حامدیزدانی کی خالی بالٹی اور دوسرے افسانے /تجزیہ-  ذوالفقار فرخ

حامد یزدانی سے میری محبت گزشتہ چالیس سال پر محیط ہے، جو  اب 2022ء میں اس کے افسانوں کی کتاب ”خالی بالٹی اور دوسرے افسانے“ کی اشاعت کے بعد عقیدت میں تبدیل ہو گئی ہے۔دراصل شاعری کو کہانی اور افسانے سے الگ کیا ہی نہیں جا سکتا۔ غزل کا ہر ہر شعر اور نظم تو پوری کی پوری ایک کہانی ہے۔ حامد یزدانی اور کہانی لازم و ملزوم ہیں۔
شاعری کے کردار عموماً محبوب، معاشرہ اور سب سے زیادہ واحد متکلم شاعر کی اپنی ذات ہوتی ہے۔ کہانی کے کرداروں اور شاعری کے کرداروں میں سب سے اہم فرق یہ ہوتا ہے کہ شاعری کے کردار مکان کے اندر بیٹھ کر تخلیق ہوتے ہیں، اور کہانی کے کردار مکان کے باہر جا کر تخلیق ہوتے ہیں۔
حامد یزدانی نے جو ہجرت کی ہے، وہ اس کی کہانی میں بہت نمایاں ہے۔ حامد یزدانی ایک بہت بڑے اور عظیم شاعر(یزدانی جالندھری صاحب) کا بیٹا ہے۔ مگر اس نے اپنا الگ مقام بہت محنت سے بنایا ہے۔حامد یزدانی کے افسانے اس کی شاعری کے خمیر سے طلوع ہوتے ہیں۔ اس نے ہماری دھرتی کے ”نان اور کلچے“ کو ہجرت کے پیوند سے ”پیزہ“ (Pizza) میں تبدیل کر دیا ہے۔
حامد یزدانی کے افسانوں کے بارے میں بہت سے باتیں ہو سکتی ہیں۔ معاشرتی، نفسیاتی، سوشیواکنامیکل، سب باتیں کی جا سکتی ہیں۔ مگر میرے نزدیک حامد یزدانی کے افسانوں کا اصل جوہر ”مشاہدہ“ ہے۔حامد کے مشاہدے اور جذب کرنے کی صلاحیت کو اگر میں کوئی نام دوں تو پنجابی میں ”بال ہڈاں دی اگ“اور فارسی میں ”بہ نوکِ خار می رقصم“ ہو گا۔
شاہ حسین سے مولانا روم کی مثنوی معنوی کا سفر حامد نے اپنی ہجرت کے دوران کیا۔ حامد یزدانی کا ہر کردار اس کا اپنا عکس اور پرتو ہے۔ ”خالی  بالٹی“کے پس منظر میں سیرِ افلاک بھی ہے۔ ”خالی  بالٹی“ ابنِ عربی کی ”فتوحاتِ مکیہ“ پڑھے بغیرلکھنا ممکن نہ تھا، اور ظاہر ہے ”فتوحاتِ مکیہ“ سے پہلے حامد نے ”فصوص الحکم“ لازمی پڑھی ہو گی۔
یہ وہ نکات اور پس منظر ہے جو ہم عام طور پر فراموش کر دیتے ہیں۔ آپ اس کا افسانہ ”دھمال“ پڑھ لیں تو یہ سب نظر آ جائے گا۔ ”خاکی تھیلا“ ہو یا ”خالی بالٹی“، ”دھند“ ہو یا ”کہانی“ آپ پڑھتے جائیں، فسوں اور طلسم آپ پر طاری ہوتا جائے گا۔ آپ کو ایسا لگے گا کہ یہ آپ نے پہلے بھی پڑھا ہے، مگر کہاں، یاد نہیں۔
دیکھنا  تقریر  کی  لذت  کہ جو  اس  نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
ان تمام افسانوں کے لیے کہ ’یہ دل کو چھو لیتے ہیں‘،’الگ لب و لہجہ رکھتے ہیں‘،’افسانوی ادب میں ایک نیا اضافہ ہیں‘، اور’قیمتی سرمایہ ہیں‘……. ایسے کلیشے جملے لکھنا بہت آسان ہے۔
مگر (ایک بہت بڑا ’مگر‘) ان افسانوں کی تفہیم ایک بالکل عام قاری، جس کی شخصیت کی بنیادوں میں شاعری کی کوئی اینٹ نہیں، اس کی تفہیم اور اظہاریہ بالکل مختلف ہو گا، اور ایک وہ شخص جو مقتولِ شاعری ہے اور شعر کا وزن اٹھا سکتا ہے، اس کے لیے یہ افسانے بالکل تازہ ہوا کا جھونکا ہوں گے۔ سکھ کا سانس لے گا وہ ان افسانوں کو پڑھ کر۔ بات بہت لمبی ہو سکتی ہے۔ مختصر وقت اور مختصر صفحات میں حامد یزدانی کے شعر اور اس کی نثر کا تجزیہ ممکن نہیں۔ ایک سے زیادہ نشستوں میں یہ بات ہو سکتی ہے۔ آخری جملہ یہ کہ حامد یزدانی کے سمندر کو مختلف رکابیوں میں تقسیم کر کے اپنے پاس ”خالی بالٹی“ کے علاوہ کچھ نہیں رکھا۔

 

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply