دور حاضر کا سب سے بڑا سچ / گل بخشالوی

قمر جاوید باجوہ صاحب نے چند نامور صحافیوں کے ساتھ الودعی ملاقات میں حق گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑے دکھی دل کے ساتھ کہا کہ ہم چارجنرلز پی ڈی ایم پر قربان ہوئے ہیں اور بڑا دکھ یہ ہے کہ فوج کی ساکھ کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا ہے ہم نے دیکھا کہ سی پیک آ چکا ہے، معیشت مضبوط ہے، تاریخ میں پہلی بار پاکستان اتنا سٹرونگ تھا ڈالر بھی کانسٹنٹ تھا ہم نے پی ڈی ایم کے لیئے تما م راستے کلیئر کیے ہمیں یقین دلایا گیا کہ معیشت اس سے بھی بہت زیادہ بہتر ہو گی، کیونکہ ہمارے پاس 200 بندوں کی معاشی ٹیم ہے ۔لیکن پی ڈی ایم کو لانے کے بعد ہمیں احساس ہو گیا تھا کہ ہم بہت بڑی غلطی کر بیٹھے ہیں ۔چونکہ ہم اس کا حصہ تھے اس لیے ہم نے آخری دم تک پی ڈی ایم کا بھر پور ساتھ دیا لیکن یہ نہ چل سکے کیونکہ یہ صرف باتیں ہی کر سکتے ہیں عملی طور پر ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا ،اس لئے مزید تباہی سے بچنے کے لیے ہم نے نیوٹرل ہونا ہی بہتر جانا ، اب ہمیں گیٹ نمبر 4کو مکمل طور پر ہر قسم کے سیاستدانوں کے لیے بند کرنا ہو گا، اسی میں پاکستان کی بھلائی ہے۔

میں نے باجوہ صاحب کو صحافیوں سے بات کرتے نہیں سنا ، اس لئے کہ میں وہاں نہیں تھا ، میں نے پڑھا ہے لکھنے والے نے جو لکھا ،اگر یہ سچ ہے تو یہ دور ِ حاضر کا سب سے بڑا سچ ہے۔

میرے دیس پاکستان میں ! خان لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد تو ہم بوٹوں کی حکمرانی میں رہے وہ کبھی پیش منظر میں رہے اور کبھی پس منظر میں اور ہم مدہوش ر ہے ، پاکستان میں جمہوریت کے علم بردار کب خود سا منے آئے ہیں ؟ انہیں بھی تو لایا گیا ، جنرل ایوب بھٹو کو سا منے لائے اور وہی ان کے جوڑوں میں بیٹھ گئے ، جنرل ضیاءالحق میاں محمد نواز شریف کو سیاسی منظر پر لائے ، جب تک غلام رہے ، نیک نام صادق اور امین تھے۔ لیکن جب پَر نکل آئے ، جنرل کو آنکھ دکھائی ، تو صادق اور امین نہیں رہے ،اسے تو سمجھ ہی نہیں آئی۔

رو رو کر پوچھتے رہے مجھے کیوں نکالا  ؟۔ لیکن جنرل قمر جاوید باجوہ  کا کیا قصور ، وہ تو نقش ِ قدم پر چلے ہیں، وہ عمران خان کے لئے خلائی مخلوق ہو ئے ، عمران خان غلام تھے، تو عظیم تھے لیکن اس کے بھی پَر نکل آئے ، اس نے بھی بھٹو کی طرح امریکہ کا خط لہرایا ، تو جس عدا لت نے اسے صادق اور امین کہا تھا وہ ہی عدالت رات بارہ بجے لگ گئی ، اور پاکستان میں آئی ہوئی تبدیلی واپس چلی گئی ۔ آج اگر قمر جاوید باجوہ کہتے ہیں کہ اب ہمیں گیٹ نمبر 4کو مکمل طور پر ہر قسم کے سیاستدانوں کے لیے بند کرنا ہو گا ، تو یہ غلط کہہ گئے ، شیر کے منہ کو انسانی خون لگ جائے تو وہ خونخوار ہو جاتا ہے ، لیکن اگر جنرل عاصم منیر نے واقعی گیٹ نمبر چار بند رکھا تو یہ پاکستان میں بڑا معجزہ ہو گا ،  لیکن سینٹر اعظم سواتی کی دوبارہ گرفتاری اور اس کے ساتھ روا ر کھے جانے والے سلوک کے بعد ایسے کسی معجزے کی امید نہیں ۔

ٹیلی ویژن سکرین اور سوشل میڈیا کے بونکر جو کہتے ہیں انہیں کہنے دیں ، وہ تو اپنی دھاڑیاں لگا رہے ہیں ، لیکن بحیثیت قوم ہمیں سوچنا ہو گا دیس اور دین کے ساتھ خود کو بھی سوچنا ہے ، کیا ہم نہیں جانتے کہ آج کی پی ڈی ایم کے مومن کل کیا تھے؟  کیا یہ مومن گزشتہ کل ایک دوسرے کی نظر میں شیطان نہیں تھے ، آج دیس اور دیس والوں کے غم خوار بن کر اس کے خلاف ایک ساتھ کھڑے ہیں جو دیس اور دین کی بات کرتا ہے ، جو ریاست ِ مدینہ کی بات کرتا ہے ، قومی ادارے بھی ان کے سہولت کار ہیں ، قانون خاموش اور عدالت خاموش تماشائی ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ قصور ان کا بھی نہیں ، قصور ہم عام عوام کا ہے ، ہم ان ہی کے گیت گاتے ہیں جو یہود اور ہنود کے غلام ہیں۔

ہم نے نہ تو خود کو سوچا نہ دین  اور نہ دیس کو  سوچا تو قومی لٹیروں اور ان کے ذاتی مفادات کو سوچا ، ہم نے تو اسے بھی معاف نہیں کیا جس نے ہمیں گوروں اور ہندوؤں کی غلامی سے نجات دلائی ، ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ ہم عام عوام جاہل اور گنوار ہیں اور وہ جو دین کے علم بردار ہیں جو منبرِ  رسول پر بیٹھ کر ہمیں درس ِ تو حید دیتے ہیں ، وہ بھی ریا ست ِ مدینہ کا خواب دیکھنے والے کا مذاق اڑا رہے ہیں ، قو م کی بہن بیٹیوں پر کیچڑ اچھال رہے ہیں ، شرم ا س کو بھی نہیں آ ئی ، جس نے ایک خاتون وزیرکے لئے توہین آمیز کلمات کہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

جانے ہم گز شتہ کل کو کیوں رو رہے ہیں ، آنے والے کل کو کیوں نہیں سوچتے ، اب بھی وقت ہے آؤ  ان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں جو دین کی بات کرتے ہیں جو دیس کی بات کرتے ہیں جو ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں ، یاد رکھیں گیا وقت واپس نہیں آئے گا ،ایک ظلم ہم اپنے ساتھ اس وقت کر بیٹھے تھے جب ذوالفقا ر بھٹو ہمیں اپنے ساتھ کھڑے ہونے کے لئے بلا رہے تھے اور ایک ظلم اپنے ساتھ ، اپنے دیس کے ساتھ ، اب کر رہے ہیں ، یاد رکھیں آج نہیں تو کبھی نہیں ، اپنے آزاد دیس میں اپنے پاؤ ں پر کھڑے ہونے کے لئے اگر خدا نے سنہری موقع دیا ہے تو آؤ  اللہ کا شکر ادا کریں۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply