• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • یورپی یونین کی روسی تیل کی تجارت پر پابندی ، روس سخت برہم

یورپی یونین کی روسی تیل کی تجارت پر پابندی ، روس سخت برہم

روس نے یورپی ممالک کی جانب سے روسی تیل کی قیمت کی حد مقرر کرنے کے اقدامات کو مسترد کر دیا۔

یورپی یونین کے بعد جی سیون ممالک نے بھی روسی تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تک محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

یورپی ممالک کی جانب سے یوکرین میں جاری جنگ میں روس کیلئے بنیادی مالی وسیلے کی حیثیت رکھنے والے روسی تیل کی قیمتوں کی حد مقرر کرنے والے اقدامات کے جواب میں روس نے بیان جاری کیا ہے کہ روس اپنے تیل کی قیمت کی حد مقرر کیے جانے کے فیصلے کو قبول نہیں کرے گا، معاملات کا جائزہ لینے کے بعد مناسب جواب دیا جائے گا۔

روسی میڈیا کے مطابق کریملن کے ترجمان دمیتری پاسکوف نے کہا ہے کہ روس نے جی سیون، یورپین یونین اور آسٹریلیا کی جانب سے پرائس کیپ کے اعلان کا بھرپور جواب دینے کی تیاری کر لی ہے۔

میڈیا کے مطابق دمیتری پاسکوف نے کہا ہے کہ ہم روسی تیل کی قیمت کی حد مقرر کرنے کے فیصلے کو کبھی قبول نہیں کریں گے، روس کی جانب سے معاملات کا جائزہ لینے کے بعد اس اعلان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ویانا کی عالمی تنظیم کیلئے روسی سفیر میخائیل الینوف کی جانب سے ایک بار پھر روسی موقف کو دہرایا گیا ہے کہ روس اپنے تیل پر قیمت کی حد کی پابندی لاگو کرنے والے ممالک کو تیل کی فروخت معطل کر دے گا۔

Advertisements
julia rana solicitors

انہوں نے کہا ہے کہ آئندہ سال کے آغاز سے یورپ کو روسی تیل کے بغیر جینا ہوگا۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply