انگریزی میڈیم یا اردو میڈیم/چوہدری عامر عباس

سابق وفاقی حکومت نے آتے ہی سنگل نیشنل کریکولم یعنی ایک قوم ایک نصاب کا نا  صرف اعلان کیا، بلکہ عملی طور پر بھی اسے لاگو کیا۔ اگرچہ اس میں ابھی بھی کچھ سقم ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ اقدام لائقِ  تحسین ہے کیونکہ یہ کوئی چھوٹا کام نہیں ہے۔ گزشتہ برس پرائمری تک یہ نصاب لاگو کیا گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ امسال آٹھویں کلاس تک یہ کریکولم نافذ العمل ہو گا۔ سنگل نیشنل کریکولم بھی ایک ارتقائی عمل ہے جس میں بہتری کی گنجائش تو کافی سال تک رہے گی اور آنے والے چند برسوں میں مزید بہتری آتی جائے گی البتہ سب سے اہم کام عملی اقدام تھا جو سابق حکومت نے لے لیا۔

مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ پاکستان میں ذریعہ ء تعلیم اردو میڈیم ہے یا انگریزی میڈیم۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہر نئی آنے والی حکومت پچھلا نظام ِ تعلیم ختم کرکے نیا نظام نافذ کر دیتی ہے۔ ہر سال میڈیم کے ضمن میں نت نئے تجربات کرکے بچوں کا بیڑا غرق کر دیا گیا ہے۔

المیہ ہمارا یہ ہے کہ انگریزی میڈیم پڑھنے کے باوجود ہمارے بچے انگریزی بولنے اور انگریزی لکھنے سے قاصر ہیں کیونکہ انگریزی ہماری زبان ہی نہیں ہے۔ ستم طریفی یہ ہے کہ اب ہمارا بچہ نہ تو ڈھنگ کی انگریزی بول سکتا ہے اور نہ ہی اپنی قومی زبان اردو۔ “کوّا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی  بھول گیا” کے مصداق ہم نے انگریزی سیکھنے کے چکر میں اپنی قومی زبان کو بھی پسِ  پشت ڈال دیا نتیجتاً  ہم آدھے تیتر آدھے بٹیر بن کر رہ گئے ہیں۔ ہمارے دماغ سے یہ بات کیوں نہیں نکل سکتی کہ اپنی مادری زبان کو ترویج دئیے بغیر ہم ترقی کبھی بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ زبان بھی کسی ملک کی ثقافت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے اگر آپ قومی زبان کو منفی کر دیں تو پیچھے آپ کے پاس بچتا ہی کیا ہے۔

آئین میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ ملک کی دفتری زبان اردو کر دی جائے گی اور تمام تر خط و کتابت اردو زبان میں ہو گی مگر ملک کو وجود میں آئے  75  سال گزرنے کے بعد بھی ہم اس پر عمل کرنے میں بُری طرح  ناکام ہیں۔ اس وقت ملک میں اردو کی ترویج و ترقی کی ازحد ضروری ہے جس کیلئے ادارے پہلے سے موجود ہیں بس انھیں فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کی مختلف زبانوں میں لکھی گئی کتابوں کو اردو میں ترجمہ کرنے کیلئے ان اداروں کی ذمہ داری لگائی جائے، یہ کوئی بہت بڑا کام نہیں ہے کہ ناممکن ہو۔

یہاں میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ اب لگے ہاتھوں کم از کم تعلیمی اداروں میں ذریعہ تعلیم انگریزی میڈیم کے بجائے بتدریج اردو میڈیم کی طرف شفٹ ہوا جائے، بلاشبہ یہ اپنی قومی زبان کی ترویج کی جانب پہلا قدم ہو گا۔ انگریزی کو بےشک چودھویں تک لازمی مضمون کے طور پر پڑھا دیا جائے کیونکہ دیگر دنیا کیساتھ چلنے کیلئے انگریزی کو بالکل نظر انداز کر دینا بھی حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

اس کا بہترین حل یہ ہے کہ انگریزی کے علاوہ تمام مضامین اردو میڈیم میں کر دئیے جائیں اس سے ایک طرف تو اپنی قومی زبان کی ترقی و ترویج میں مدد ملے گی جبکہ دوسری طرف طلبہ کو اپنے مضامین سمجھنے میں بہت آسانی ہو گی۔ انگریزی کو بطور لازمی مضمون بےشک پڑھاتے رہیں اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ پاکستان میں انگریزی تعلیم کا معیار بڑھانے کے ضمن میں بھی ایک بہترین فارمولا موجود ہے۔ جن کلاسز میں انگریزی کا مضمون 100 نمبرز پر مشتمل ہے ان میں تحریری امتحان کیلئے پچاس نمبرز مختص کئے جائیں جبکہ باقی 50 نمبرز سپوکن انگریزی کیلئے مختص کئے جائیں۔ جن کلاسز میں انگریزی کا مضمون 200 نمبرز پر مشتمل ہے وہاں انگریزی کا تحریری امتحان 100 نمبرز اور سپوکن امتحان کے باقی سو نمبرز کر دئیے جائیں۔ اس طرح چند ہی سال میں آپ دیکھیں گے کہ آپ کے ملک میں اردو کو کیسے فروغ ملتا ہے اور آپکا میٹرک پاس بچہ انگریزی بھی فر فر بول رہا ہو گا۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

چوہدری عامر عباس
کالم نگار چوہدری عامر عباس نے ایف سی کالج سے گریچوائشن کیا. پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی. آج کل ہائی کورٹ لاہور میں وکالت کے شعبہ سے وابستہ ہیں. سماجی موضوعات اور حالات حاضرہ پر لکھتے ہیں".

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply