فریڈرک اینگلز کے غلط حوالے/شاداب مرتضیٰ

اینگلز کے بارے میں ایک غلط فہمی ہے کہ خاندان کے معاملے میں وہ مرد کو سرمایہ دار یعنی ظالم اور بیوی کو مزدور یعنی مظلوم سمجھتا تھا۔ اس کا یہ اقتباس اکثر دوہرایا جاتا ہے کہ “خاندان میں مرد سرمایہ دار ہے اور عورت پرولتاریہ!” مگر یہ بات اینگلز نے خاندان کی تمام قسموں کے بارے میں نہیں کہی تھی بلکہ “ملکیتی طبقوں” کے خاندان کے بارے میں کہی تھی۔ مزدور طبقے کے خاندان کے بارے میں اس کے خیالات بالکل مختلف تھے۔
اینگلز کی پوری بات یہ ہے: “آج اکثر معاملوں میں، کم از کم ملکیتی طبقوں کے معاملے میں، اپنے خاندان کے لیے کمانا اور اس کی کفالت کرنا مرد کی ذمہ داری ہے اور یہ منصب بذات خود اسے ایسا برتر مقام دیتا ہے جس کے لیے قانونی خطابات اور خاص حقوق کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ خاندان میں سرمایہ دار ہے اور بیوی مزدور کی نمائندگی کرتی ہے۔”

اقتباس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ اینگلز “ملکیتی” طبقوں کے خاندان کے مرد کو سرمایہ دار سمجھتا تھا اور عورت کو پرولتاریہ۔ مزدور طبقے کے خاندان کے بارے میں اس کے خیالات بالکل مختلف تھے۔
کمیونسٹ مینی فیسٹو میں جسے اینگلز نے مارکس کے ساتھ مل کر لکھا تھا مزدور خاندان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ “آج کے خاندان کی، سرمایہ دار خاندان کی، بنیاد کس چیز پر ہے؟ سرمائے پر، ذاتی حصول پر۔ اپنی مکمل ترقی یافتہ شکل میں یہ خاندان صرف سرمایہ دار طبقے میں وجود رکھتا ہے۔ مگر یہ صورتحال مزدور طبقے میں خاندان کی مکمل غیر موجودگی میں، اور عوامی جسم فروشی میں اپنا تکملہ پاتی ہے۔”

اینگلز کے نزدیک خاندان طبقوں میں تقسیم ہے۔ سرمایہ دار خاندان اور مزدور خاندان کے حالات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔

کمیونسٹ مینی فیسٹو مزید کہتا ہے: “مزدور ملکیت سے محروم ہے۔ اپنی بیوی اور بچوں سے اس کے رشتے میں سرمایہ دارانہ خاندانی رشتوں والی کوئی بات نہیں ہے۔”

اینگلز کے نزدیک سرمایہ دار خاندان کی بنیاد ملکیت (سرمایہ) ہے جبکہ مزدور طبقہ ملکیت سے محروم ہے۔

اپنی شہرہ آفاق کتاب “خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کی ابتداء” میں ملکیتی طبقوں کے خاندان اور مزدور طبقے کے خاندان کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہوئے اینگلز کہتا ہے:
“عورت کے ساتھ رشتے میں جنسی محبت مظلوم طبقوں میں، جس کا مطلب آج مزدور طبقہ ہے، حقیقی اصول بن جاتی ہے، اور صرف یہیں وہ ایسی بن سکتی ہے، خواہ یہ رشتہ سرکاری طور پر منظور شدہ ہو یا نہیں”۔

لیکن یہاں یک زوجگی (ایک شادی) کی تمام بنیادیں صاف ہو جاتی ہیں۔ یہاں کوئی ملکیت نہیں ہوتی جس کے تحفظ اور وراثت کے لیے یک زوجگی اور مردانہ بالادستی کو قائم کیا گیا تھا؛ چنانچہ، یہاں اس مردانہ بالادستی کو مؤثر رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔

مزید برآں، اسے ایسا بنانے کا بھی کوئی زریعہ نہیں ہے۔ سرمایہ دارانہ قانون صرف ملکیتی طبقوں کے (حقوق کے) لیے وجود رکھتا ہے اور مزدوروں کے ساتھ معاملات نپٹانے کے لیے۔ قانون میں پیسے خرچ ہوتے ہیں اور غربت کی وجہ سے اپنی بیوی سے رشتے کے لیے مزدور کے نزدیک اس کی کوئی افادیت نہیں۔ یہاں بالکل مختلف قسم کے ذاتی اور سماجی حالات فیصلہ کرتے ہیں۔ اور اب جب کہ بڑی صنعت نے مزدور کی بیوی کو گھر سے باہر نکال کر لیبر مارکیٹ اور فیکٹری میں لاکھڑا کیا ہے اور اکثر اسے خاندان کا کفیل بنا دیا ہے تو مزدور خاندان میں کسی قسم کی مردانہ بالادستی کی بنیاد باقی نہیں رہی ہے سوائے غالبا عورت پر اس تشدد کے جو یک زوجگی کی ابتداء سے پھیلا ہے۔

چنانچہ، مزدور خاندان قطعی طور پر اب مزید یک زوجی نہیں رہا ہے، وہاں بھی جہاں دونوں فریقین میں پرجوش محبت اور پختہ ترین وفاداری ہے اور شاید شہری اور مذہبی مقتدرہ کی نظر کرم ہے۔ چنانچہ، یہاں (مزدور خاندان میں) یک زوجگی کے ابدی خدمتگار، آزاد سیکس اور زنا، تقریبا معدوم ہو جانے والے حصے کا کردار ادا کرتے ہیں۔
“بیوی نے درحقیقت شادی ختم کرنے کا حق دوبارہ حاصل کر لیا ہے اور اگر دو لوگ ایک دوسرے کے ساتھ نہ رہ سکیں تو وہ الگ ہو جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مختصرا، مزدور کی شادی صرف لفظی طور پر یک زوجگی ہے لیکن تاریخی معنی میں ہر گز نہیں۔”

Advertisements
julia rana solicitors london

اس اقتباس سے صاف ظاہر ہے کہ اینگلز کے نزدیک ملکیتی (سرمایہ دار) طبقے کے خاندان اور مزدور طبقے کے خاندان کے معاشی حالات بنیادی طور پر مختلف (متضاد) ہیں۔ سرمایہ دارانہ خاندان کی بنیاد ملکیت اور وراثت کی منتقلی ہے جبکہ مزدور خاندان ملکیت سے محروم ہے۔ ملکیت کی وجہ سے سرمایہ دارانہ خاندان یک زوجگی کی منافقانہ اور استحصالی شادی پر قائم ہے جب کہ مزدور طبقہ ملکیت سے محروم ہونے کے سبب جنسی محبت کی شادی پر استوار ہے۔ سرمایہ دار خاندان میں مردانہ بالادستی کی بنیاد یعنی ملکیت اور اس کی وراثت موجود ہے جبکہ مزدور خاندان میں ملکیت کے نہ ہونے سے اور اس وجہ سے کہ مزدور خاندان کی عورت بھی مزدوری کرتی ہے مردانہ بالادستی کی بنیاد ختم ہو چکی ہے اور صرف اس کی ثقافتی باقیات رہ گئی ہیں۔ ملکیت کے خاتمے سے یعنی آج سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے سے سرمایہ دارانہ خاندان اور مزدور خاندان کی مروجہ شکلیں بھی ختم ہو جائیں گی۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

شاداب مرتضی
قاری اور لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply