• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • نیل کے سات رنگ(کیفے چاڈ، طیارے کی ہائی جیکنگ) -قسط15/انجینئر ظفر اقبال وٹو

نیل کے سات رنگ(کیفے چاڈ، طیارے کی ہائی جیکنگ) -قسط15/انجینئر ظفر اقبال وٹو

وائرلیس پر کنٹرول روم سے ہمیں چیک پوسٹ پر روکنے کی ہدایات آرہی تھیں۔پتہ چلا کہ پاکستانی مائیاں (خواتین پولیس آفیسرز)اپنے دستی بیگ پنڈال میں ہی بھول کر اپنے ہاسٹل چلی گئی تھیں جن میں اان کے موبائل فون اور ریزگاری وغیرہ تھی-چونکہ ان کا ہاسٹل الجنینہ شہرکے پرلے سرے پر ہمارے ریسٹ ہاؤس کے قریب ہی تھا اس لئے میجر ارشد نے ہماری گاڑیاں رکوا لی تھیں تاکہ پاکستانی جگاڑ لگاتے ہوئے ہم جاتے ہوئے راستے میں ان کے ہاسٹل میں دستی بیگ پہنچاتے ہوئے جایئں-گو شاہ جی اس حق میں نہ تھے اور انہیں اس میں کوئی سازشی تھیوری نظر آنے لگی تھی مگر میرے کہنے پر انہوں نے یہ بیگ وصول کر لئے-ان کا فرمان تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کی کوئی عورت اپنا دستی بیگ بھول جائے-
ریسٹ ہاؤس واپسی پر عصر کا وقت ہو گیا تھا – آتے ہی ہمیں اپنے دارفوری ملازم نے کل صبح اینٹیلیجنس دفتر حاضری کا پیغام سنایا تھا-ہم آرام کی غرض سے لیٹ گئے –رات کے کھانے سے کچھ پہلے ہمیں بیدار کر دیا گیا- کھانے میں ایک دفعہ پھر ابلی ہوئی جنگلی لوبیا (فول)دیکھ کر ہمارا موڈ بہت خراب ہوگیا تھا- ہم’الجنینہ’ میں اپناآخری ڈنر’فول’ کی ڈش سے بالکل نہیں کرنا چاہتے تھے-شاہ جی نے میرے کان میں آہستہ سے کہا کہ ‘کسٹم’ کے علاقے کے دوسری طرف جو آبادی ہے وہاں پر ایک چھوٹا سابس اڈا نظر آتا ہے- اگر وہاں کےکسی چھپر ہوٹلوں میں سے کسی ایک میں ڈنر ہو جائے تو آج کی شام یادگار ہو جائے گی -تاہم اصل مسئلہ اپنی سیکیورٹی پر معمورپولیس والوں سے آنکھ بچا کر ریسٹ ہاؤس سے نکلنے کا تھا-جس کے لئے ہمیں اپنے یو ای ٹی کے ہاسٹل میں فلم کا آخری شو دیکھ کر واپس آنے کی تیکنیک بہت کام آئی اور ہم کچھ دیر کی کوشش کے بعد اس اجڑے ہوئے اڈے کی طرف رواں دواں تھے-
چھوٹی سی بلیک ٹاپ سڑک اڈے کی طرف جا رہی تھی جس پر اس وقت کوئی ٹریفک نہیں تھی-اس سڑک پر شام کے بعد سناٹا چھا جاتا تھا-اڈے پر تین چار چھپر ہوٹل کھلے ہوئے تھے- ہم نےان میں سے ایک کا انتخاب کیا جو کہ ایک بہت بڑے درخت کے نیچے تھا- اس بوڑھے درخت کا پورا تنا اس چھپر ہوٹل کے اندر تھا-اس سڑک کی مناسبت سے اس ہوٹل کا نام کیفے چاڈ تھا کیونکہ یہ سڑک پندرہ کلومیٹر دور جمہوریہ چاڈ کے بارڈر کی طرف جا رہی تھی-یہ چھوٹی سی آبادی بھی چاڈسے آئے لوگوں کی ہی تھی-ہوٹل کے اندر وہی مست ماحول تھا- شیشے اور چرس کا دھواں ہر طرف بھرا ہوا تھا-لوگ مختلف ٹکڑیوں کی شکل میں بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے – کچھ لوگ ‘گوٹی’ کھیل رہے تھے- ایک طرف سنوکر لگا ہوا تھا جس پر چند نوجوان کھڑے تھے –اندر چاڈین موسیقی کی دھنوں نے اپنا رنگ جمایا ہوا تھا-ہم ‘الجنینہ’ میں اپنی آخری رات مقامی ماحول میں جذب ہو کر منانا چاہ رہے تھے-
ہم نے کھانے کا آرڈر کیا اور اندرتھڑے پر ٹانگیں پسار کر بیٹھ گئے – سنوکر کھیلنے والے جوان اب ایک طرف چلے گئے تھے –ان میں سے دو جوان باہر نکل کر کسی کو فون کرنے لگے جن کو شاہ جی کی عقابی نگاہیں اندر سے بیٹھ کر دیکھ رہی تھیں-وہ فون کرتے ہوئے ہماری طرف باربار ہاتھ سے اشارے کر رہے تھے- ایک جوان ہمارے ساتھ والی ٹیبل پر آکر بیٹھ گیا تھا اور ہم پر نظر رکھے ہوئے تھا جبکہ دو نے ہوٹل کے خارجی دروازے پر پوزیشن سنبھال لی تھی-مجھے اس صورتحال کی طرف شاہ جی نے توجہ دلائی تھی ورنہ میں تو وہاں ساتھ بیٹھے ایک بندے سے گپ شپ لگارہا تھا- پہلے تو میں نے اسے شاہ جی کی متجسس طبیعت کا ایک واہمہ ہی سمجھا لیکن ان جوانوں کی سنجیدگی اورہم پر غیر معمولی توجہ سے معاملہ کچھ گڑبڑ نظر آرہا تھا- شاہ جی نے کہا کی وٹو صاحب جلدی ہی کوئی ترکیب لڑانی ہو گی- ہمارے پاس وقت کم ہے- انہوں نے فونن کردیا ہے اور پندرہ بیس منٹ میں ہم چاڈ کے بارڈر کے اس پار ہوں گے-میں نے جلدی سے اغبش کو فون لگایا مگر اس نے کال اٹینڈ نہیں کی- مجھے اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا تھا- ایک مرتبہ پھر ہم سے سیکیورٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی ہوگئی تھی-
ہم نے ساتھ بیٹھے بندے سے باتھ روم کا پوچھا اور ہوٹل کے بغلی حصے کی طرف کھسک کرآگئے جہاں شاہ جی نے پڑی خشک لکڑیوں سے سرکنڈے کی دیوار میں ایک سوراخ بنایا جس میں سے رگڑ رگڑ کر ہم باہر نکلے جہاں گہری تاریکی کا راج تھا-ہم راستہ ٹٹولتے ہوئے اڈے کے ان ہوٹلوں کے پیچھے سے ہوتے ہوئے سڑک پر آئے اور پھر سڑک سے ہٹ کر تیزی سے تقریبا بھاگتےہوئے ریسٹ ہاؤس کی طرف سپیڈ لگادی- دور سے کیفے چاڈکے سامنے دو گاڑیاں رکتے ہوئے نظر آرہی تھیں –
جب ہم ریسٹ ہاؤس پہنچے تو ہمارے مقامی دوست ‘گوٹی” کھیل رہے تھے – وہ سمجھے کہ ہم باہر سے واک کرکے آرہے ہیں-ہم سیدھا کمرے میں آئے اور پانی کے متعدد گلاس چڑھانے کے بعد اپنے اپنے بستروں پر دراز ہوگئے-اپنی سیلانی طبیعت کی وجہ سے ہم آج اغوا ہونے سے بال بال بچے تھے- ‘الجنینہ’ واقعی ایک عام شہر نہیں تھا-شام کو ہاسٹل میں دستی بیگ دیتے ہوئے بھی ہم ایک صورت حال کا شکار ہونے سے بچے تھے- ہمیں ‘الجنینہ’ مین گزارے گئے گزشتہ پانچ روز پانچ سالوں کی طرح لگ رہے تھے- اچھی بات یہ تھی کی صبح ہم ‘خرطوم’ واپسی کے پروان بھر رہے تھے-کچھ دیر سستانے کے بعد میں لیپ ٹاپ پر اپاپنی روزانہ کی ڈائری لکھنے بیٹھ گیا – یہ سائٹ وزٹ کے دوران میرا مستقل معمول تھا-جبکہ شاہ جی ‘الجنینہ” کے قدیمی مرکزی بازار سے خریدی گئی امپورٹڈ پرفیومز اور چمڑے کی اشیاء کو اپنے اٹیچی میں منتقل کرنے لگے-
اگلی صبح ہم نے دس بجے ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد اپنے دارفوری خدمت گاروں کو الواداع کہا- اغبش ہمیں گاڑی میں چھوڑنے’ الجنینہ’ ائیرپورٹ آیا تھا-یہ دوکمروں پر مشتمل ایک عمارت تھی جس کے اندر بادامی باغ کے لاری اڈے پر واقع نیوخان کے ٹرمینل کا گمان ہوتا تھا- لکڑی کی دو میزوں اور کرسیوں پر مشتمل کاؤنٹر پر ہر طرف دارفوری افراد کا جمگٹھا لگا ہوا تھا-اس ڈیوڑھی کے سٹیل کے دروازے کے دوسری طرف رن وے تھا جس پر مارشلینڈ کے جہاز کا پائلٹ اپنے ظیارے کو زگ زیگ انداز میں ایک دفعہ پھر لینڈ کروانے والا تھا-ہم خوش نصیب تھے کہ اتنے کم وقت میں دارفور ی زندگی کے سب رنگ دیکھ کر خرطوم زندہ سلامت واپس جا رہے تھے- ایٹیلیجنس والوں نے ہماری بہت نیگیٹو رپورٹ دی تھی- اور ہمارے اگلے وزٹ کو ایڈوانس سیکیورٹی کلئرنس سے مشروط کر دیا تھا-
جہاز نے اڑان بھر لی تھی اور ہماری فضائی میزبانوں نے ہمیں چائے کافی سرو کرنا شروع کر دی تھی-شاہ جی ان کے ساتھ اپنی عربی زبان کی پریکٹس کر رہے تھے- یہ اڑان کوئی دو گھنٹے جاری رہی جس کے اختتام پر پائلٹ ہمیں سیٹ بیلٹ باندھنے کی ہدایات دے رہا تھا کیونکہ ہم خرطوم لینڈنگ کے لئے تیا ر تھے – تاہم اس اعلان کے بعد جہاز نے لینڈنگ کے لئے نیچے اترنے کی بجائے فضا میں چکر لگانا شروع کر دئے اور تقریبا آدھا گھنٹہ سے زائد خرطوم ائرپورٹ پر اوپر سےگول چکر لگا تا رہا- ہمیں سمجھ نہیں آرہی تھی کی یہ لینڈ کیوں نہیں کر رہا-اچانک پائلٹ نے خوفزدہ آواز میں عربی زبان میں اناوسمنٹ کرنا شروع کر دی تھی-شاہ جی فرمانے لگے کہ لگتا ہے مورنی میں سوئی ہوئی ممی کی بدروح ادھر بھی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑ رہی-
اسی اثنا میں جہاز نے ایک زور کا جھٹکا لیا اور ترچھا ہوتے ہوئے بلند ہونے لگا- شاہ جی کے پاس سے گزرتی کالی حسینہ ائر ہوسٹس کے ہاتھ میں موجود ٹرے سے کافی کا کپ شاہ جی پر گر چکا تھا-شکر ہے ان کے صرف کپڑے خراب ہوئے تھے اوروہ جلنے سے بچ گئے تھے-موٹے ہونٹوں والی کالی حسینہ اب شاہ جی کو “مافی” یعنی’ سوری” کہہ رہی تھی اور ٹشو لے آئی تھی تاکہ شاہ جی کی شرٹ سے کافی کو خشک کیا جاسکے-عام حالات میں شاہ جی اس صورت حال کو کافی انجوائے کرتے مگر اس وقت ان کی سٹی گم ہو چکی تھی- جہاز میں کافی بے چینی تھی- شاہ جی کا خیال تھا کہ شائد جنجوید کے کسی گروہ نے ہمار ا جہاز ہائی جیک کر لیا ہے-جہاز اب خرطوم کے ہوائی اڈے کو پیچھے چھوڑتے ہوئے جنوب کی سمت اڑ کر رہا تھا—–
(جاری ہے)

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply