• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • زرعی زر خیز زمینوں پر رہائشی سکیموں کے نقصانات/قادر خان یوسفزئی

زرعی زر خیز زمینوں پر رہائشی سکیموں کے نقصانات/قادر خان یوسفزئی

زراعت سے وابستہ ممالک کی معیشت کا دارو مدار اس کی زرعی زمینوں پر ہوتا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک  ہونے کی  حیثیت سے زر خیز زمینوں کے قیمتی قدرتی خزانوں سے مالا مال مملکت ہے تاہم بد قسمتی سے بغیر کسی منصوبہ بندی کے بڑھتے شہروں نے جہاں شہریوں کے لئے مسائل پیدا کردیے ہیں تو دوسری جانب دیہات کی زمینوں پر کھیتی باڑی نہ ہونے سے زرعی اجناس کی کمیابی اور سماجی مسائل میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پرائیویٹ سکیٹر کی جانب سے زراعت کی زمینوں پر بنائی جانے والی رہائشی اسکیموں نے جہاں معاشرتی مسائل کو جنم دیا ہے تو دوسری جانب بلدیاتی وسائل کی کمی اور آبادی پر بڑھتے دباؤ کے نتیجے میں تجارت اور آمدنی کا توازن بھی متاثر ہو رہا ہے۔ مثلاً  زر خیز سر سبز علاقے جہاں کبھی کھیت ہوتےتھے، اب ان کی جگہ زیادہ تر رہائشی اسکیموں نے لے لی ہے۔ اسی طرح بیشتر شہروں کے قریب زر خیز و زرعی زمینوں کو قانونی و غیر قانونی مبینہ دستاویزات پر ہاؤ سنگ سوسائٹیز کا جال بچھایا جا چکا ہے۔ ایسی زمینوں پر تعمیرات کو شہری بنیادی  سہولتوں کے فقدان کے باوجود پُر کشش تشہیر سے فروخت کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہر سال دیہی رقبہ خصوصاً زیرِ کاشت رقبہ کم اور شہری آبادی زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔

اس اَمر کو سمجھنا ہوگا کہ زرعی زمینوں کی قلت سے ملک میں اجناس کی کمی اور بے روز گاری میں اضافہ ہوتا ہے اور دیہات میں رہنے والے، جن کا انحصار کھیتی باڑی پر   ہوتا ہے، اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے شہروں کا رخ کرتے ہیں جس سے صورت حال مزید گھمبیر ہو جاتی ہے امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) کی عالمی سطح پر زرعی انفارمیشن نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں متناسب شرح سے گندم کی پیداوار میں اضافہ نہیں ہو رہا اور کٹائی کے وقت پاکستان میں گندم کی پیداوار مسلسل کم ہوتی جاری ہے۔ ملک میں مجموعی زرعی پیداوار میں کمی میں جہاں دیگر تکنیکی عوامل شامل ہیں وہیں زرعی شعبے میں زیادہ محنت اور کم منافع بخش ہونا بھی خاصا اہم ہے، اسی وجہ سے زرعی زمینوں کے مالکان ہاؤ سنگ اسکیم کے منصوبوں سے وابستہ سرمایہ کاروں کی پُر کشش منافع بخش پیشکش کو مسترد نہیں کر پاتے اگرچہ ٹاؤن شپ یا گاؤں کی منصوبہ بندی کے علاقے سے باہر زرعی زمین پر زرعی سہولیات کی تعمیر کے لئے زمین کے استعمال کے لئے فائلنگ کے طریقہ کار کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس امر کے لئے اقدامات نہیں کیے  جا رہے کہ تعمیراتی زمین کے تبادلوں کے لئے طریقہ کار سے گزرنا اور تعمیراتی منصوبہ بندی کی اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہے لیکن زر خیز زمینوں پر سوسائٹی کی تعمیرات سے مجموعی طور پر پوری مملکت کو نقصان اور مستقبل میں بحران کا سامنا ہوگا۔ پاکستان ایک عام زرعی ملک ہے، زراعت قومی معیشت میں ایک اہم مقام رکھتی ہے، اور زرعی فصلوں کا معیار ملک کی مجموعی معیشت اور غیر ملکی تجارت کی شرح نمو میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان کے پاس تقریباً 881,000 مربع کلومیٹر زمین ہے، جسے نسبتاً بڑا زرعی ملک سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، اس میں بیشتر حصہ بنجر ہے، تقریباً تین پانچواں حصہ پہاڑی اور پہاڑی علاقوں میں ہے۔ خاص طور پر مغرب، جنوب اور شمال میں، بڑے ریگستان ہیں. خوش قسمتی سے مشرقی پاکستان کے تنگ علاقے میں نسبتاً زر خیز زمین کے بڑے علاقے موجود ہیں۔

پاکستان فوڈ سکیورٹی کا مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے تو اسے پہلے زرعی زمینوں میں ہاؤ سنگ سوسائٹی بنانے پر پابندی لگانا ہوں گی، کسان کو زیادہ سے زیادہ مراعات دینا ہوں گی تاکہ ہر کسان اپنی زمین کا مالک بنے اور ہر اناج اگانے سے ہونے والی آمدنی اس کے پاس چلی جائے گی، بڑا لالچ اسے اپنی زمینوں کی فروخت سے روک سکے اور وہ وقتی فائدے کے بجائے اجداد کی دی گئی میراث پر چلتا رہے۔ اس طرح جہاں کسانوں کے پیداواری جوش و خروش میں بہت بہتری آئے گی اور وہ زیادہ خوراک پیدا کر سکیں گے تو دوسری جانب ملک میں فوڈ سکیورٹی کا مسئلہ بھی حل ہو سکے گا اور زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ  سوسائٹی کے خاتمے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ صوبہ خیبر پختونخوا، سندھ میں صورت حال بھی پنجاب جیسی ہے۔ بالخصوص کراچی میں ایسی ہاؤ سنگ اسکیموں نے سینکڑوں برسوں سے آباد مقامی آبادی کو متاثر کیا، تو دوسری جانب شہری ضروریات کے لئے استعمال ہونے والی زمینوں پر قبضے اور جبراً  لئے جانے والے کئی ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں جو صوبائی حکومتوں سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ ایسی اسکیموں کو کسی فروعی مفادات پر قربان نہ کریں اور زرعی ملک کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے مستقبل میں کسی بڑے معاشی اور زرعی نقصان سے مملکت کو بچانے میں اپنا کردار ادا کریں، کانکریٹ کے شہروں نے جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کے وجہ سے رہائش کو مشکل بنا دیا ہے تو دوسری جانب بلدیاتی ضروریات کی کمی سماجی مسائل میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

زرعی سائنس اب جدید دور میں داخل ہو چکی ہے جدیدیت کی ترقی کے ساتھ، روایتی زراعت جدید زراعت میں تبدیل ہو گئی ہے، خاص طور پر دنیا بھر میں حالیہ برسوں میں، زرعی پیداوار کے حصول کے لئے قابل عمل طریقے اپنائیے جا رہے ہیں، زرعی سہولیات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، اور زرعی پیداوار کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا رہا ہے جدید زرعی ترقی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے، سہولت زراعت کی صحت مند اور منظم ترقی کو فروغ دینے، سہولت زرعی زمین کے انتظام کو بہتر بنانے، اور زرعی زمین کو تعمیراتی زمین میں غیر مجاز طور پر تبدیل کرنے اور سہولت زراعت کی ترقی کے نام پر تعمیراتی زمین کے پیمانے کی توسیع کو روکنے کے لئے اقدامات ناگزیر ہیں۔ بنجر زمینوں کو بھی مویشیوں اور پولٹری، تجارتی افزائش نسل کے لئے استعمال کیا جائے، فصل کی کاشت یا آبی زراعت کے لئے پیداواری سہولت کی زمین اور ان سے متعلقہ معاون سہولیات، اور زرعی سہولیات کے لئے زر خیز زمینوں پر ہاؤ سنگ اسکیموں کی حوصلہ شکنی کی جائے تاکہ ماحولیات کو نقصانات نہ پہنچے۔ زرعی زمین کی خصوصیات کے مطابق، معیاری انتظا مات حکومت کی ترجیحات ہو نی چاہیے، پیداوار کی سہولت کے لئے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو مربوط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

قادر خان یوسفزئی
Associate Magazine Editor, Columnist, Analyst, Jahan-e-Pakistan Former Columnist and Analyst of Daily Jang, Daily Express, Nawa-e-Waqt, Nai Baat and others. UN Gold medalist IPC Peace Award 2018 United Nations Agahi Awards 2021 Winner Journalist of the year 2021 reporting on Media Ethics

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply