ابّا،امّی اور بچّے/مرزا یاسین بیگ

بچے والدین کی دین ہیں۔ ہر اچھا ابا اپنے بچوں کیلئے خوبصورت امی تلاش کرنے میں کئی دہائی صَرف کرتا ہے یا کم از کم دو دہائی ضرور۔ بالغ ہونے کے بعد ابا کا پہلا کام یہی ہوتا ہے۔ امی بننے کا شوق 99 فیصد عورتوں کو ہوتا ہے مگر مورد الزام ابا ہی ٹھہرتا ہے۔ ابا اولاد کیلئے  امی کو بار بار رضامند کرتا ہے۔ امی کو اولاد کی پیدائش کا نو ماہ پہلے پتہ چل جاتا ہے مگر وہ خود اس کا چہرہ دیکھتی ہے اور نہ اوروں کو دکھاتی ہے۔ ہر بچہ اسپتال جا کر پیدا ہونا چاہتا ہے اس لیے بڑے ہونے کے بعد بھی اس کا گھر میں دل نہیں لگتا۔

بچے پیدائش کے وقت زبان تو رکھتے ہیں مگر کون سی بولی بولنی ہے وہ امی بتاتی ہے۔ بچے دانت کے علاوہ باقی سب کچھ لےکر پیدا ہوتے ہیں۔ ہر بچے سے امید ہوتی ہے کہ وہ اپنے تمام اعضاء کے توازن کے ساتھ بڑا ہوتا رہے۔ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو صرف لیٹا رہتا ہے پھر اس ڈر سے بیٹھنے اور چلنے لگتا ہے کہ کہیں لیٹ نہ ہو جاۓ۔ بچے پر کوئی بوجھ نہیں ہوتا۔ اس کے دودھ سے پیمپر تک کی ذمہ داری والدین پر ہوتی ہے۔ اچھے ممالک بچے کا اچھا خاصا خرچہ خود اٹھاتے ہیں۔ بُرے ممالک یہ ذمہ داری اچھے والدین پر ڈال دیتے ہیں۔ بچہ بڑی مشکل سے بولنا سیکھتا ہے اور جب بولنا سیکھ جاتا ہے تو دوسروں کو مشکل میں ڈال دیتا ہے۔

آج کے دور میں بچے کو دودھ مہیا کرنا، پیمپر مہیا کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ بچہ ہر ماہ اپنے وزن سے زیادہ پیمپرز استعمال کرتا ہے۔ بول و براز کیلئے بچے ہر ماہ جتنی رقم خرچ کرواتے ہیں اس سے کم پیسوں میں والدین کی “کافی” آ جاتی ہے۔ پہلے پھالیاں و لنگوٹ کی مدد سے ہی پتہ چل جاتا تھا کہ کس گھر میں شیرخوار بچے پرورش پا رہے ہیں۔ پھالیاں اور لنگوٹ شیرخوار گھروں میں اس طرح سوکھتی تھیں کہ انھیں دیکھ اور سونگھ سونگھ کر بڑے خوار ہو جاتے تھے۔

پہلے دودھ صرف امی پلاتی تھیں۔ اب ڈبے کے دودھ کی وجہ سے یہ ذمہ داری ابا پر بھی آ پڑی ہے۔ اچھے ممالک میں بچے کی خدمت کے معاملے میں آج کل ابا بھی پوری امی ہوتا ہے۔ آج کل بچوں کے اتنے کھلونے دستیاب ہیں کہ لگتا ہے ان کی ایک الگ دنیا ہے۔ ہر عمر کے کھلونے خریدنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔ بچے بڑے خوش قسمت ہیں کہ ان کو اپنے کھلونے خود خریدنے نہیں پڑتے۔ بچوں کی پیدائش کا سب سے بڑا فائدہ کھلونا انڈسٹری اٹھاتی ہے۔

پہلے بچوں کیلئے نانا، نانی اور دادی، دادا ضروری ہوتے تھے۔ اب یہ کمی ٹی وی اور نیٹ پر موجود کارٹونز نے پوری کر دی ہے۔ اب بچے کی تربیت گھر کے اصولوں سے نہیں ان کارٹون ویڈیوز سے ہوتی ہے۔ بچے والدین کی گود سے زیادہ ان کارٹونز ویڈیوز کے ساتھ خوش رہتے ہیں۔

بچوں کو سلانا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ شیطان کو بھگانا۔ بچہ صرف اپنی مرضی سے سوتا ہے لوری محض وقت اور آواز کا زیاں ہے۔ اکثر والدین بچوں کو سلاتے سلاتے اپنی نیند پوری کر لیتے ہیں۔ بچوں کیلئے جھولا بھی ضروری ہوتا ہے۔ جب تک وہ جھولے میں ہوں والدین اس کے لئے نۓ بھائی، بہن کی آمد کی پلاننگ پر عمل درآمد کر لیتے ہیں۔ جھولے کے بغیر یہ سہولت کڑواہٹ کا باعث بنتی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

جب تک دنیا میں بچوں کی آمد جاری رہے گی انسان ری سائیکل ہوتا رہے گا۔ بچے دنیا کی امید ہیں اور امید سے ہونا ہر مخلوق کی جوانی کا پہلا حق ہے۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply