• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • واخان کوریڈور ترقی کا درخشا ں راستہ، لیکن– قادر خان یوسف زئی

واخان کوریڈور ترقی کا درخشا ں راستہ، لیکن– قادر خان یوسف زئی

چین، ایران، پاکستان، تاجکستان، ترکمانستان، اور ازبکستان سے جڑی سرحدوں کے باعث افغانستان کو ایشیا میں اپنی جغرافیائی حیثیت سے اہم مقام حاصل ہے۔ امریکہ و نیٹو کی واپسی کے بعد افغانستان کی سرزمین کئی حوالوں سے پڑوسی ممالک کے لئے امن و امان کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہے اور پڑوسی ممالک افغانستان کی معاشی، سیاسی و داخلی حالات پر متفکر بھی ہیں۔ دوحہ معاہدے کے بعد افغانستان میں ایک ایسی سیاسی عبوری حکومت کو قائم ہونا تھا جو تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر بنائی جاتی لیکن ایسا نہ ہو سکا اور امریکہ کے انخلا نے افغان عوام و حکومت کے درمیان بہت بڑا خلا پیدا کردیا۔ موجودہ حکومت کے نزدیک چین اس وقت ایک ایسا ملک ہے جو اسے کئی معاشی مسائل سے باہر نکال سکتا ہے۔ اس ضمن میں افغان حکومت اب دوبارہ کوشش کر رہی ہے کہ کہ وہ شاہراہ ریشم کے تجارتی راستوں بالخصوص واخان کوریڈور کو جلد از جلد دوبارہ کھولے جو چین کو براہ راست افغانستان سے جوڑتا ہے۔
واخان راہداری جغرافیائی طور پر شمال میں تاجکستان، جنوب میں پاکستان اور مشرق میں چین سے منسلک راہداری کی لمبائی تقریباً 350 کلومیٹر اور چوڑائی تقریباً 40 کلومیٹر ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق آسٹریا اور ہسپانوی کنسلٹنٹس کی مدد سے چترال واخان کوریڈور کی فزیبلٹی سٹڈیز میں اس امر کو یقینی بنایا گیا تھا کہ دو کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی لاگت سے 10 کلو میٹر تک کھدائی کر کے ایسی راہداری اور دوسرے راستے بنائے جا سکتے ہیں۔1895میں یہ سرحدی علاقہ برطانیہ اور روس کے درمیان بفر زون تھا۔ پاکستان کو بھی افغانستان اور چین کا تاریخی منصوبہ واخان کوریڈور سے فائدہ پہنچ سکتا ہے کیونکہ اس راہداری سے پاکستان سنٹرل ایشیا اور یورپ تک رسائی آسان ہوجائے گی، اور اس کے ذریعے پاکستان تاجکستان اور دیگر سنٹرل ایشیائی ریاستوں سے جڑے گا تو چین کا زمینی رابطہ افغانستان اور خلیجی اور مشرقی ایشیائی ریاستوں سے ممکن ہو سکے گا۔
صوبہ بدخشاں کا ضلع واخان افغانستان کا ایک ایسا سیاحتی مقام بھی ہے جہاں کی سینکڑوں برس کی ثقافت اور اس کی شناخت افغانستان کے دیگر علاقوں سے بالکل مختلف ہے۔ واضح رہے کہ چین اپنی داخلی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتا، سنکیانگ میں علیحدگی پسند تحریکوں سمیت افغانستان میں جاری سیاسی و اقتصادی اور حکومتی عدم استحکام کے حوالے سے چین کو تحفظات ہیں۔ تاہم سابق افغان کی مخالفت اور امارات اسلامیہ کی عمل داری میں سیکورٹی پالیسی پڑوسی ممالک کے لئے غیر معاوندانہ رہی۔ اس تجارتی ٹرانزٹ کے لئے چین واضح طور پر واخان کوریڈور کی اقتصادی اور تجارتی صلاحیت سے زیادہ خطے میں سلامتی کی صورتحال کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ لہذا سب سے پہلے افغانستان کو نئی شاہراہ ریشم پر اپنی پوزیشن کی وضاحت کے ساتھ چین کو قائل کرنا ہوگا۔
قدیم شاہراہ ریشم کے ایک حصے کے طور پر، واخان کوریڈور یوریشیا میں تہذیبوں کے مابین تبادلے کے لئے ایک اہم زمینی گزرگاہ ہوا کرتا تھا، لیکن یہ صرف سمندری نقل و حمل کی مقبولیت اور افغانستان کے آس پاس کی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ہی تھا کہ یہ راہداری آہستہ آہستہ کم ہوگئی۔واخان کوریڈور ایک اونچائی والا علاقہ ہے۔ واخان کوریڈور کو افغانستان کی ترقی کے ایجنڈے میں دوبارہ شامل ہوا ہے۔ افغانستان کے نزدیک واخان کوریڈور کھولنے، تاریخ میں قدیم شاہراہ ریشم پر افغانستان کا اہم مقام دوبارہ حاصل کرنے اور ایک بار پھر مشرقی ایشیا اور مغربی ایشیا کے درمیان پل بننے کے لیے چین کے ساتھ تعاون کرنے کے علاوہ وسائل دستیاب نہیں ہیں اور واخان کوریڈور کی ترقی بھی ایک آسان کام نہیں، فی الوقت افغانستان کے زمینی حالات نے اس پر عمل درآمد کو مشکل بنایا ہوا ہے۔ سی پیک کے عظیم الشان اقتصادی راہداری کے منصوبہ کی طرح واخان کوریڈور کو بھی مغربی ایشیا اور ایران سے یورپ جانے کے لئے کئی دیرینہ چیلنجز کا سامنا ہے۔
مشرق مغرب واخان کوریڈور عالمی تجارتی راہداری کے لئے طویل و مشکل مرحلہ ہے کیونکہ اس کے راستے اپنی لمبائی، اور اونچائی کی وجہ سے نقل و حرکت میں محدود ہیں، اگر پاکستان، چین اور افغانستان اس منصوبے پر عمل درآمد بھی کرتے ہیں تولاجسٹکس چینل کی تعمیر کے لئے سرمایہ اور ٹیکنالوجی ناگزیر ہیں۔ یہ وہ مشکلات ہیں جن کی افغان طالبان میں کمی ہے، لیکن چینی فریق کے پاس یہ دونوں دستیاب ہے۔ افغانستان کی موجودہ معاشی صورتحال کی وجہ سے اتنے بڑے منصوبے کو مکمل کرنا ناممکن ہے اور انہیں چین کا تعاون درکار ہوگا، ایسا نہیں کہ چین واخان کوریڈور کو مکمل طور پر ترقی دینے سے قاصر ہے، چین میں واخان کوریڈور کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو بھی عملی طور پر بڑھایا گیا ہے تاہم 400 کلومیٹر طویل واخان کوریڈور میں سے صرف 100 کلومیٹر چین میں ہے اور باقی راستہ براہ راست افغانستان کے وسط میں واقع صوبہ بدخشاں میں جاتا ہے۔ واخان کوریڈور کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے پر جلد بازی کر نے سے معاشی ترقی ناکامی کا شکار ہوسکتی ہے کیونکہ یہ چین کے مغربی خطے کی تزویر اتی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ واخان کوریڈور براہ راست افغانستان کے دل کی طرف جاتا ہے۔ چین کے لیے واخان کوریڈور کی تزویر اتی اہمیت کے جائزے میں اقتصادی اور تجارتی پہلوؤں پر توجہ نہیں دے سکتے۔ واخان کوریڈور نہ صرف چین اور افغانستان کے درمیان سرحد ہے بلکہ چین کی سرحدیں بھی اس کے ارد گرد پاکستان اور تاجکستان سے اور چین اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک زمینی گزرگاہ چائنا پاکستان فرینڈشپ ہائی وے بھی چین کے واخان کوریڈور کی طرف سے گزرتی ہے۔
واخان کوریڈور، دراصل یوریشیا کے جیو پولیٹیکل پیٹرن میں ایک ناگزیر کراس بار ہے، اور اس کے ساتھ مزید احتیاط سے عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے ارد گرد پیچیدہ جغرافیائی سیاسی ماحول کو دیکھتے ہوئے، ماضی کے تاریخی مسائل سے مختلف پوشیدہ خطرات باقی رہ گئے ہیں۔ چین اس امر سے بخوبی واقف ہے کہ اگرچہ واخان کوریڈور کی اقتصادی اور تجارتی صلاحیت کم نہیں، لیکن ترجیح کے لحاظ سے مستحکم سیکورٹی صورتحال سے موازنہ کرنا ناممکن ہے۔ افغان طالبان کی عبوری حکومت سیکورٹی کی بنیادی ضمانتیں فراہم نہیں کر سکتی تو چین اعتماد کے ساتھ معاشی اور تجارتی معاملات کیسے چلا سکتا ہے؟۔ آج کا افغانستان اگر دوبارہ یوریشین براعظم کا مرکزی کردار بننا چاہتا ہے تو اپنے منفرد جغرافیائی حالات پر انحصار کرنا کافی نہیں رہا علاقائی سلامتی کی صورتحال کے بارے میں ایک فعال رویہ ظاہر کرنے، عملی اور موثر حل کے ساتھ آنے اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ ان پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ افغانستان اور چین کے درمیان تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں بلکہ واخان راہداری بننے سے افغانستان پاکستان، ایران، ترکمانستان، ترکمانستان اور چین کو بھی اہم تجارتی راستے سے فائدہ ہوگا۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

قادر خان یوسفزئی
Associate Magazine Editor, Columnist, Analyst, Jahan-e-Pakistan Former Columnist and Analyst of Daily Jang, Daily Express, Nawa-e-Waqt, Nai Baat and others. UN Gold medalist IPC Peace Award 2018 United Nations Agahi Awards 2021 Winner Journalist of the year 2021 reporting on Media Ethics

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply