نیل کے سات رنگ-قسط8/انجینئر ظفر اقبال وٹو

ڈرائیور بتا رہا تھا “یہ ‘جبل مورنی ‘ہےاور اس کی ساخت ایسی ہے کہ لگتا ہے جیسے صحرا میں کوئی ممی لیٹی ہوئی ہو۔ اس کے بارے میں مقامی لوگوں میں طرح طرح کی کہانیاں سینہ بہ سینہ چلتی آرہی ہیں۔ایک روایت کے مطابق یہ پہاڑی وقت کے ساتھ ساتھ اپنا رنگ بھی تبدیل کرتی رہتی ہے۔ آج کل اس کا رنگ سنہری ہے کیونکہ اس وقت یہ علاقہ قتل وغارت کا مرکز بنا ہوا ہے ” کچھ نہ کچھ ایسا ضرور تھا جبھی تو وہ ہمیں ایک مقناطیس کی طرح خرطوم سے کھینچ کر اس ویرانے میں لے آئی تھی اور اب خود لمبی تان کر صحرا میں سوگئی تھی۔

ڈرائیور گاڑی کو ‘جبل مورنی’ کےپاؤں کی طرف سے جانے والے رستے پر لے آیا اور پھر جیسے ہی ہم اس کی پائینتی سے ہو کر پہاڑی سے دوسری طرف اترنے لگے تو نیچے اترائی میں ایک عجیب نظارہ ہمارا منتظر تھا۔اس کے دامن میں تا حد نگاہ ٹینٹوں اور سرکنڈے سے بنی چاردیواریوں کا ایک سمندر تھا۔لاکھوں کی تعداد میں کالے مہاجرین ڈھلوان پر اوپر نیچے بنی گھاس پھوس کی جھونپڑیوں میں یوں مقیم تھے جیسے وہ ‘مورنی ماں’ کے عرس پر آئے ہوں یا شائد وہ صدیوں سے مورنی کی کلومیٹروں لمبی ممی بنانے والے حبشی غلام ہوں۔مورنی کی کشش انہیں قرب وجوار کے پچاس کلومیٹر کے دائرے سے کھینچ کر اپنے دامن میں لے آئی تھی۔شائد وہ جنجوید سے بچنے کے لئے اس کے دامن میں چھپ کر جان کی امان پائے ہوئے تھے –یا شائد وہ سب اپنے اپنے چڑھاوے لئے اس انتظار میں تھے کہ کب وہ اپنا گیان ختم کرکے ان کی طرف متوجہ ہوتاکہ وہ اسے خوش کرکے اس خانہ جنگی کی تباہی وبربادی سے نجات پا سکیں جس نے ان سے ان کے گھر،خاندان، عصمت اور سب سے بڑھ کر ان کی شناخت چھین لی تھی۔وہ جو کچھ بھی تھا ایک سحر آلودنظارہ تھا۔

‘جبل مورنی’ سے نیچے اتر کر ہم مورنی کے پرانے قصبے کے مرکزی سکوائر میں پہنچ چکے تھے –سکوائر کا منظر الف لیلی کے کسی سین جیسا تھا جہاں پر چند ایک دکانوں کو چھوڑ کر کوئی پکا مکان نظر نہیں آریا تھا۔چونکہ یہاں کے مقامی سکیورٹی دفتر میں ہماری رجسٹریشن ہونا تھی اس لئے ڈرائیور نے گاڑی سکوائر کے ایک طرف پارک کر دی ۔ اس سکوائر کے ایک طرف بسوں کا سٹینڈ تھا جس کے عقب سے مجھے اچانک “ہیری پورٹر” کا قلعہ نظر آگیا تھا – یہ لکی ایرانی سرکس کے شامیانے سے بھی بڑا اور اس سے بھی اونچا ایک تمبو تھا جو کہ  صحرا کی گرد سے اَٹ چکا تھا۔تیز ہواؤں کی وجہ سے یہ جگہ جگہ سے پھٹ چکا تھا،اس کے اوپر رنگ برنگے جھنڈے لگے ہوئے تھے جن کا رنگ ماند پڑ چکا تھا۔میں نے شاہ جی کو کہا کہ چلو ہیری پورٹر سے ملتے ہیں –شاہ جی نے جواب دیا
وٹو صاب شائد آپ بھول چکے ہیں کہ اس وقت ہم وار زون کے عین مرکز میں جنجوید کے گھر میں موجود ہیں۔

ان کی بات ٹھیک تھی ہمیں محتاط رہتے ہوئے اپنی نقل و حرکت کو محدود رکھنے کی ہدایت تھی لیکن میں اس صحرا میں ہیری پورٹر سے ملے بغیر واپس نہیں جانا چاہتا تھا –میں بار بار اس شامیانے کی طرف حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ جب ہمارے قافلے کے مقامی ساتھی اغبش کو سکیور ٹی ادارے کے دفتر کے اندر کافی دیر ہو گئی تو میں نے مقامی ساتھیوں سے اس تمبو کے اندر جانے کی فرمائش کردی۔ وہ ہمارے ساتھ وہاں جانے کے لئے تیار ہو گئے۔

وہ ایک بہت بڑی سرائے تھی جس کےصدر دروازے کے اوپر ایک بوڑھا دارفوری ہاتھ باندھے ڈنڈے کی ٹیک پر کھڑا تھا۔ اس کی بھوئیں سفید تھیں اور چہرہ جھریوں سے بھرا ہوا تھا۔اس نے ہمیں سر جھکا کر خوش آمدید کیا تھا اور پھر آنکھیں موند لی تھیں۔ اس سرائے کے اندر بلا مبالغہ کوئی سو سے اوپر بڑی بڑی چارپائیاں پڑی ہوں گی جن کے اوپر کچھ لوگ بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے اور جب کہ کچھ لوگ سوئے ہوئے تھے۔ان کے سامان کی گٹھڑیاں چارپائیوں کے نیچے پڑی تھیں۔تمبو کو کھجور کے بہت اونچے اونچے تنوں کے اوپر باندھا گیا تھا جب کہ اس کے نیچے جھاڑیوں اور سرکنڈے سے بنی ہوئی دیوار تھی ۔اس کے اندر آنے کا ایک ہی راستہ تھا جہاں پر وہ بوڑھا پہرہ دے رہا تھا۔

تمبو کے اندر روشنی نہ ہونے کے برابر تھی ،شیشے اور چرس کا دھواں ماحول کو اور کیف ناک بنا رہا تھا۔ پس منظر میں دارفوری موسیقی چل رہی تھی جب کہ شوخ رنگ والے مقامی لباس پہنے کچھ عورتیں مہمانوں کی تواضح کر رہی تھیں۔ چارپائیوں کے درمیان کچھ خالی جگہوں پر فرشی نشستیں بھی لگی ہوئی تھیں جہاں پر کچھ بے فکرے تاش کی بازی جما کر بیٹھے ہوئے تھے یا “گوٹی” کھیل رہے تھے۔ یہ سرائے اتنی بڑی تھی کہ اس کی دوسری دیوار نظر ہی نہیں آ رہی تھی ۔اس کی چھت جالوں سے اَٹ چکی تھی اور مسلسل دھوئیں سے یہ جالے کالے ہو چکے تھے – تمبو کے سوراخوں سے کچھ چھوٹے سائز کے پرندے اور چمگادڑ ادھر ادھر آ جا رہے تھے۔

ہم لوگ ایک چارپائی پر بیٹھ گئے تھے اور اپنے لئے مقامی کافی کا آرڈر دیا تھا۔ شاہ جی نے “کرکدے” پینے کی فرمائش کی تھی جو کہ  کامنی رنگ والا مقامی مشروب تھا۔میں نے بڑی سی چارپائی پر لیٹتے ہوئے شاہ کوکہا
میں شرط لگانے کو تیار ہوں کہ ہیری پورٹر اس تمبو کے اندر ہی کہیں پھر رہا ہے۔ شائد اس سے ہماری ملاقات بھی ہو جائے۔

شاہ جی نے مسکراتے ہوئے کہا ‘ذرا سامنے تو دیکھو وہ ہماری طرف ہی آرہا ہے’۔ موٹے گول شیشوں والی عینک پہنے وہ کلین شیو لڑکا ہم سے مخاطب تھا۔ وہ ہم سے کھانے کا پوچھ رہا تھا اور سچی بات ہے مجھے بھوک بھی لگ چکی تھی۔ہم نے چائے کا آرڈر موخر کرکےکھانے کا کہہ دیا۔ میں اس بہانے تھوڑا اور وقت ہیری پورٹر کے اس جادوئی قلعے میں گزارنا چاہتا تھا۔”الجنینہ ” کے چھپر ہوٹلوں کی طرح یہاں بھی سروس کا  سارا نظام عورتوں کے ہاتھ میں تھا۔ ایک کال حسینہ نے ہماری چارپائی پر بھی ‘فول’ کا تھال مقامی پنیر اور خبز دھر دیے جن کے ساتھ کچے پیاز اور ٹماٹر کا سلاد تھا۔ یہ کھانا پچھلے دو سال سے سوڈان میں  ہمارا پیچھا کر رہا تھا۔تاہم شاہ جی اس خاتون کا شکریہ ادا کرنا نہیں بھولے تھے۔

کھانے سے فارغ ہونے ہی والے تھے کہ بس اڈے کی طرف سے ایک شور بلند ہوا جیسے باہر کوئی لڑائی شروع ہو گئی ہو۔ ہمارے مقامی ساتھیوں نے جلدی سے بل ادا کیا اور ہمیں اپنے کور میں لے کر اس سرائے سے باہر آگئے جہاں ابھی ابھی ایک بس ‘ذالنجی ‘ سے آکر رکی تھی۔ جس میں سوار دو گروہوں کے درمیان لڑائی ہو رہی تھی۔یہ “چاڈئین” لوگ تھے جو “جبل مرہ” کے دامن سے سونے کے ذرات والی مٹی کے علاقے میں کان کنی کرتے تھے – وہاں پر کچھ دن پہلے دو باغی گروہوں کی لڑائی میں درجنوں لوگ مارے گئے تھے۔حالات زیادہ خراب ہونے کی وجہ  سے یہ سب اپنے وطن “چاڈ” کی طرف واپس جا رہے تھے ،جانے  حالات کب ٹھیک ہوں ، تاہم اس وقت کسی بات پر وہ آپس میں لڑ رہے تھے – ان کی بس کے اوپر ڈبل ڈیکر بس کی اونچائی کے برابر سامان باندھا گیا تھا۔ بس کے اندر عورتیں اور بچے بھی تھے۔اتنی دیر میں مقامی سکیورٹی کی گاڑی پر سوار کچھ لوگ منہ پر کپڑے باندھے نمودار ہوئے اور ہوائی فائرنگ کرنے لگے۔ چند لمحوں میں ہی ماحول تبدیل ہو گیا تھا۔میں نے تمبو کے پیچھے سے نظر آنے والی جبل مورنی کو دیکھا تھا۔ وہ اسی طرح لیٹی ہوئی تھی۔ پتہ نہیں اسے اور کتنی زندگیوں کا خراج چاہیے تھا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

جاری ہے

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply