نیل کے سات رنگ-قسط10/انجینئر ظفر اقبال وٹو

شاہ جی کے ساتھ ساتھ اب میرا دل بھی ‘ہالہ’ کی باتیں سن کر خفا ہو گیا تھا میں نے اسے بتایا کہ حکومت نے اس علاقے کی ترقی کے لئے دریسا کے مقام پر ڈیم بنانے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے بننے سے اس علاقے کا پانی کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور امن وامان بھی بہتر ہو جائے گا-وہ بولی ڈیم میرے بچھڑے تو واپس نہیں لا سکتا ناں-میں نے کہا لیکن کئی تمہارے جیسے مزید بچھڑنےسے بچ جائیں گے-ابھی یہ مکالمہ جاری تھا کہ اغبش دوڑتا ہوا وہاں پہنچ گیا کہ سیکیورٹی والوں نے دریسا جانے کی اجازت دے دی ہے جلدی کرو تاکہ اندھیرا ہونے سے پہلے وہاں سے نکل آئیں-شاہ جی نے بل دیتے ہوئے ‘ہالہ’ سے کہا کہ واپسی پر میں تمھارے لئے دریسا کے گاؤں کے فوٹو کھینچ لاؤں گا-جس پر وہ بہت خوش ہو گئی اور بولی کہ میں آپ لوگوں کو اسپیشل چائے پلاؤں گی-اغبش یہ سب کچھ سن رہا تھا- اس نے شاہ جی کو آنکھ مار کے کہا کہ جلدی سے نکلو اس سے پہلے کہ چائے والی کا خاوند پہنچ جائے-وہ ادھر کدھر ہی پھر رہا ہو گا-تم پاکستانی بھی ہر جگہ جذباتی انڈین مووی شروع کرلیتے ہوہمارے پاس وقت کم ہے-
ہم وہاں سےگاڑی کی طرف روانہ ہوگئے- اغبش ہمیں بتا رہا تھا کہ خانہ جنگی کی وجہ سے مردوں کی تعداد بہت کم رہ گئی ہےاور بے سہارا عورتوں کی تعداد بڑھ گئی ہے- اسی وجہ سےیہاں پر ایک سے زیادہ شادیاں عام ہیں تین سے چار شادیاں بھی بہت سے مردوں نے کر رکھی ہیں ۔یہ عورتیں سارا سارا دن محنت مزدوری کرتی ہیں اور مرد بازار کی سراؤں میں بیٹھ کر چائے قہوہ پیتے ہیں یا پھر ‘گوٹی’ کھیلتے رہتے ہیں- چرس بھی پیتے ہیں۔ ان مردوں کا کام ان عورتوں کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے- یہ گاہے بگاہے ان کے چائے کے ٹھئوں اور چھابڑیوں کے گرد چکر لگاتے رہتے ہیں اسی لئے میں کہہ  رہا تھا کہ ‘ہالہ’ سے زیادہ فری نہ ہوں-ہم نے اسے ہالہ کے ساتھ پیش آنے والے حالات کا بتایا تو اس نے کہا یہ یہاں کے ہر مہاجر خاندان کی کہانی ہےبلکہ خاندان تو ختم کردیے گئےہیں بس یوں سمجھ لو ہر خوش قسمت بچنے والے فرد کی کی کہانی ہے چاہے مرد ہو یا عورت-
سہ پہر کے اڑھائی بج رہے تھے جب ہم ‘مورنی ‘ کے مرکزی چوراہے سے دریسا جانے کے لئے نکلے تھے- لڑنے والے چاڈیئن مزدوروں کی بس ابھی بھی وہاں کھڑی تھی-ہیری پوٹر کی سرائے کے اوپر سے جبل مورنی نظر آرہی تھی ۔وہ اسی طرح لاتعلق لیٹی ہوئی تھی ۔ اسکامراقبہ ‘ہالہ’ جیسی معصوم لڑکیوں کےکشٹ بھی نہیں توڑ سکے تھے-شائد وہ بہری تھی کیونکہ اگر وہ ان دارفوری لڑکیوں پر ہونے والے مظالم کو سن سکتی تو کب کی اپنا مراقبہ توڑ کر زمین پر اٹھ کر بیٹھ جاتی- وہ اتنی ظالم کیوں تھی؟ شاہ جی مجھے کہہ رہے تھے کہ میرے ہیرو تم اپنی فکر کرو ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے- ہم جنجوید کے گھر میں گھسنے جا رہے ہیں سیٹ بیلٹ باندھ لو-ہم بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے والےہیں شیشے اوپر کرلو-
ہماری گاڑیاں اب مورنی کے مضافات میں سرکنڈے سے بنے مہاجرین کے گھروں کے پاس سے گزر رہی تھی ں۔ایک دفعہ پھر ہم جبل مورنی کی پایئنتی کی طرف سے گزر رہے تھے- شائد مورنی میں آتے اور واپس جاتے وقت ہر فرد پراس کی قدم بوسی لازم کر دی گئی تھی-اب ہم جبل مورنی سے اتر کر دریسا جانے والے راستے پر ہو لئے تھے-یہ ایک کچا ٹریک تھا جس کے ارد گردخود رو جھاڑیاں تھیں اور کہیں کہیں کم پانی پر گزارہ کرنے والے درخت نظر آجاتے تھے-ڈرائیور بتا رہا تھا کہ ان کچے راستوں پر بارش کے موسم میں کوئی گاڑی نہیں چل سکتی-اگلی سیٹ پر انجینئرحماد چوکناہو کر خاموشی سے بیٹھ گیا تھا- شائد وہ آنے والے متوقع خطرات کی وجہ سے فکر مند تھا کیونکہ مورنی سے چلتے وقت ہمارے سیکیورٹی پر معمور ٹیم کے انچارج نے تنبیہ کی تھی کہ اب ہم وار زون کے اند داخل ہو چکے ہیں – کسی گاڑی کا ٹائر ٹریک پر بنے ٹائروں کے نشانات سے نیچے نہ اترے کیونکہ یہاں پر بارودی سرنگوں کے بچھائے جانے کا خد شہ ہے –کوئی بریک لگے گی نہ کوئی گاڑی سے نیچے اترے گا-
شاہ جی کو ایسی پابندیاں ہمیشہ سے ہی ناپسند تھیں ۔ وہ بولے وٹو صاحب اگر ایسے ہی  ڈر ڈر کر وزٹ کرنا تھا تو بہتر تھا کہ ہم خرطوم میں ہی اپنے ایئر کنڈیشن دفتر میں ہی بیٹھے رہتے- میں نے انہیں سیکیورٹی والوں کی ہدایات پر من وعن عمل کرنے کا کہا- وہ بولے کہ ایک درخواست ہے- کیا ہم جند منٹوں کے لئے دریسا گاؤں رک سکتے ہیں میں نے کچھ تصاویر بنانی ہیں- میں نے انہیں کہا کہ فی الحال خاموشی سے بیٹھ کراپنے وزٹ پر فوکس کرتے ہیں کیونکہ سیکیورٹی والے ہمیں بتا رہے تھے کہ ڈیم سائٹ ویسے تو مورنی سے چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے مگر مخدوش راستے کی وجہ سے وہاں تک پہنچتے پہنچتےدوگھنٹے لگ جائیں گے-اس طرح ہم تقریباً ساڑھے چاربجے تک وہاں پہنچیں گے-ہمارے پاس سائٹ پر صرف ایک گھنٹہ ہوگا کیونکہ وہ سائٹ سے نکل کرمغرب تک واپس مورنی پہنچنا چاہتے ہیں-شاہ جی کہہ رہے تھے کہ ایک گھنٹہ کم ہے – کم ازکم ہمیں اپنی تسلی کرنے کے لئے تین گھنٹے چاہیے ہوں گے- انجینئر حماد بولا کہ آپ عجیب پاگل لوگ ہیں- محکمے والے لوگ تو یہاں ایک دفعہ آتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں- دو سال پہلے اان کی ایک ٹیم ہیلی کاپٹر پر اوپر سے چکر لگا کر اور فوٹو لے کرواپس چلی گئی تھی-وہ ٹھیک کہہ  رہا تھا-میں اس ہیلی کاپٹر والے وزٹ کی ویڈیوخرطوم میں محکمے کے دفتر میں دیکھ چکا تھا-
گاڑی میں شدید جھٹکے لگ رہے تھے- ابھی تک کے راستے میں انسان نامی مخلوق دکھائی نہیں دی تھی—کچھ جانور جگہ جگہ چرتے ہوئے ضرور نظر آئے تھے- اب ہم ‘بلہ’ گاؤں کے پاس سے گذررہے تھے جس کے سرکنڈوں والی ساری کی ساری جھونپڑیاں جل چکی تھیں – جبکہ اینٹوں سے بنے ہوئے اکا دکا کمرے آدھے گرے ہوئے تھے – ان کی چھتیں بالکل گرا دی گئی تھیں –انسانوں کے بغیر یہ گھر اس گاؤں میں ہونے والے ظلم وستم کا نوحہ پڑھ رہے تھے-شاہ جی کافی دیر سے خاموش تھے-بولے وٹو صاحب غور کریں اس جنگل میں آسمان پر گدھوں کوؤں اور چیلوں کے علاوہ کوئی پرندہ نظر نہیں آرہا- یار بڑا ظلم ہوا ہو گا یہاں پر-انجینئر  حماد ہماری باتوں پر کان لگائے ہوئے تھا-وہ بولا کبھی یہ علاقہ بہت پر امن تھا- ہم نے کئی راتیں ان جنگلوں میں شکار کرتے ہوئے گذاری ہیں- پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی ہے- میں نے بائیں ہاتھ دور سے نظرآنے والی جبل مورنی کو دیکھا اور پھر نظر موڑ لی-
ہمارے دائیں طرف جنگل میں ایک شخص منہ پر کالے کپڑے کا ڈھاٹا باندھے اونٹ پر سوار تیزی سے نمودار ہوا تھا اور وہ اب ہماری گاڑیوں کی رفتار سے ساتھ ساتھ جنگل میں اونٹ دوڑا رہا تھا- اس کی کمر سے نیام میں لٹکتی ہوئی تلوار صاف نظر آرہی تھی- پھر بالکل ایسا ہی ایک اورشخص اب ہمارے دائیں طرف سے جنگل میں اپنے اونٹ پر نمودار ہوا تھا – اس نے بھی کالے کپڑے سے اپنا منہ ڈھانپ رکھا تھا اور اس کی نیام میں بھی تلوار تھی- وہ دونوں اپنے اونٹوں کو ہماری گاڑیوں کے ساتھ ساتھ جنگل میں دوڑا رہے تھے- ایکشن شروع ہو چکا تھا- ہم “نعرہ جنجوید” سننے کے لئے بالکل تیار ہو چکے تھے- اونٹ دوڑانے والے اب ٹریک پر گاڑیوں کے قریب آنا شروع ہو گئے اور دوڑتے دوڑتے سیکیورٹی والوں سے بات کرتے رہے- پھر ہماری گاڑیاں سیکیورٹی والوں کی گاڑی کے پیچھے رک گئیں- اب اونٹ والوں نے باری باری سب گاڑیوں میں جھانک کر دیکھا –ہماری گاڑی کے اندر بطور خاص دیکھا اور پھر اسی طرح اچانک جنگل میں غائب ہوگئے جس طرح نمودار ہوئے تھے-
انجنئر حماد اس دوران بالکل خاموش بیٹھا رہا لیکن اس نے رائفل پر اپنی گرفت بڑھا دی تھی-ان کے جانے کے  بعد وہ بولا کہ یہ مقامی قبائل کے لوگ ہوں گے جو اپنے خاندان والوں کی حفاظت کے لئے جنگل میں پہرہ دے رہے ہوں گے-اسی دوران ڈرایئور نے بتایا کہ ہم دریسا گاؤں کے پاس پہنچنے والے ہیں-مجھے ‘ہالہ” کا گھر دور سے ہی نظر آ گیا تھا یا شاید یہ میرا واہمہ تھا- وہی سرخ اینٹوں سے بنا ایک کمرہ جس کا ذکر اس نے مختصر ملاقات میں کیا تھا-میں نے لاشعوری طور پر ڈرایئور کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ ذرا گاڑی آہستہ کرنا- شائد اس بغیر چھت والے کمرے کی ‘کنس’ پر ہالہ کی گڑیا نظر آجائے – وہ اس کو پاکر کتنی خوش ہوگی- میں وہاں آوارہ پھرنے والی گائیں غور سے دیکھنے لگا کہ شائد ہالہ کی خوشبو سونگھ کر اس کی گائے ہماری گاڑی کے پاس آ کر کھڑی ہو جائے اور اسے اپنی زباں سے چاٹنا شروع کردے-
(جاری ہے)

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply