شادی میں تاخیر نہ کریں/طیبہ ضیا چیمہ

کچھ سالوں سے یہ رواج چل نکلا ہے کہ لڑکے اور لڑکیوں کی شادیاں تاخیر سے کی جاتی ہیں یا مرضی کے رشتوں کی تلاش میں تاخیر کر دی جاتی ہے۔ یا پھر لڑکے لڑکیاں پیروں پر کھڑا ہونے کی دھن میں تیس سے اوپر کی عمر میں شادی کرتی ہیں دونوں کی طرف یہ منطق پیش کی جاتی ہے کہ ہم کچھ بن جائیں اور پھر شادی کریں گے لیکن تب تک دیر ہوچکی ہوتی ہے۔

اگر شادی جلدی کر دی جائے تو انسان میں توانائی زیادہ ہوتی ہے اور وہ پہلے سے زیادہ محنت سے یکسو ہوکر کام کرتا ہے۔ جلد شادی کی صورت میں بچے جلد ہوجاتے ہیں اور ابھی انسان جوان ہی ہوتا ہے جب اس کی اولاد بھی اس کے کندھے کے برابر آجاتی ہے۔ اپنے شباب میں اولاد کو جوان ہوتا دیکھ کر انسان بہت خوش رہتا ہے۔ نوجوانی میں اولاد ہونے کی وجہ سے انسان ان کی بہتر پرورش کرپاتا ہے۔

ازدواجی تعلقات بھی صحتمند رہتے ہیں۔ اگر دیر سے شادی کی جائے تو وقت گزرنے کے ساتھ صحت کے مسائل شروع ہونے لگتے ہیں اور شادی شدہ زندگی بری طرح متاثرہوتی ہے لیکن جلد شادی کی صورت میں ایسے مسائل پیدا نہیں ہوتے۔ تعلیم شادی کے ساتھ بھی جاری رکھی جا سکتی ہے۔ اسلام نے بلوغت کے فوری بعد شادی کا حکم دیا ہے تاکہ جوانی کو لغزش اور دیگر نفسانی و نفسیاتی مسائل سے بچایا جا سکے۔

مغربی تحقیق سے بھی ثابت ہے کہ جلدی شادی سے انسان زیادہ دلجمعی اور یکسوئی سے محنت کرتا ہے۔ شادی انسان میں کچھ بننے اور معاشی طور پر سیٹ ہونے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ تیس سال پہلے تک بچوں کی جلد شادی کر دی جاتی تھی، جوائنٹ فیملی سسٹم کی سپورٹ سے لڑکامعاشی طورپر مستحکم بھی ہوجاتا تھا اور اس کے بچے بھی خاندان میں ہنسی خوشی پرورش پاتے تھے۔ پھر زمانے میں تغیر آیا اور نئی نسل نے نہ جوائنٹ فیملی سسٹم کو قبول کیا نہ جلدشادی کو اہمیت دی۔

لڑکیاں لڑکوں سے بھی زیادہ خود کو مالی طور پر مضبوط کرنے میں لگ گئیں، تعلیم اور ملازمت نئی لڑکیوں کو خود مختیار بنا دیا اور شادی اس کے ہاں بس اتنی اہم ہے اگر لڑکا اس سے زیادہ ڈگری یافتہ اور مالدار ہو ورنہ اسے کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں۔ ڈیمانڈ کے مطابق رشتہ کے انتظار میں لڑکیاں تیس پینتیس کی ہو جاتی ہیں جبکہ لڑکے بالغ ہوتے ہی شادی کے خواہشمند ہوتے ہیں۔

مناسب رشتہ ملتے ہی شادی کرلیتے ہیں اور یوں تیس سے تجاوز کر جانے والی لڑکیوں کے لئے ہم عمر رشتے آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے اور کسی طلاق یافتہ یا رنڈ وے سے شادی پر آمادہ نہیں ہوتیں۔ لڑکوں کو بھی شادی کے لئے مالی طور پر سیٹ ہونے میں برسوں لگ جاتے ہیں مگر نفسانی الجھن کے سبب بے راہ روی کے شکار ہو جاتے ہیں۔ لڑکے لڑکیاں اگر بیس برس کی عمر میں شادی کر لیں تو متعدد نفسانی و نفسیاتی اور اخلاقی مسائل سے بچ سکتی ہیں۔

جوانی پچیس سال کی عمر تک کو کہتے ہیں اس کے بعد پختہ عمر شروع ہوجاتی ہے اور پینتیس برس بعد شادی کا فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ کم عمر میں شادی آسان مرحلہ ہوتا ہے مگر جوں جوں عمر بڑھتی جاتی ہے مطالبات بھی بڑھتے جاتے ہیں اور دماغ بھی خراب ہوجاتا ہے۔ معصوم عمر کے فیصلے بھی معصوم ہوتے ہیں اور رب اس میں برکت دیتا ہے۔

بچوں کی جلد شادی سے ان میں قناعت اور توکل کے جذبات بھی پیدا ہوجاتے ہیں اور میاں بیوی خوشی خوشی اپنا مستقبل بنانے میں مگن رہتے ہیں۔ کم عمری میں والدین بن جاتے ہیں اور بچوں کوانجوائے کرتے ہیں۔ کم عمر ی کا شباب ساتھی مانگتا ہے اگر ساتھی نہ ملے تو انسان کا دل دماغ بے چین رہتا ہے جو پڑھائی اور کمائی میں حائل ہوتا ہے اور غیر اخلاقی غیر فطری طریقے اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ ایک اور اہم مسئلہ جو پیدا ہو تا ہے وہ لڑکی کی عمر کا ہوتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

مرد چالیس برس کا بھی ہو جائے شادی اسے تیس سے کم عمر لڑکی سے کرنا ہے جبکہ تیس سے اوپر کی لڑکی کے رشتے کے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔ عقل مندی کا یہی تقاضہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کو پھر سے اپنایا جائے اور لڑکوں لڑکیوں کی بیس بائیس برس کی عمر میں فوری شادی کر دی جائے۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply