ہنزہ میں ایک رات/سیّد مہدی بخاری

ہنزہ میں شب بسری کو میرا اچھا بھلا ٹھکانہ ہنزہ ایمبیسی ہوٹل ہوا کرتا تھا۔ اس کے مینیجر محبوب سے گپ شپ ہوتی رہتی اور ادھر اُدھر کے حالات کا پتا چل جاتا۔ محبوب کے بارے اتنا کہنا کافی ہے کہ اس کو جب دیکھوں مجھے مشہورِ زمانہ انگلش ڈرامہ سیریز Breaking Bad کا وہ کریکٹر یاد آ جاتا ہے جو وکیل ہے۔ جس نے اپنی ٹی وی ایڈورٹائزمنٹ کی ہوتی ہے کہ آپ کسی بھی مسئلے میں پھنس جاؤ تو صرف ایک کال کر دو۔

مشہوری کی ٹیگ لائن ہوتی ہے “Better Call Saul” بالکل اسی طرح ہنزہ میں آپ کو کچھ چاہیے ہو کسی مدد کی ضرورت ہو کچھ بھی کرنا ہو تو بس “Better Call Mehboob” یہ ایسا چلتا پھرتا اور کام والا انسان ہے کہ آپ کی مدد لازمی کر دے گا جیسے تیسے بھی، بس اس سے ہنزہ واٹر نہیں مانگنا ورنہ خود پی جاتا ہے۔ ہنزہ واٹر کے بارے جو لوگوں میں غلط فہمیاں ہیں وہ دور کرتا چلوں۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

ہنزہ میں التر گلیشیئر سے ایک نالہ نکلا کرتا تھا۔ اب تو وہ خشک ہو چکا ہے۔ التر گلیشیئر سے بہہ کر آتے اس نالے کا مٹیالہ پانی منرلز سے بھرا ہوتا تھا۔ وہ ہنزہ واٹر کے نام سے مشہور ہوا۔ بعد اذاں خوبانی و سیب سے کشید کردہ مقامی الکوحل کا کوڈ ورڈ ہنزہ واٹر شاید اسی سبب رکھ دیا گیا کہ اس کی رنگت بھی مٹیالی ہوتی ہے۔ ہنزہ واٹر کی بقیہ خوبیاں تو وہی بتا سکتا ہے۔

جس نے پی رکھا ہو مجھے تو یہی معلوم ہے کہ اس سے سپرٹ جیسی تیز مہک آتی ہے۔ سوست سے چھ کلومیٹر پہلے دائیں ہاتھ ایک خستہ سا ہوٹل آتا ہے۔ جس کا نام میں ابھی بھول رہا ہوں۔ اس ہوٹل کی عمارت تو پرانی ہے مگر اس کا لان بہت سرسبز اور وسیع ہے۔ لان میں کرسی ڈالے بیٹھے سامنے وادی کے بیچ دریائے ہنزہ بہت کھلا سا بہتا نظر آتا ہے۔ سکوت اتنا کہ دل کی دھڑکن کانوں میں سنائی دینے لگے۔

کبھی کبھار کوئی موٹر سائیکل والا شاہراہ قراقرم سے گزرتا ہے تو شور سا پیدا ہوتا ہے اور پھر وہی ہو کا عالم خاموشی، تنہائی، ہولے ہولے سے بہتی ہوا اور وادی میں ٹھہرا سکون۔ پاپولر کے درختوں سے چھن کر آتی ہلکی معتدل دھوپ، اک بار میں اسی لان میں کرسی پر بیٹھے اور ٹانگیں سامنے دھرے ٹیبل پر رکھے وادی پر ٹکٹکی جمائے دیکھ رہا تھا یہ جولائی کا ایک دن تھا ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے میری آنکھ لگ گئی۔

آنکھ آہٹ کے سبب کھلی تو محبوب ٹیبل پر ہاٹ پاٹ دھرے سامنے والی کرسی پر بیٹھے میری جانب مسکرا کے دیکھ رہا تھا۔ مجھے ہوش میں پا کر بولا “بخاری صاحب ڈھونڈ ہی لیا ناں آپ کو یہ مچھلی لایا ہے۔ بسم اللہ کرو” اس نے ہاٹ پاٹ کھولا اور ہم مچھلی کھانے لگے۔ محبوب دو چار لقمے مچھلی کے لیتا اور پھر ایک گھونٹ ہنزہ واٹر چڑھا جاتا میں نے ہنستے ہوئے اسے کہا کہ پہلے کھانا کھا لو بعد میں شوق پورا کر لینا۔

بولا ” بخاری صاحب، یہ کافر شے تو حلال مچھلی کے ساتھ مل کر ہی مزہ دوبالا کرتی ہے” اور پھر اس کی ریل کے بھونپو جیسی ہنسی چھوٹی جو وادی میں ایکو کرتی محسوس ہوئی۔ ایک بار میرے ایک دوست نے کالز کر کے مجھے زچ کر دیا کہ اس کے واسطے “ہنزہ واٹر” لیتا آؤں۔ اسے لاکھ سمجھایا کہ استاد نہ کرو میں یہ کام نہیں کرنے والا مگر وہ بضد رہا میں نے محبوب کو کہا۔

محبوب نے کوکا کولا کی ڈیڑھ لیٹر کی بوتل میں ہنزہ واٹر تھما دیا۔ وہ بوتل ڈکی میں کھلے عام ہی رکھ دی۔ قراقرم ہائی وے پر سفر کرتا چلاس اور داسو کے بیچ کوہستان کے علاقے لوٹر پہنچا تو لوٹر تھانے پر گاڑی روک لی گئی اور ایک بیس اکیس سالہ ترو تازہ نوجوان اہلکار جو شاید فریش بھرتی ہوا تھا، نے ڈکی کھول کر سامان دیکھا تو سامنے پڑی بوتل نظر آ گئی۔

ہنزہ واٹر کا رنگ مٹیالا تھا، ایسے جیسے کسی گدلے چشمے کا پانی ہو۔ اہلکار نے بوتل دیکھتے کہا ” یہ پانی تم نے کہاں سے بھر لیا؟” میں بولا “پیچھے ایک چشمے سے بھرا تھا” اس نے بوتل کھول کر سونگھی اور کہنے لگا ” یہ پینا نہیں، تم نے سلفر والا پانی بھر لیا ہے۔ اس سے سلفر کی smell آ رہی ہے۔ تتا پانی کے علاقے سے بھرا ہے ناں؟ لوگ اس کو بھر کے لے جاتے ہیں۔ جن مریضوں کو خارش کی بیماری ہو وہ اس سے نہائیں تو ٹھیک ہو جاتے ہیں”۔

مجھے ایکدم ہنسی آ گئی کیونکہ میں جانتا تھا کہ تتا پانی کے ایریا میں ہاٹ سپرنگز یا گرم چشمے ہیں، جن میں سلفر کی ملاوٹ ہوتی ہے۔ میں ہنستے ہنستے بولا” جی جی اسی لئے بھرا تھا ایک دوست کو بڑی شدید خارش لگی ہوئی ہے۔ وہ بولا “تو تم نے گیلن بھرنی تھی ناں، اتنے سے پانی سے کیا ہوگا؟ میں نے جواب دیا “گیلن ملی نہیں، اب اسی میں سادہ پانی مکس کر کے نہا لے گا” اس نے بوتل واپس کی اور بولا چلو جاؤ۔

گھر پہنچ کر میں نے وہ بوتل فرج میں رکھ دی۔ بیگم نے فرج کھولی اور دیکھتے بولی “یہ اتنا گندا پانی کس لئے فرج میں رکھا ہوا ہے آپ نے؟ میں نے کہا” سلفر والا پانی ہے، زہر ہوتا ہے یہ، اس سے نہاتے ہیں، ایک دوست کو دینا ہے جسے خارش لگی ہوئی ہے، شام کو وہ گھر آیا۔ ڈرائنگ روم میں بیٹھے بیگم نے چائے پیش کی۔ وقتِ رخصت میں نے اسے بوتل تھما دی۔

وہ چلا گیا تو بیگم آئی اور بولی ” شکل صورت سے تو یہ بالکل ٹھیک لگ رہا تھا۔ اس کو خارش لگتی ہے؟ میں نے قہقہہ لگاتے کہا ” ہاں یہ خارش کی بیماری بری کتی ہوتی ہے بیگم، یہ بظاہر آسودہ حال لوگوں کو ہی لگتی ہے۔ اب اسے آرام آ جائے گا” اگلے دن معلوم ہوا کہ اس دوست نے الٹی کر کے گھر والوں کو بہت پریشان کیا ہے۔ مجھے کال کر کے کہنے لگا ” یہ سالی بہت ڈاہڈی شے ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

واڈکا سے بھی اوپر کی۔ میں نے باقی بہا دی ہے۔ لعنت بھیجو اس پر” میں نے قہقہہ لگاتے کہا ” چلو تمہاری خارش کو تو آرام آیا ناں” فون بند ہوا تو بیگم بولی ” ہیں؟ اس کی خارش کو اتنی جلدی آرام آ گیا” میں نے کہا ” ہاں بیگم۔ بہت ڈاہڈی شے تھی وہ”۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply