آن لائن منجن بیچنے والے/آصف جمیل

ازل سے ابد تک طرز معاش میں تجارت ہمیشہ سے ہی باوقار، مہذب اور باعزت پیشہ رہا ہے ۔تاجر کو اس کی شخصیت، کردار ، مردم شناسی قوت فیصلہ اور طرز گفتگو سے تمام طبقات میں نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے ۔
دور قدیم سے اب تک کسی بھی ملک کے لیے اسے ان ہی خصوصیات کی بنا پر سفیر کا درجہ حاصل رہا ۔۔تاجر کی عظمت کو نبی آخری زماں صلی اللہ علیہ وسلم نے بزبان صادق یوں بیان کیا سچا تاجر نبیوں صدیقوں اور شہدا کے ساتھ ہو گا ۔
یہ مقام اسے کیوں کر حاصل ہوا کہ اس صف میں آپ کو انبیا کرام ، رسول علیہ السلام ، جید اصحاب کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ ہر دور کے مقرب بندے ملے گے ۔
یہ ہی نہیں بلکہ تاجر حضرات کے کردار، افعال اور طرز تجارت سے دنیا بھر کے خطوں میں مختلف مذہبی،لسانی اور ثقافتی پھیلاؤ کے ساتھ قوموں کے احوال سے بھی لوگ روشناس ہوئے ۔اور دنیا گلوبل ولیج ٹہری ۔
ہر دور میں کسی بھی بہترین اور کامیاب تاجر کی مارکیٹنگ کا انداز، لوگوں کو متوجہ کرنے کی قابلیت اور مارکیٹ میں جگہ بنانے میں صرف اس کے کردار کے ساتھ الفاظ کے چناؤ اور اپنی مصنوعات کے معیار پر معتدل گفتگو پر مبنی ہوتی ہے ۔
کاروباری دنیا میں مبالغہ آمیز مارکیٹنگ کے ساتھ قصہ گوئی سے اشیاء کی فروخت کرنے والے افراد کو تاجر کی کیٹگری میں کبھی گنا ہی نہیں جاتا ۔۔۔ یا دور حاضر میں ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے اشیاء کی تشہیر کے لیے انہیں مہذب انداز میں ماڈلنگ جو اپنی اداؤں سے آپ کی توجہ حاصل کرتے ہیں یا ذومعنی گفتگو کے ذریعے اپنی مصنوعات کی ترغیب دیتے ہیں انہیں مراثی سمجھا جاتا ہے ۔۔قصہ گوئی میں اخلاق باختہ قصے کہانیوں، ذو معنی الفاظ کا انتخاب اپنی مصنوعات کو امراض مخصوصہ کے تیر بہدف نسخہ بتا کر پیش کرنا ۔لطیفے بنا کر آخر میں اپنی مصنوعات کی تشہیر کرنا ۔یہ کسی دور میں چوک، چوراہوں پر مجمع لگا کر دوا بیچنے والے مداریوں کا کام رہا ہے ۔جو بند پٹاری میں موجود کسی انہونی چیز کے بارے تجسس میں مبتلا کرکے اپنی دوا بیچ ڈالتے تھے ۔
اب یہی صورت حال شوشل میڈیا پر دیکھی جا سکتی ہے ۔اپنی آن لائن وال پر مجمع لگانے کے لئے کچھ نہ کچھ پٹاری کی صورت رکھ کر لوگوں کو دروغ گوئی سے متوجہ کیے رکھتے ہیں ۔
اس ضمن میں شہد جسے قرآن مجید نے شفا کہا ہے ساتھ میں سلاجیت مقوی عناصر سے بنی پنجیری حتی کہ زیتون کے تیل کی مارکیٹ کے لیے بواسیر میں مبتلا افراد کو اس مرض میں زیتون کے تیل کی افادیت کا ذکر کرنے کی کاوشیں بھی نظر آنے لگی ہیں ۔
حیران کن طور پر کسی دور کے چوک چوراہے میں سنیاسی ایسے طریقہ کار سے اپنی مصنوعات بیچتے تھے. جن کے پاس سوائے جنسی امراض اور معدہ کے مسائل کے طب میں کچھ بھی نہیں تھا ہر فرد کو امراض مخصوصہ کا مریض بنا کر اسے نفسیاتی طور پر اس کا شکار کرنے والے فرد کے چلن کو آج کل ہائی کوالیفائیڈ تعلیمی بیک گراؤنڈ رکھنے والے آن لائن اشیاء فروخت کنندہ افراد میں بھی دیکھا جا رہا ہے ۔
ہر چیز کے انسانی جسم پر منفی مثبت اثرات سے قطع نظر انجمن باہمی ستائشی کے جھرمٹ میں ایسی اشیاء کی فروخت دیکھنے میں آ رہی ہے جس سے ہائی بلڈ پریشر، امراض قلب اور شوگر کے ساتھ گردوں کے مسائل بھی خطرناک حد تک کسی بھی فرد کو اپنا شکار کردیتے ہیں ۔
بدلتے موسم میں ہر شخص کو جنسی بخار میں مبتلا کرنے کے لیے صرف تشہیر میں انہی اخلاق باختہ تحاریر اور دروغ گوئی پر مبنی کہانیوں کا سہارا لیا جاتا ہے ۔جن کا حقیقت سے دور دور تک بھی تعلق نہیں ہوتا ۔
فحش قسم کی تشہیر ی مہم جس میں مبالغہ آمیزی کی اتنی بھرمار کہ ہر طرف بے حیائی ہی بے حیائی نظر آئے ۔اس سے ایک طرف تو نوجوان نسل جنسی بے راو روی کا شکار ہوتی ہے ۔دوسری جانب اسی اشیاء کے دیگر مسائل میں مفید اثرات بھی پس پردہ چلے جاتے ہیں ۔
شریعہ اینڈ بزنس میگزین میں اس ہی موضوع پر چھپنے والے آرٹیکل میں صاحب تحریر اسلامی سکالر اس مبالغہ آرائی پر مبنی تشہیر کے بارے کہتے ہیں ۔
“پروڈکٹ میں جتنی خصوصیات واقعتا پائی جاتی ہیں اتنی ہی خریدار کو Communicateکرنی چاہیں۔ زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے اگر خریدار متاثر ہوگیا اورآپ نے چرب زبانی یا کسی بھی طریقہ سے خریدار کو اپنے دام میں پھنسالیا ، اس نے وہ چیز خرید لی اور پھر وہ مطلوبہ معیار کی نہ ہوئی تو یہ خریدار کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا اور دھوکہ شرعاً حرام ہے”
مہذب کاروباری دنیا میں کسی بھی مصنوعات کے معیار اس کے فوائد اور نقصانات پر مفصل انداز میں صارف کو آگاہ کیا جاتا ہے ۔اس کی مقدار، طریقہ استعمال اور کن افراد کے لیے وہ سودمند ہیں اور کن اشخاص کے لیے مضر صحت ان تمام پہلوؤں کو جلی حروف سے لکھا جاتا ہے ۔جس کی روشن مثال سگریٹ اور ڈرنکس کے ساتھ مختلف ادویات کی پیکنگ پر درج دیکھی جا سکتی ہیں ۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں غیر کاروباری مزاج رکھے آن لائن فروخت کنندہ افراد ان تمام معیارات کے برعکس صرف اپنی چرب زبانی، ذومعنی مارکیٹنگ اسٹائل سے صارف کو کسی بھی قسم کی معلومات فراہم کرنے سے معذور نظر آتے ہیں ۔
نفسیاتی، جنسی، سماجی اور مذہبی احساسات کو اجاگر کرکے اپنے مادی مفادات کے حصول میں لوگوں کے جذبات اور مال سے کھیلنا کا رویہ اب عام ہے ۔
شریعہ اینڈ بزنس میگزین میں مارکیٹنگ کے اصول پر چھپنے والی تحریر میں اشیا کے منفی اور مثبت اثرات پر روشنی ڈالتے صاحب تحریر نے لکھا

آج کل تشہیر ی اشتہارات میں پروڈکٹ کی خوبیوں (Qualities )کو جلی حروف میں لکھا جاتاہے، جبکہ اس کے نتیجہ میں خریدار پر عائد ذمہ داریوں کو اتنا باریک لکھا جاتاہے کہ بسااوقات اس کی طرف دھیان ہی نہیں جاتا۔ جس سے مبیع کی مناسب وضاحت خریدار کے سامنے نہیں آتی اور مبیع کو خریدار سے چھپانا لازم آتاہے اور مذکورہ بالا حدیث کی روشنی میں مبیع کو چھپانا بیع میں بے برکتی کا باعث بنتاہے ۔”
تجارت ایک مقدس پیشہ ہے جو سرحدی، سیاسی، معاشرتی اور مذہبی نظریات سے بالا تر ہوتا ہے اور تاجر اپنے گاہکوں کا امین ہوتا ہے ۔ایک اچھے تاجر کے لیے چاہیے مثبت کاروباری عمل کے فروغ میں بجائے ادھر اُدھر کی باتوں کے گاہک کے لیے مناسب قیمت میں معیاری اشیاء کی فراہمی اور اس کے مالی، جسمانی مفادات کے تحفظ کا خیال رکھ لیا جائے تو یہ خود کی کاروباری ساکھ اور معاشرے میں مثبت کاروباری عمل کے لیے زیادہ بہتر رہے گا ۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply