• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • نیل کے سات رنگ (حجۃ ضعیفہ کا ناشتہ، مرکوب الجنینہ ، پاکستان ڈے)-قسط14/انجینئر ظفر اقبال وٹو

نیل کے سات رنگ (حجۃ ضعیفہ کا ناشتہ، مرکوب الجنینہ ، پاکستان ڈے)-قسط14/انجینئر ظفر اقبال وٹو

عدیل شہزاد نے ہماری خیریت معلوم کرنے کے لئے خرطوم سے فون کیا تھاوہ کل کاسارا دن اور رات ہمارے ساتھ رابطے کی کوشش کرتا رہا تھا مگر ہمارے فون نہیں لگ رہے تھے۔چونکہ یو این میں ہونے کی وجہ سے وہ ‘مورنی’ کے علاقے کی حساسیت سے آگاہ تھا اس لئے وہ ہمارے بارے میں فکر مند تھا۔ہم نے اسے اپنے سفر کی مختصر سی روئیداد سنائی –وہ ہمارے رات واپسی کے سفر کا سن کر خوش نہیں ہوا۔اور ہمیں ‘پاگل’ کا خطاب عطا کیا۔ یہ پولیس والے یو این میں جا کر بھی تبدیل نہیں ہوتے۔

عدیل نے ہمیں بتایا کہ کل صبح ‘الجنینہ’ کے یو این کمپاؤنڈ میں پاکستان ڈے منایا جا رہا ہے۔یو این میں خدمات سر انجام دینے والے پاکستانی دستے کی پاکستان واپسی اور نئے پاکستانی دستے کی آمد پر یہ دن ہر سال منایا جاتا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی حسن اتفاق تھا کہ ہم اس دن ‘الجنینہ’ میں تھے۔ اگرچہ سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے پرائیویٹ افراد کا یو این کمپاؤنڈ میں داخلہ ناممکن تھا مگر عدیل بضد تھا کہ وہ اپنے ذرائع استعمال کر کے ہماری شرکت ممکن بنائے گا۔ چونکہ ہماری خرطوم واپسی کی فلائٹ پرسوں کی تھی اس لئے صحرائے صحارا کے مرکز میں چاڈ اور لیبیا کی سرحد پر واقع اس قصبے میں سبز ہلالی پرچم کی بہار دیکھنا یقینا ہمارے لئے بھی زندگی بھر یاد رہنے والا تجربہ ہوتا۔

ہم لنچ کے لئے ‘برگر کیفے’ چلے گئے اور وہاں سے فارغ ہو کرساتھ ہی واقع ‘الجنینہ’ کے مرکزی قدیمی بازار چلے گئے –یہ بازار چمڑے کی بنی ہوئی اشیاء کی وجہ سے مشہور تھا۔ یہاں پر اندرونی گلیوں کی ساری کی ساری مارکیٹیں جانوروں ک کے صاف شدہ خام چمڑے کے بڑے بڑے ٹکڑوں سے بھری ہوئی تھیں – گائے ، دنبے ،اونٹ ،نیولے، مگر مچھ ، سانپ اور اژدھے تک کے چمڑے موجود تھے۔اپنی پسند کے جانور کی کھال کا چمڑہ منتخب کریں اور اپنے پاؤں کی ناپ کا جوتا ، ہینڈ بیگ پرس یا کوئی بھی حسب ضرورت چیز بنوایئں۔ ہم یہاں آکر بہت خوش ہوئے تھے اور عورتوں کی طرح دیوانہ وار شاپنگ کرنے لگے۔

یہاں کی خاص سوغات “مرکوب الجنینہ” تھا جوکہ خام چمڑے سے بنا وہ جوتا تھا جو پاؤں کی ہر ساخت اور ہراندازکے ساتھ فٹ ہوجاتا تھااور بہت آرام دہ تھا۔ میں نے والد محترم کو فون کرکے ایک مرکوب ان کے لئے خریدا۔ سنیک لیدر کا ایک اور مرکوب بھی اپنے لئے خریدا جو کی میرے پاس اب تک موجود ہے۔ کچھ پرس اور ہینڈبیگ خریدے۔ساتھ ہی امپورٹڈ اور اسمگل ہونے والی اشیاء کی مارکیٹ تھی جہاں سے شاہ جی نے پرفیوم خریدے اور یوں یہ قافلہ شام تک اپنی جیبیں خالی کرواکر ریسٹ ہاؤس واپس پہنچا۔

رات کو ریسٹ ہاؤس کے صحن میں شاہ جی نے فرشی نشت جما لی۔ ریسٹ ہاؤس کا ایک دارفوری ملازم مصطفے بہت دلچسپ شخصیت تھا وہ شاہ جی کو بتانے لگا کہ وہ ایک سائینٹسٹ ہے جس کے پاس بہت سے آئیڈیاز ہیں لیکن اس کی حوصلہ افزائی کرنے والا کوئی نہیں ورنہ وہ اکیلا پورے سوڈان کی قسمت بدل سکتا ہے۔اس کے پاس پانی سے بجلی بنانے کا آسان ترین فارمولا تھا جو اس نے ہماری کوششوں کے باوجود ہمارے ساتھ شئیر نہیں کیا۔اس کا خیال تھا کہ ہم پاکستانی اس کا فارمولا چرا کر اس سے پہلے ہی یہ ایجاد اپنے نام کرلیں گے۔

دوسرے دن کی صبح ‘ حجۃ ضعیفہ” کے ہاتھ سے بنی ہوئی اسپیشل ڈش کے ناشتے سے ہوئی جس کے لئے ہمیں “حجۃ ضعیفہ” کے آستانے پر جانا پڑا۔یہ ایک بہت ہی ضعیف قسم کی خاتون تھیں جو کہ بمشکل ہل چل سکتی تھیں لیکن ان کی ڈش پورے دارفور میں مشہور تھی۔یہ گندم کے حلوہ نما ڈش تھی جو مجھے تو بالکل پسند نہیں آئی – لیکن “حجۃ” کی بزرگی کی وجہ سے ان سے بات چیت کرکے بڑا مزہ آیا۔جب تک دوسرے لوگ ناشتا کرتے رہے میں ‘حجۃ” کے پاس بیٹھا رہا۔ان کا پورا منہ جھریوں سے بھر چکا تھا اور عمراسی سال سے زیادہ تھی۔وہ دارفوراور اپنی جوانی کے اچھے دن یاد کرتی رہیں۔ان کی آنکھیں دارفور کی بربادی کی داستان بیان کرتے کرتے باربار آنسوؤں سے تر ہوجاتیں جنہیں وہ اپنے دوپٹے سے صاف کرلیتیں۔

ناشتے کے بعد ہماری اگلی منزل یو این کا کیمپ تھا جہاں پر پاکستان ڈے کی تقریب تھی۔ عدیل نے چیتوں والا کام کیا تھا۔ اس نے ہمارے ساتھ ہمارے سوڈانی دوستوں کے لئے بھی یو این کمپاؤنڈ میں داخلے کا این او سی لے لیا تھا جس پر ہماری بہت’ٹوہر’ بن گئی تھی۔مقامی دوستوں کے لئے یہ ایک انہونی تھی۔

کمپاؤنڈ کے داخلی دروازے پر پاکستانی جوان جیپوں میں ہمارے وی آئی استقبال کے لئے آئے ہوئے تھے جو ہمیں سیدھا پریڈ گراؤنڈلے گئے کیونکہ ہم ناشتے کی وجہ سے لیٹ ہو گئے تھے۔ہمارے لئے اگلی نشتیں مختص تھیں۔ یو این دارفور مشن میں شامل ملکوں کے فوجی جوان اور آفیسر اپنی خوش نما وردیوں میں سیٹوں پر بیٹھے ہوئے تھے اورہم دونوں شلوار قمیض پہنے ان وردی والوں میں اگلی نشتوں پر براجمان بہت نمایاں لگ رہے تھے۔ یو این کے فوٹو گرافر نے آکر سامنے سے ہمارے فوٹو لیا جو کہ بعد میں یو این کے میگزین کے سرورق پر چھپا ۔

پاکستانی فوجی جوان پریڈ کررہے تھے۔ مختلف دستے سلامی دیتے ہوئےچبوترے کے سامنے سے گزرنے لگے جہاں  پر یو این کے فوجی آفیسر کھڑے تھے۔گراؤنڈ میں ہر طرف سبز ہلالی پرچموں کی بہار لگی ہوئی تھی۔پریڈ ختم ہوئی تو پاکستان کلچرل شو ہوا جس میں پاکستان کےمختلف علاقوں کی ثقافت کے رنگوں کو اجاگر کیا گیا تھا۔ساتھ ساتھ سٹیج سے انگلش میں کمنٹری ہو رہی تھی۔پاکستان کےمختلف علاقائی رقص پیش کئے گئے جس میں کوئی بھی شامل ہوسکتا تھا۔ بہت سے لوگوں نے ان میں شامل ہو کر اس شو کو چار چاند لگا دئے۔یواین ہیڈکوارٹر سے آئے کرنل نے تو باقاعدہ بھنگڑا ڈالا اور خوب موج مستی کی۔

پریڈ کے بعد بڑا کھانا تھا جس میں میجر ارشد ہمیں اسپیشل پکڑ کر لے گئے اور یو این کے لوگوں سے تعارف کروایا۔وہاں موجود لوگ ہمارے ‘الجنینہ”آنے کا مقصد اور ہمارے سنسنی خیز سفر پر بالکل یقین کرنے کو تیار نہیں تھے اور ہماری اس حرکت کو پاگل پن قرار دے رہے تھے۔میجر ارشد کا سینہ تھوڑاا ور چوڑا ہو گیا تھا اور وہ دل کھول کر پاکستانی انجنیرز کی بہادری کی تعریف کررہے تھے۔وہاں پر کچھ پاکستانی خواتین پولیس آفیسرز بھی نظر آئیں جو اس مشن میں شامل خدمات سرانجام دے رہی تھیں۔

اس سارے مجمعے میں وہ لیزر نگاہیں بھی ہمیں نظر آگئی تھیں جو کہ ‘الجنینہ” میں پچھلے پانچ دن سے ہماری نگرانی کر رہی تھیں۔انہیں دیکھتے ہی شاہ جی نے کہا کہ وٹو صاحب کل پھر انٹیلیجنس والوں کے دفتر کی حاضری پکی سمجھو۔کھانے کے بعد میجر ارشد نے ہمیں علیحدگی میں ملاقات کے لئے روک لیا ا ور وہ اور ان کے باقی ساتھی آفیسر دیر تک ہمارے وزٹ کے حوالے سے بات چیت کرتے رہے۔

ہم نے میجر صاحب سے یو این مشن کی بابت پوچھا تو انہوں نے بڑے دلچسپ انکشافات کئے۔وہ بتانے لگے کہ مشن کے افراد کو یہاں کسی بھی قسم کی کاروائی کرنے کی اجاز ت نہیں۔ ہم لوگ صرف آبزرور ہیں ۔اور حکومت اور باغیوں کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کی نگرانی کررہے ہیں۔ جوانوں سے بات چیت ہوئی توان کا کہنا تھا کہ ہمیں یو این کے کمپاؤنڈ سے باہر جانے کی اجازت نہیں۔ کمپاؤنڈ کے باہر مقامی فوج کے دستے پہرہ دیتے ہیں –صبح سویرے مشن والوں کی ایک پارٹی یو این کی بکتر بند گاڑی میں مہاجرین کے کیمپوں تک چکر لگانے جاتی ہے۔ اس کے آگے اور پیچھے مقامی سکیورٹی اداروں کی گاڑیاں حفاظت پر معمور ہوتی ہیں –کچھ دیر بعد یہ گاڑی جس طرح گئی تھی اسی طرح واپس آجاتی ہے اور پھر ہم سارا دن فارغ ہوتے ہیں۔ ہمیں نیچے اتر کر مہاجرین یا مقامی لوگوں سے بات کرنے یا ان کی مدد کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہے۔ بعض اوقات ہم پرٹوکول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کچھ مدد کردیں تو لائن حاضر کر دیے جاتے ہیں۔

جوانوں نے بتایا کہ پاکستانی ڈاکٹر یو این والوں سے آنکھ چھپا کر مہاجرین کی کافی مدد کردیتے ہیں ۔بچوں ،بوڑھوں اور حاملہ عورتوں کا علاج کر دیتے ہیں۔ وہ بعض اوقات تو باغیوں کے علاقے میں بھی لوگوں کے علالج معالجے کے لئے چلے جاتے ہیں۔ یہ ڈاکٹر مقامی لوگوں، مہاجرین اور باغیوں کے لئے یکساں قابل احترام ہیں۔پاکستانی دستوں کی ان خدمات کی وجہ سے پاکستانیوں کو یہاں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

یو این کا کیمپ فوجی جوانوں کے لئے ایک جیل کی مانند تھا جہاں وہ خرطوم سے آتے ہی قید ہو جاتے اور پھر گھر جانے کے وقت ہی باہر نکل سکتےتھے۔ اس جیل میں وقت گزاری کے لئے ان جوانوں نے کوکنگ ، ورزش اور گارڈننگ جیسی مثبت سرگرمیوں کا سہارا لیا ہوا تھا۔ اس جیل کا سب سے زیادہ بولا جانے  والا فقرہ تھا ” اج کی پکائیے”۔ اوران کا سب سے زیادہ وقت ڈالر کا ریٹ چیک کرنے میں گزر جاتا۔یہ لوگ سال دو سال اس جیل میں گزار کر،مقامی مہاجرین کی مشکلات پر کڑھ کڑھ کر ڈالر سمیٹتے اور واپس آکر پلاٹ ،گھر یا گاڑی خرید لیتے۔کچھ لوگ تو باقاعدہ ذہنی مریض بن جاتے۔عالمی سامراج اپنے گندے کھیل میں مصروف تھا۔

ہم نے کھانے کے بعد اجازت لی –میجر صاحب نے واپسی پر ہمیں سوینئر بھی دیے  اور ان کی سرکاری گاڑیاں ایک دفعہ پھر ہمیں کمپاونڈ کے گیٹ پر چھوڑنے آرہی تھیں تاہم سکیورٹی چیک پوسٹ پر ہماری گاڑی کو روک لیا گیا۔ وائرلیس پر کنٹرول روم سے ہمیں چیک پوسٹ پر روکنے کی ہدایات آرہی تھیں۔ 

Advertisements
julia rana solicitors london

(جاری ہے)

 

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply