• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • جشن ریختہ : اے ایم یو بنی اردو سے قربت کا سبب -غالب کے کردار نے عشق کرادیا ۔ نصیر الدین شاہ

جشن ریختہ : اے ایم یو بنی اردو سے قربت کا سبب -غالب کے کردار نے عشق کرادیا ۔ نصیر الدین شاہ

’ غالب ‘ نے اردو سے متعارف کرایا بلکہ عشق کرایا ، اردو داں بنایا ۔ زبان سے رشتہ تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جڑ گیا مگر’غالب‘ کے کردار نے اردو میں غرق کرا دیا۔ یہ کردار میں نے جیا ہے اور اگر مستقبل میں ’غالب‘ کے نام پر کوئی نئی پہل ہوئی تو اس میں اداکاری کرنا پسند کروں گا ۔ میں بہت اچھی انگلش بولتا ہوں اور لکھتا ہوں مگر میں سوچتا اردو میں ہی ہوں ۔

 جشن ریختہ کے تیسرے اور آخری دن  ممتاز  اداکار نصیر الدین شاہ نے ایک ٹاک شو میں اردو سے رشتے ،’غالب‘ کے کردار اور فلموں کے بارے میں بڑی تفصیل سے بات کی اور اپنے ذاتی تجربات کو بیان کیا۔ اس ٹاک شو میں ان کی اہلیہ اور ممتاز اداکارہ رتنا پاٹھک بھی شامل تھیں ۔ جنہوں نے ریختہ کے پلیٹ فارم پر دل کھول کر رکھ دیا ۔ پرانے واقعات اور قصوں کو سامعین کے سامنے رکھا ۔

 پروگرام کی شروعات میں  نصیر الدین شاہ نے کہا کہ ایک مسلمان گھرانہ میں جنم ہوا تھا اس لیے سب سے پہلے کانوں میں اذان دی جاتی ہے ،میرے بھی دی گئی تھی مگر میرے گھر کی زبان اردو ہی تھی لیکن میری تعلیم نینی تال میں ہوئی تھی جس کے سبب اردو سے دور ہوگیا تھا۔ تقریبا بھول گیا تھا ۔ میرے ماحول میں اردو نہیں تھی ۔

اردو اور اے ایم یو

 مگر میری خوش قسمتی ہے کہ  جب میں تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی  گیا تو  ایک بار پھر اردو سے تار جڑ گئے ۔مجھے ایسا ماحول ملا جہاں اردو تھی ۔ میں نے علی گڑھ میں اردو کا باقاعدہ استعمال شروع کیا۔  نصیر الدین شاہ نے کہا کہ دوسرا موڑ اس وقت آیا جب میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے دہلی آیا تو ڈرامہ کی دنیا  میں قدم رکھا ۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ میں چاہتا تھا کہ اردو ڈرامے ملیں لیکن اس وقت بھی کوئی اردو ڈرامے نگار نہیں تھے ۔

وہ کہتے ہیں کہ یوں تو اردو سے تعلق اسکول کے دور میں رہا تھا جب ہم غالب کے اشعار اکٹھا  کرتے تھے کیونکہ ہمیں اپنی گرل فرینڈز کو متاثر کرنا ہوتا تھا ۔ ہم بھی رومن میں شعر لکھا کرتے تھے اور سنایا کرتے تھے۔

غالب نے اردو داں بنا دیا

لیکن یہ ’غالب ‘کا ڈرامہ تھا جس نے مجھے اردو سے متعارف کرایا  بلکہ اردو سے رشتہ بنایا ۔

 جب گلزار صاحب نے مجھے غالب کے کردار کے لیے منتخب کیا تو بہت سے لوگوں نے تنقید بھی کی تھی ۔ میں اس کا برا بھی نہیں مانتا  کیونکہ میں نے اس کردار کو نبھانے کے لیے ہی غالب کو پڑھنا شروع کیا اور اس میں غرق ہوتا گیا۔ لوگوں نے کہا کہ ’غالب‘ میں ایسا کردار ادا کیا کہ جب غالب کا تصور کرتے ہیں تو آپ کا چہرہ ہی سامنے آجاتا ہے ۔لیکن میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ غالب سے میری شکل بالکل نہیں ملتی ہے۔  سونہ پر سہاگہ یہ رہا کہ اب لوگ یہ امید کرنے لگے تھے کہ میں غالب کی طرح ہی بات چیت کروں گا۔ انداز اپناوں گا۔

نصیر الدین شاہ نے اس ٹاک شو میں مزید کہا کہ  ’غالب ‘ کا کردار تو میرے لیے ایک خواب تھا ۔ دراصل  گلزار صاحب نے ۱۹۷۴ میں غالب پر فلم بنانے کا اعلان کیا تھا تو اس میں سنجیو کمار کو بظور غالب سائن کرایا تھا۔ جب میں نے یہ خبر پڑھی تو بہت پریشان ہوا ۔ مجھے لگا کہ سنجیو کمار اس کردار کے لیے موزوں نہیں ہیں ۔ اس لیے میں نے گلزار صاحب کو ایک خط لکھا اور ساتھ ہی ایک تصویر بھی بھیجی کے غالب کے کردار کے لیے میں وہ اداکار ہوں جس کی آپ کو تلاش ہے۔ اس وقت میری عمر ۲۳ سال تھی۔

awazurdu

خواب تھا جو حقیقت بنا ۔۔۔

 وہ کہتے ہیں کہ اب آگے کی کہانی سنئے ۔۔۔ اس کے بارہ سال بعد میں ممبئی آیا تو گلزار صاحب کا فون آیا کہ غالب کا کردار ادا کرنا ہے۔ میرے لیے یہ خواب کا حقیقت میں بدل جانا تھا کیونکہ جس فلم کے لیے میں نے گلزار صاحب کو اپنی اداکاری کی پیشکش کا خط لکھا تھا وہ بن ہی نہیں سکی تھی۔

 وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک موقع پر گلزار صاحب کو بتایا کہ ماضی میں کچھ ایسا ہوا تھا میں نے ایک خط لکئا تھا آپ کو جس میں غالب کے کردار کو ادا کرنے کی پیشکش کی تھی ۔ گلزار صاحب نے بتایا کہ وہ خط مجھ تک نہیں پہنچ سکا ۔ مگر میں نے انہیں بتایا کہ اس کردار کے لیے جو جواز پیش کیے تھے ان میں دو اہم تھے۔ اول تو میں گلی قاسم جان سے تعلق رکھتا ہوں، جہاں میرے پھوپھا رہتے تھے اور دوسرا میرٹھ میں رہتا ہوں جہاں  سے غالب کی شراب آتی ہے ۔

ایک بار پھر بنوں گا غالب ۔۔۔

نصیر الدین شاہ نے بات چیت کے دوران کہا ک اگر غالب پر کوئی فلم بنتی ہے تو وہ دوبارہ اس کردار کو ادا کرنا پسند کریں گے ۔ کیونکہ  کل اور آج میں بہت فرق ہوگیا ہے۔ جب ’غالب‘ میں اداکاری کی تھی تو شاعری کی بنیادی باتوں کو سمجھا تھا  اس وقت لوگوں نے میرے اشعار کی ادائیگی پر تنقید کی تھی ۔ میں اس بات کو مانتا ہوں کہ میں غالب کب اس  فلم کے بعد ہی گہرائی کے ساتھ سمجھا۔ اس لیے اگر ایک بار پھر ’غالب‘ پر فلم بنتی ہے تو سب سے بہتر ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ نہ صرف  اداکاری کی بنیادپر فلم بہتر ثابت ہوگی بلکہ تکنیکی طور پر بھی۔ کیونکہ  نویں دہائی میں جب اس کی فلمبندی ہوئی تھی تو پروڈیوسر نے اس کو ’’ویڈیو‘‘ کی شکل میں شوٹ کیا تھا ۔ حالانکہ ہم لوگوں نے اس بات پر زور دیا تھا اس کو ۶۰ ایم ایم پر فلمایا جائے ۔ مگر پروڈیوسر  صاحب تیار نہیں ہوئے ۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس فلم کے پرنٹ کی حالت بہت خستہ ہوگئی ہے۔

awazurdu

 پہل کریں انتظار نہیں  ۔۔۔

نصیر الدین شاہ نے مزید کہا کہ میں ڈرامہ کرتا ہوں ،نوجوان آتے ہیں ،کام کرنا چاہتے ہیں ، کام مانگتے ہیں ۔ میں سب سے یہی کہتا ہوں کہ ایک ڈرامہ لکھو ۔ ادا کاری کے شوقین دوستوں کو ساتھ لواور کچھ دوستوں کو مداح بناو ۔ ڈرامہ شروع کردو۔  نہ بڑے بینر کا انتظار کرو اور نہ ہی بڑے بجٹ کا۔ جو آپ کے بس میں ہے اس کو کرنا شروع کر دو ۔

 زبانوں کا ملن ضروری ہے

 نصیر الدین شاہ نے زبان کے استعمال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ زبا ن کو آسان بنانا ضروری ہے ،ساتھ ہی پڑھنے کے شوق کو برقرار رکھنا ہوگا  کیونکہ یہی طریقہ زبان کے پاس لے جاتا ہے ۔ مگر میں کسی پر اس کے لیے زور نہیں دیتا ہوں کیونکہ  میں اپنے بچوں کو کنٹرول نہیں کرسکتا ہوں ۔

فلموں نے پھیلائی برائی ۔۔۔

جشن ریختہ کے پلیٹ فارم پر  نصیر الدین شاہ نے کہا کہ ہندی فلموں میں تہذیب اور زبان کا ستیا ناس ہوگیا ہے۔ گھٹیا مزاح اور گھٹیا گانے ۔ گھٹیا ڈائیلاگ نے معاشرے پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ سب سے بری بات جو ہندی فلموں سے پھیلی ہے وہ دوسروں پر ہنسنے کا مرض ہے۔ کوئی خود پر نہیں ہنستا ہے بلکہ دوسروں کو نشانہ بناتا ہے ۔ قوم کا مذاق بنایا جاتا ہے۔ پچھلے ساٹھ برسوں سے یہی دیکھ رہا ہو ں۔

انہوں نے کہا کہ  بالی ووڈ کی فلم میں ہیرو کا ایک مسلمان دوست ہوتا ہے جو اس کو بچانے میں مرتا ہے ۔ مسلمانوں کو خوش کرنے کا پرانا نسخہ ہے۔ اسی طرح سکھوں اور پارسیوں کا مذاق بنایا جاتا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ بالی ووڈ کا غبارہ پھٹ جائے گا کیونکہ اب کوریا ئی اور تھائی لینڈ فلموں نے بازی مارنی شروع کردی ہے۔ جو بالی ووڈ کے لیے ایک سبق ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

بشکریہ آواز دی وائس

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply