا ہوا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے آپ کو یہ ویزہ مفت دیا ہے۔یہاں لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ جو پیسہ انہوں نے ایجنٹ کو دیا ہوتا ہے وہ اسے سعودی عرب کی حکومت کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے اسی طرح رہائش و ٹرانسپورٹ وغیرہ کے تمام اخراجات میں اگر کوئی پیسہ بنا رہا ہے تو وہ آپ کا اپنا پاکستانی ایجنٹ ہے نہ کہ سعودی عرب کی حکومت۔
برطانیہ، یورپ اور امریکہ کے نیشنل جب visitsaudia سے آن لائن ویزہ لے کر عمرہ کرتے ہیں تو اسے عمرہ اخراجات سمجھتے ہیں تو ان کی اپنی جمع تفریق ہے کہ سیاحتی ویزہ کی فیس ادا کر کے عمرہ کر رہے ہیں نہ کہ عمرہ ویزہ لے کر۔ ان لوگوں کی بھی یہی غلط فہمی دیکھی ہے میں نے، کیونکہ مذکورہ ویبسائٹ کا مقصد محض سیاحتی ویزہ کا اجراء ہے اس پر عمرہ اگر آپ کر رہے ہیں تو یہ ایک سہولت ہے لیکن آپ اسے عمرہ کی فیس کی مد میں نہیں کہ سکتے اصولی طور پر۔

*سعودی عرب کی سیاحت
اب آتے ہیں سیاحت کی جانب۔ پچھلے پانچ سال سے سعودی عرب نے سیاحت کو فروغ دیا ہے تمام تاریخی مقامات کی از سر نو تعمیر کی گئی ہے انہیں ان کی اصل شکل میں بحال کیا گیا ہے اور ان میں سے اکثریت مقامات کی فیس رکھی گئی ہے۔ میں اسی سال فیملی کے ساتھ مدائن شعیب اور العلا میں مدائن صالح سے ہو کر آیا ہوں جدہ میں بیٹھے آن لائن بکنگ کی اپنے کریڈٹ کارڈ سے پیمنٹ کی اور مقررہ دن وہاں سیاحتی دورہ کیا۔ اسی طرح سیزن ریاض کے نام سے ایونٹ ہر سال منعقد ہوتا ہے ہم نے سیزن ون دیکھا تھا اچھی خاصی مہنگی ٹکٹ ہوتی ہے مختلف ایونٹ کی۔ حالیہ سیزن تھری میں ایک ایونٹ کا بتا دیتا ہوں بطور ریفرنس کہ MDL Beast کے نام سے تین دن کا ایونٹ تھا جس کی ٹکٹ 300 ریال سے 5000 ریال تھی تھی اور اوپننگ کے پہلے تین دن میں تمام ٹکٹ بک ہو چکے تھے وہ بھی ایونٹ سے تقریباً دو ماہ پہلے۔ اس تین دن کے ایونٹ میں 6 لاکھ سے زائد ٹکٹ فروخت ہوئے ہیں اب آپ جمع تفریق کر لیں۔ یہ ایک ایونٹ کے تین دن کی آمدن ہے۔اور سیزن تین ماہ چلے گا۔اسی طرح سیزن جدہ میں ایونٹ کی ٹکٹ 100 ریال سے 3500 ریال تک تھی۔ابھا سیزن اور طائف سیزن میں بھی یہی صورت حال ہوتی ہے۔ اب یہ تمام آمدن سیاحت کی ہے جس کا عمرہ و حج سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔

*حاصل گفتگو
اب اس سیاحتی آمدن کو اگر میں سعودی عرب کی حج و عمرہ آمدن کے کھاتے میں ڈال دیتا ہوں تو یہ میری بیوقوفی ہے نہ کہ سعودی عرب حکومت کی، کہ مجھے اتنی کامن سینس نہیں ہے کہ سیاحت کی آمدن کو حج و عمرہ کے کھاتے میں ڈال رہا ہوں، لوگ غلط فہمی کی بنیاد پر سعودی عرب کی سیاحتی آمدن کو حج و عمرہ کے ساتھ مکس کر رہے ہیں جو کہ کم علمی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
جیسا کہ میں نے پہلے حصے میں لکھا ہے کہ نارمل عمرہ ویزہ اور حج ویزہ فری ہیں اگر سعودی عرب کی حکومت حج و عمرہ زائرین کو سبسڈی کی بجائے اصل اخراجات عائد کرنا شروع کر دے تو گنتی کے لوگ صاحب استطاعت نکلیں گے ہر سال، نہ کہ لاکھوں کی تعداد میں۔
لہٰذا گزارش ہے کہ سعودی عرب کی سیاحتی آمدن کو حج و عمرہ کی آمدن کے ساتھ مکس نہ کیا جائے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

کرونا میں دو سال بیرونی حج و عمرہ نہیں ہو سکا تو قدرت نے یہ حقیقت بھی آشکار کر دی کہ سعودی عرب کے بجٹ میں حج و عمرہ کی آمدن کا کوئی کردار نہیں ہے کیونکہ حج و عمرہ نہ ہونے کے باجود بجٹ خسارہ ان دو سالوں میں نہیں بڑھا۔ کیونکہ حج و عمرہ کی آمدن کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے سعوی عرب کی حکومتی آمدن کے ساتھ۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply