مقدس گائے /زرک میر

ہندو ایک جانوریعنی گائے کو مقدس جان کر پوجتے ہیں جس میں نہ تو جانور کا قصور ہے اور نہ ہی ہندوؤں کے مذہبی تشکیل میں ابھی کے باشعور ہندوؤں کی کوئی غلطی بلکہ اسکا پس منظر بہت دلچسپ ہے ،البتہ ایک طرح سے یہ ایک قدرت دوست جانور دوست عمل ہے جہاں ہندو  گائے کو مقدس سمجھ کر اس کا گوشت تک نہیں کھاتے بلکہ بعض ہندؤ طبقے گوشت تک نہیں کھاتے ۔
مجھے یاد ہے کہ خادم رضوی نے ایک تقریر میں ہندوؤں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ
” یہ ہندو گائے کا پیشاب پینے والے ہمارا کیا مقابلہ کرینگے جبکہ ہم گائے کا دودھ پیتے ہیں۔ “

لیکن آج جب ہم عمومی طورپر مسلمان جبکہ خصوصی طورپر پاکستان کے مسلمان نفسیات پر فوجی ، جہادی اور مسلح لشکر کی بے پناہ اہمیت کو دیکھتے ہیں تو پاکستانی قوم کی جانب سے فوج کو پوچنے اور اس کو مقدس گائے بنانے کا جواز بخوبی سمجھ آتا ہے ۔ پوجنے اور اس پوجا پاٹ میں پیشاب تک پینے کے  قوی احتمال کو دیکھتے ہوئے مجھے آج بھی ہندو اس حوالے سے زیادہ اچھے لگتے ہیں کیونکہ گائے ہند وؤں  کو پوجنے پر کوئی نقصان نہیں پہنچاتا سوائے اس کے کہ جب یہ گائے بوڑھی ہوتی ہے تو یہ ان کیلئے بوجھ بن جاتی ہے جن کو وہ ایڑیاں رگڑتے ہوئے مرتا بھی نہیں دیکھ سکتے لیکن پاکستانی قوم اپنی مقدس گائے کو نا  صرف وردی پہناتی ہے بلکہ اس کے ہاتھ چھڑی دے کر اس کو چرواہا اور خود ریوڑ بن کراس کی اطاعت قبول کرتی ہے۔ جبکہ ریٹائرمنٹ پر انہیں اربوں روپے دے کر اپنے سے دور ان کے پیدا کردہ جہادی بربادی اور خانہ خرابی سے کہیں دور خاموش ایک خوبصورت جزیرے پر بھیج دیتے ہیں تاکہ یہ آرام اور چین سے زندگی گزار کر اللہ اللہ کرکے اپنی آخرت سنواریں جبکہ اس کی جگہ جوان مقدس گائے کی وردی پوشی کی رسم انتہائی عقیدت و احترام سے منائی جاتی ہے ۔ ہندو تقدس میں شاید ہی کسی گائے کو گرمی یا سردی میں کبھی کوئی وردی یا لباس پہنائیں ۔

ہندوؤں کے ہاں اب گائے کا تقدس بھی محض رسمی رہ گیا ہے لیکن مسلمانوں بالخصوص پاکستانیوں کی جہاد مزاجی نے ان کی  مقدس گائے کو ہمیشہ تازہ دم کررکھا ہے اور یہ رسم مزید پختہ اور سخت ہوتا جارہا ہے اور اب تو ماشاء اللہ حافظ قرآن مقدس گائے لا رہے ہیں جس سے یہ رسم مزید بام عروج کو پہنچنے والی  ہے ۔ ہندوؤں کی مقدس گائے تو بیچاری  بیماری میں مرتی  ہے اور ہندوستان میں ہی چھری کے نیچے آجاتی ہے ، گاڑیوں کے نیچے آکر کچلی  جاتی  ہے لیکن یہاں مقدس گائے کو انتہائی اہمیت کا حامل سمجھ کر اسے ہماری سڑکوں پر لایا ہی نہیں جاتا اور نہ ہی کبھی بیماری کا شائبہ گزرا ہے ۔

ہماری مقدس گائے کی خاص بات یہ  ہے کہ یہ ہندوؤں کی  مقدس گائے کی طرح نیوٹرل نہیں ۔ ہمیشہ ٹاپ گیئر میں رہتی  ہے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوؤں کے ہاں گائے اس لئے مقدس ٹھہری  کہ یہ کھیتی باڑی کیلئے کارآمد تھی  اور اس کی تعداد کی کمی کے باعث پانچویں اور چٹھی صدی عیسوی میں اس کو ذبح کرنے پر آہستہ آہستہ پابندی عائد کی گئی جو کہ انتہائی دلچسپ اور خوبصورت رسم ہے اور پوری انسانیت کا ورثہ ہے ۔

اپنے ان تہذیبی رنگوں کی وجہ سے مجھے ہندو مذہب بہت بھا گیا ہے بالخصوص جب سے میں نے شیتل سے محبت کی ہے لیکن مجھے ساتھ ساتھ بیف برگر بہت پسند ہیں۔ میں نے اور شیتل نے کئی بار   ساتھ میں بیف برگر کھائے بھی ہیں ۔

اب یہ تو قوموں کی ضروریات ہیں جو اشیاء کو ان کے مزاج کے مطابق شناخت دیتی ہیں تب مسلمانوں بالخصوص پاکستانیوں کو زراعت سے زیادہ جہاد اور قتال میں دلچسپی ہے تب ہی ان کے ہاں مقدس گائے کا تصور الگ اور منفرد ہے جو وردی پوش ہے ۔

دلچسپ تو یہ ہے کہ ہندوؤں کو اپنے گاؤ ماتا پر آ پس میں مذہبی اختلاف ہو لیکن پاکستان کے تمام مذہبی فرقے جو آپس میں لاکھ ایک دوسرے کا گلہ شیعہ سنی کہہ کر کاٹیں اور ایک دوسرے کو جنتی اور جہنمی قرار دیں لیکن اپنی  مقدس گائے پر وہ ایک ہی ” پیج ” پرہیں کیونکہ مسلمان واحدانیت ( ایکتا) پر پختہ یقین محکم رکھتے ہیں ۔

یوں تو گائے گھاس کھاتی ہے لیکن ایٹم بم بناتے ہوئے ہماری مقدس گائے نے ہمیں خوب گھاس کھلائی ، لیکن ہماری مقدس گائے خود ماشاء اللہ لاڈ پیار میں انسانی گوشت بھی کھاتی ہے اور بقول سردار عطاء اللہ مینگل ہمارا خون بہت میٹھا ہے ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

 نوٹ؛اس تحریر میں پیش کیے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں،ادارے کا ان سے  متفق ہونا ضروری نہیں ۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply