درد بے لگام ہو گئے۔/سیّد محمد زاہد

بہادر خاتون کو کُھل کر ہنستے دیکھا۔ پوچھا، ’’سنا ہے کہ ہر ہنسی کے پیچھے کچھ غم چھپا ہوتا ہے۔ آپ نے کبھی وہ راز نہیں کھولا۔‘‘ طنز یا کنایہ بازی تو حد ِادب سے آگے ہے، ہاں رمز و اشارہ کا طریقہ تو برتا جاسکتا تھا سو کہہ دیا، ’’کیا آپ بے غم ہیں؟ ’’جواب ملا ’’انسان کے اندر پرت ہی پرت۔‘‘

ذہین عورت تھی۔ جواب کچھ مبہم، زیادہ آشکار تھا۔ دکھوں کے جہان کی پرت پرت کھولنے کی بجائے ملفوف ہنسی میں اُڑا دیا۔ جیسے کہہ رہی ہو انسان اور بےغم؟
ناممکن۔
انسان اور سکھ؟ ناممکن۔
انتر گھٹ کا دکھی، جس کے ہردے میں پِیڑ ہی پِیڑ بھری ہو۔
یہ پِیڑ کہاں سے آتی ہے؟
اس کا انتم پڑاؤ کہاں ہوگا؟
کمزوری، پیدائشی کمزوری، جبلی ناتوانی، جنیاتی کمی و خرابی کی موجودگی میں طاقتور سے پالا جو ان کمیوں کوتاہیوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ یہ کہانی کب تک چلے گی، کہاں تک جائے گی؟

خوشی کس چیز کا نام ہے؟ کیا مکمل خوشی مل سکتی ہے؟ اور کس شرط پر؟ کیا ایک ایسا خوشگوار معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جس میں خوشیوں کے جام لہرائیں اور آنکھوں میں آنسو بھرا ملال نہ ہو۔

ہاں! ایک شہر تھا اومیلاس، سمندر کنارے، پہاڑوں کی اوٹ میں، حسین وادیوں میں بسا ایک عظیم شہر، جس میں دکھ نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ انسان کی سب خواہشات بن قصد، بن جتن پوری ہو جاتی تھیں۔ کھانے کو سب کچھ تھا، شراب بھی اور دوسری نشہ آور چیزیں بھی جن سے مزہ دوبالا ہو جاتا لیکن ہوش و حواس نہیں کھوتے تھے۔ ان کی لت خوئے بد میں نہیں ڈھلتی تھی۔
جوانی تھی، ہمیشہ کی۔ بیماری تھی نہ موت۔ موج ہی موج۔۔

روک ٹوک بھی نہ تھی۔ حسن و شباب اٹھکھیلیاں کرتا تھا۔ بدکاری نہیں تھی کیونکہ ملاپ کو کار خوب گردانا جاتا تھا۔ اوتار سر شام بنسی کی دُھن چھیڑ لیتے لیکن شیام کو اندوہ وصل کا بوجھ اٹھانا پڑتا نہ کوئی رادھا برہا کی اگنی میں سلگتی تڑپتی تھی۔ ہر طرف وصل کے میلے تھے۔

مذہب تھا: عبادت گذار درخواست گذاری نہیں صرف شکر کے لیے قیام و قعود اور رکوع و سجود کا التزام کرتے تھے۔ مُلا تھا نہ کوئی فقیہہ، جو تہمتیں گھڑتا۔
شہر والوں نے تمام دکھ، تکلیفیں اور مصیبتیں سب سے بڑے سٹیڈیم کے تہہ خانے میں دفن کر دی تھیں۔

ان کے ساتھ ہی زندہ درگور کر دیا گیا تھا شہر کا اکلوتا بچہ۔ سارے شہر کی بلائیں، صعوبتیں، آفتیں، کدورتیں اس میں بسیرا کیے بیٹھی تھیں۔ وہ کمزور تھا بیماریوں سے گِھرا ہوا۔ سارے دکھ اس کے تن بدن کو جلاتے تھے۔ ہر سال پورے شہر کے باسیوں کے ساتھ موت سے بچاؤ کا ٹیکہ اسے بھی ضرور لگایا جاتا تاکہ وہ مر کر ان دکھوں کو لاوارث نہ کر دے، مبادا یہ سارے رنج و غم پھر گھروں میں داخل ہو کر معزز شہریوں کو نشانہ بناتے پھریں۔

سب اسے جانتے تھے۔ لیکن اس کی طرف منہ بھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ شہر کے مئیر کی ڈیوٹی تھی کہیں کوئی کانٹا بھی پڑا ملے تو اٹھا کر اس تہہ خانے تک پہنچا دے اور ساتھ کچھ باسی گلا سڑا کھانا بھی جو اسے طاقت مہیا کرتا رہے جس سے وہ یہ سارے دکھ سہنے کے قابل رہے۔

دن، مہینے، سال سکون سے گذر رہے تھے۔ پھر کچھ شہریوں کو شاعری کی لت لگ گئی۔ ادب تو کب کا دفن کیا جا چکا تھا، وہ کسی دل کے نہاں خانے میں چھپی بیٹھی تھی۔ شراب و شباب کا ایک دن تنہائی میں ملاپ ہوا تو وہ پنپ اٹھی۔ اومیلاس کی پولیس کا اس طرف دھیان نہیں گیا اور وہ پھیلتی چلی گئی۔ جواں ہوئی تو اسے دکھوں کی ضرورت پڑی۔ اسے کوئی غمگین و الم ناک موضوع چاہیے تھا۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے تہہ خانے میں پہنچ گئی۔

تکلیفیں توعرصہ ہوا اس نے دیکھی ہی نہیں تھیں، ظلم کی یہ انتہا دیکھی تو خون جگر سے اس کا سینہ لبریز ہوکر آنکھوں کو رنگین کر گیا۔ ​شاعری کو اس کا پسندیدہ موضوع مل گیا۔ سوئے ہوئے جذبات جاگ اٹھے۔
اشعار زبان زدِ عام ہو گئے۔

زیادہ تر معزز شہری داد و تحسین کے ڈونگرے برسا کر اپنی خوشیوں کی طرف لوٹ جاتے لیکن کچھ دِلوں میں درد سلگتے سلگتے الاؤ بن کر بھڑک اٹھا۔ دردِ  دل والے کسی بچے کو یوں تڑپتا دیکھ کر برداشت نہ کر سکے اور شہر کے معزز ڈاکٹر سے مدد کے طالب ہوئے۔

وہ ساری ڈاکٹری بھول چکا تھا۔ سال ہا سال بعد کوئی موت کی دوائی لینے اس کے پاس آ جاتا تھا۔ صرف موت کا ٹیکا ہی لگا سکتا تھا سو خوشی خوشی جا کر اسے موت کی نیند سلا آیا۔

درد بے لگام ہو گئے۔ آفتوں کا آتش سیال عوام الناس کی رگوں میں رواں ہو گیا۔ دکھ، تکلیفیں، بلائیں، بپتائیں تہہ خانے سے بھاگ نکلیں۔ گلی گلی میں شکار ڈھونڈنے لگیں۔ نخچیروں کی زبوں حالی دیکھی نہیں جاتی تھی ان کی آہوں کے شرارے آسماں چھو رہے تھے۔

فوج کو مئے خانوں کی بیرکوں سے نکال کر ان کو پکڑنے پر لگا دیا گیا۔ بیماریاں، مصیبتیں، دکھ، تکلیفیں پھیلتی ہی جارہی تھیں۔ فوج سے کچھ نہ ہو سکا تو اپنے پرانے اتحادی مذہب کو بلاوا بھیجا۔ وہ بھی ان کا شکار ہو چکا تھا۔ اپنی جنت میں حوروں سے جوڑ توڑ کرنے میں مصروف تھا۔ کچھ ملاؤں نے رضاکاروں کو جہاد پر اکسایا۔ خود کش دھماکوں کے لیے فوج کا بارود زیادہ پرانا ہونے کی وجہ سے ناکارہ ہو چکا تھا سو ناکامی ایک بار پھر مقدر بنی۔ حربے سب ناکام ہو گئے۔

معززین شہر کا اجلاس بلا لیا گیا۔ سال ہا سال کے بعد سیاست دانوں کی بھی ضرورت محسوس ہوئی۔ وہی مسائل کا حل ڈھونڈھ سکتے تھے۔ سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔

سیاست دانوں نے حل ڈھونڈھ نکالا۔ شہر کی اکلوتی گائناکالوجسٹ کو بلایا گیا۔ حکم جاری کردیا گیا کہ جلد از جلد کسی عورت کو حاملہ کیا جائے اور کسی طرح ایک بچہ پیدا کر کے ان کے حوالے کیا جائے تا کہ یہ ساری بلائیں اپنا دل راضی کر سکیں۔

شہر کی تمام عورتوں کو بلا لیا گیا۔ عورتیں جو ماہواری کے چکر، اس کے دکھ درد، اور جنم دینے کی مشکلات سے نجات حاصل کر چکی تھیں۔
بہادرخاتون جو عورتوں کے تمام مصائب کا مداوا کر چکی تھی اور ہمیشہ کھل کر ہنسنے کی عادی ہوچکی تھی، افسردہ بیٹھی سیاست دانوں کا منہ تک رہی تھی۔

اس کے اندر پرت در پرت دکھوں کی کہانیاں پلٹتی جا رہی تھیں۔ حمل کا بار گراں، جنم دینے کی مصیبتیں، بچہ پالنے کی کلفتیں، ممتا کی اذیتیں اور پھر وہ اذیت سے بھری سچی کہانیاں۔ مائیں بچے اس لیے پیدا کرتی ہیں کہ ایندھن بنا کر اس دنیا کے کچھ طاقتوروں کی آسانیوں کے لیے دکھوں کی بھٹی میں جھونکا جا سکے۔ ان کی آسائشوں کے لیے وہ مصیبتوں اور مجبوریوں کی چتا میں جل کر راکھ ہو جائیں۔ کیا دکھ بھری کہانیاں، جو شاید پچھلے جنم کی داستانیں تھیں اب پھر دہرائی جائیں گی؟

وہ عورتوں کے پاس چلی گئی۔ سب کے چہروں پر اولاد کی تکلیفوں، مصیبتوں کا دکھ اور ان کی موت کا دوہا رقم تھا۔ ان کے غمگین چہرے پڑھ رہی تھی۔ ویسی ہی کہانیوں کو دوبارہ جنم نہیں دینا چاہتی تھی۔

اپنے آفس میں پہنچی۔ کاغذ قلم اٹھایا اور لکھا
’’ان مصائب سے غافل ہو کر جن میں انسان الجھا ہوا ہے وہ اولاد کو جنم دیتا ہے اور اس طرح بڑھاپے اور موت کا سبب بنتا ہے۔ اگر اسے صرف اس بات کا احساس ہو جائے کہ اس عمل سے وہ مصیبت اور دکھ میں اضافہ کرے گا، تو وہ اولاد پیدا کرنے سے باز آجائے اور اس طرح بڑھاپے اور موت کا چکر بند ہو جائے۔ گوتم بدھ‘‘

Advertisements
julia rana solicitors

اگلے دن صبح اومیلاس کی اکلوتی گائناکالوجسٹ کی لاش میز پر سر جھکائے ماتم کناں تھی۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

Syed Mohammad Zahid
Dr Syed Mohammad Zahid is an Urdu columnist, blogger, and fiction writer. Most of his work focuses on current issues, the politics of religion, sex, and power. He is a practicing medical doctor.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply