حسد اور دریا (1)-محمود اصغر چوہدری

یہ اٹلی میں میری دوسری جاب تھی ۔یہ ایک فیکٹری تھی جس میں پلاسٹک میٹریل سے الیکٹرک سپیئر پارٹس بنتے تھے ۔ جس میں واشنگ مشین ، واشنگ ڈرائیر کے پارٹس کے علاوہ سکوڈا کارکے پارٹس بھی بنتے تھے ۔یہ جاب اتنی آسان تھی کہ فیکٹری میں بہت سی عورتیں بھی کام کرتی تھیں۔ فیکٹری میں ہم سب مزدور تھے ۔صرف دو چار ٹیکنیشن اور ایک انجینئر تھا جن کا کام اس سے بھی زیادہ آسان تھا وہ آتے اور مشین کی پروگرامنگ کرتے اور پھر ہم مزدوران پر کام شروع کر دیتے ۔میں نے دل میں سوچا اصل موجیں تو ان کی ہیں ۔ یہ کام سیکھنا چاہیے ۔ لیکن اٹلی میں ان دنوں غیر ملکیوں کو کوئی ٹیکنیکل کام سکھاتے نہیں تھے ۔ ایک تو ہمیں زبان نہیں آتی تھی ۔ دوسرا وہ کسی غیر ملکی کو برداشت نہیں کرتے تھے
میں نے نوٹ کیا کہ فیکٹری میں کچھ مشینیں جدید نوعیت کی کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے تحت کام کرتی تھیں اور کچھ مشینیں پرانے زمانے کی تھیں جن پرمینول پروگرامنگ کرنا پڑتی تھی ۔ میں نے اٹلی آنے سے پہلے پنجاب یونیورسٹی سے بیچلر آف کمپیوٹر سائنس کا ڈپلومہ کیا تھا ۔ میں نے سوچا وہ کب کام آئے گا ۔ ایک ٹیکنیشن وانی میراگہرا دوست بن چکا تھا ۔ ہر وقت محمود محمود کہتا رہتا تھا ۔ ایک دن میں نے اسے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ کیا تم مجھے یہ سکھا سکتے ہو۔ اس دن اس کا چہرہ سپاٹ ہوگیا ۔ اور بڑی سنجیدگی سے اس نے کہا ”وولا باسو“ اپنی پرواز نیچی ہی رکھو ۔اس کا یہ جملہ تیر کی طرح میرے دل میں چبھ گیا ۔ میں نے اس کو تو کچھ نہ کہا لیکن دل میں تہیہ کر لیا کہ اس پروگرامنگ کو سیکھ کر رہوں گا ۔ میں کام کے دوران مشین پر کمپیوٹر سکرین پر مختلف آپشن دیکھتا رہا ۔ ہیٹ ، میٹریل ، سپیڈ، نمبرز وغیرہ کوکیسے تبدیل کرنا ہے سب سمجھ میں آگیا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ کمپیوٹر ائزڈ مشینیں دو چار ہی تھیں باقی ساری مینول تھیں ۔ ان کا کیا کروں ؟ ان مینول مشینوں پر الیکٹرک میپ سا ہوتا تھا ان پر بہت سی سرخ لائیٹس ہوتی تھیں ۔ میں نے سوچا اگر ان مشینوں کو قابو کرنا ہے تو اس نقشے کو سمجھنا ہوگا ۔لیکن ان کے سامنے یہ کرنا ممکن نہیں تھا ۔ ایک دن مالک نے مجھے رات کو اوورٹائم کرنے کا پوچھا۔ رات کو فیکٹری میں کوئی ٹیکنیشن نہیں ہوتا تھا اور مزدور بھی ایک دو ہی ہوتے تھے ۔ مالک نے ہمیں ٹیکنیشن کا نمبر دیا ہوا تھا کہ اگر کوئی مشین رک جائے تو ہم اسے بلالیں ۔
میں نے سوچا یہی موقع ہے کہ میں سیکھ سکوں ۔ میں نے کاغذ پنسل لیا اورمینول مشینوں پر موجود نقشہ پیپر پر بنالیا۔ پھر کمپیوٹر مشین پر گیا اور اس میں نقشے کا آپشن ڈھونڈا ۔ ان دونوں کو ٹیلی کیا ۔ گھر آکر گھنٹوں اس کو گھورتا رہا اور آخر سمجھ گیا کہ کون سی لائٹ ہیٹ والی ہے کون سی لائٹ سپیڈ والی اور کون سی لائٹ کون سا آپشن ظاہر کرتی ہے ۔ ایک دوہفتے کی نائٹ اوورٹائم میں سب کچھ سیکھ گیا ۔ اب مجھے کسی بھی قسم کے پارٹ کے لئے خود پروگرامنگ کر سکتا تھا لیکن میں نے اپنا علم کسی پر ظاہر نہیں کیا۔۔۔
ایک دن میں فیکٹری گیا تو مالک غصہ سے چلا رہا تھا ۔ ٹیکنیشن پسینے سے شرابورمشین میں گم تھا ۔ ایک الیکٹرک پارٹ پر ایک نشان آرہا تھا اور ٹیکنیشن سے وہ مسئلہ حل نہیں ہورہا تھا ۔ سارے پارٹس بے کار بن رہے تھے ۔ آج وہی ٹیکنیشن پریشان تھا جس نے مجھے زیادہ اونچا نہ اڑنے کی تلقین کی تھی ۔ مالک آگے پیچھے ہوا تو میںنے اسے کہا آپ تھکے ہوئے ہو ، جاﺅ ذرا باہر سگریٹ کے کش لگا کر آﺅ میں دیکھتا ہوں ۔ وہ باہر گیا تو اس کے آنے سے پہلے میں نے ساری پروگرامنگ تبدیل کر کے پارٹس پر سے نشان غائب کردیا ۔ وہ واپس آیا تو بالکل صاف شفاف پارٹس بن رہے تھے ۔ وہ حیران رہ گیا ۔ بولا تم نے یہ کیسے کیا ؟ میںنے کہا بس آپ کو دیکھ دیکھ کر سیکھ گیا ہوں ۔اتنی دیر میں مالک بھی وہیں آن پہنچا تھا ۔ اس نے پارٹس دیکھے اور خوش ہوگیا ۔ وہ اس کو شاباش دینے ہی والا تھا کہ ٹیکنیشن بولا نہیں اس شاباش کا حقدار محمود ہے ۔ مالک کے لئے یہ بات حیران کن تھی ۔ وہ کہنے لگا جبھی میں سوچوں کہ یہ جب بھی رات کی ڈیوٹی کرتا ہے کسی ٹیکنیشن کو بلاتا کیوں نہیں ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ اس نے ساری پروگرامنگ سیکھ لی ہے ۔مالک نے مجھے دفتر بلایا ۔ میرے گریڈ میں اضافہ کیا اور بولا کہ اگر تم یہ ٹریڈ یونین والا بھوت اپنے دماغ سے ہٹا دو تو میں وعدہ کرتا ہوں تم اس فیکٹری کے پہلے غیر ملکی شفٹ انچارج ہوگے ۔۔
پردیس میں آپ کی حیثیت ایک دوسرے درجے کے شہری کی ہوتی ہے ۔ یہاں آگے بڑھنے کے لئے آپ کو ڈبل محنت کرنی پڑتی ہے ۔ جب کوئی بھی حاسد آکر آپ کے سامنے دیوار بنتا ہے تواس وقت آپ کو دریاکے پانیوں کی پالیسی اپنانی چاہیے۔ رکاوٹوں پر سر ٹکرانے کی بجائے راستہ بدل کر آگے نکل جائیں ۔حسد کرنے والے ، حوصلہ پست کرنے والے مذاق اڑانے والی اور نیچی پروازوں کی طعنے دینے والے ناکام ہوں گے ۔ اگر آپ محنت اور کھوج سے جی نہیں چراتے تو کامیابی آپ کو ضرور ملے گی ۔ پردیس میں آپ کو اپنی جگہ خود بنانی پڑتی ہے ۔ آپکو پانی پینے کے لئے کنواں خود کھودنا پڑتا ہے ۔ سکھانے ، تعلیم دینے اور پروفیشنل پوسٹس ان ممالک نے اپنے شہریوں کے لئے رکھی ہوتی ہیں ۔ آپ کو اپنی پوسٹ خود کمانی پڑے گی
آج کی پوسٹ ان دوستوں کےلئے جنہوں نے شکوہ کیا تھا کہ میری ہر تحریر دفتری کام سے متعلق ہوتی ہے۔پردیس میں ایک فیکٹری مزدور اپنی حالت کیسے بدل سکتا ہے اس پر میں کچھ نہیں لکھتا تو آ ج کی تحریر سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ اگر آپ فیکٹری میں مزدور ہیں اور کچھ ہنر سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے تو ساری زندگی آپ اپنا گریڈ اور اپنی تنخواہ نہیں بڑھا سکیں گے ۔ جہاں کام کرتے ہیں اس میں بھی پروفشینل بننے کا ہنر سیکھیں اور ہاں یاد رکھیں آپ نے مقامی گوروں کا مقابلہ کرنا ہے تو محنت ڈبل کرنا ہوگی ۔
باقی آئندہ

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

محمود چوہدری
فری لانس صحافی ، کالم نگار ، ایک کتاب فوارہ کےنام سے مارکیٹ میں آچکی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply