ٹرمپ کی عدلیہ پر تنقید اور انتظامیہ کی مشکلات

ٹرمپ کی عدلیہ پر تنقید اور انتظامیہ کی مشکلات
طاہر یاسین طاہر
جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم کا آغاز کیا اس وقت سے تا دم ِ تحریر کوئی لمحہ ایسانہیں جاتا کہ ٹرمپ کی طرف سے ہنگامہ خیز بیانات کا سلسلہ رک جائے۔ پہلے پہل تو انھوں نے اپنی مخالف صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کو اپنی بے باکی سے آڑے ہاتھوں لیے رکھا،امریکہ میں نسل پرستانہ رحجانات کو مہمیز کیا اور یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ دہشت گردی اک براہ راست تعلق اسلام اور مسلمانوں سے ہے۔ لہٰذا جب تک مسلمان امریکہ آتے رہیں گے امریکیوں کی سماجی حیات پریشان کن ہی رہے گی۔ انھوں نے میکسیکو کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور انتخابات مین وعدہ کیا تھا کہ وہ صدر بننے کے بعد میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرا دیں گے۔
ٹرمپ نے صدارتی حلف اٹھاتے ہی جو خطاب کیا وہ نفرت انگیز اور امریکیوں کے لیے حیرت افروز بھی تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اسلامی دہشت گردی کو جڑ سے ختم کر دیں گے۔اپنے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے انھوں نے میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے احکامات دیے اور ساتھ ہی یہ حکم نامہ بھی جاری کیا کہ ساتھ مسلم ممالک کے شہری امریکہ نہیں آ سکیں گے۔ ان ممالک میں ایران، عراق، شام، صومالیہ، سوڈان، لیبیا اور یمن شامل ہیں۔ٹرمپ کے اس فیصلے پر جہاں یورپ و اسلامی ممالک میں حیرت کا اظہار کیا گیا وہیں امریکہ کے عدل پسند شہریوں نے بھی شدید ردعمل دیا۔اقوام متحدہ نے بھی ٹرمپ کے اس فیصلے کو غیر عادلانہ اور بین الاقوامی اصولوں کے منافی قرار دیا ۔ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے خلاف امریکہ کی تین ریاستیں عدالت پہنچ گئیں اور صدارتی فیصلے خلاف حکم امتناعی حاصل کر لیا۔اگرچہ اس حکم امتناعی کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ نے اپیل کی اور عدالت سے استدعا کی کہ سات مسلم ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں برقرار رکھی جائیں،یہ دلیل بھی ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے دی گئی کہ مشرق سطیٰ کے قابل ذکر ممالک نے بھی ان پابندیوں کی تائید کی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کا اشارہ سعودی عرب اور امارات کی طرف تھا جنھوں نے سات مسلم ممالک پر امریکہ کی جانب سے لاگئی جانے والی سفری پابندیوں کی تائید کی ہے۔ امریکی عدالت نے مگر ٹرمپ انتظامیہ کی اپیل رد کر دی اور اپنے فیصلے کو برقرار رکھا۔امریکی اپیل کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سات اسلامی ملکوں کے شہریوں پر عائد سفری پابندیاں بحال کرنے کی اپیل مسترد کر دی ہے۔اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کا ایران، عراق، شام، صومالیہ، سوڈان، لیبیا اور یمن کے خلاف سفری پابندیوں والا انتظامی حکم نامہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک اس مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں آ جاتا۔
یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفری پابندیوں کے معطلی کے عدالتی حکم کے بعد عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ میں کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری اس جج پر ہو گی جس نے ان کا حکم نامہ معطل کیا ہے۔انھوں نے سفری پابندیوں کے معطلی کے عدالتی حکم کے بعد عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے سرحدی حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ امریکہ آنے والے لوگوں کی محتاط طریقے سے جانچ کریں۔انھوں نے مزید کہا کہ عدالتیں ہمارا کام مشکل بنا رہی ہیںاور اگر کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری اس جج کو اٹھانا پڑے گی جس نے ان کا حکم نامہ معطل کیا ہے۔ عدالت نے وائٹ ہاؤس اور ریاستوں کو پیر تک کا وقت دیا ہے کہ وہ اس بارے میں مزید دلائل پیش کریں۔ یاد رہے کہ اتوار کو صدر ٹرمپ نے عدلیہ کے ساتھ ساتھ جج جیمز رابرٹ پر تنقید کی جنہوں نے اس پابندی کو معطل کیا۔ اپنی ٹویٹس میں صدر ٹرمپ نے کہا ’میں نے ہوم لینڈ سکیورٹی کو ہدایت کی ہے کہ ہمارے ملک میں آنے والے افراد کو محتاط ہو کر جانچ پڑتال کریں۔‘یقین نہیں آتا کہ ایک جج نے ملک کو خطرے میں ڈالا ہے۔ اگر کچھ ہوا تو انہیں اور عدالت کو ذمہ دار ٹھہرائیں۔ لوگ ملک میں آ رہے ہیں۔ یہ برا ہے
اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے جج جیمز رابرٹ کو مضحکہ خیز کہا اور انہیں نام نہاد جج قرار دیا۔ اپنی اپیل میں محکمہ انصاف نے کہا تھا کہ کسی بیرونی شخص یا گروہ کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کا صدر کے پاس ایسا اختیار ہے جسے نظر ثانی کی ضرورت نہیں اور یہ کہ جمعے کو جج جیمز روبارٹ نے سیئیٹل میں جو فیصلہ سنایا تھا وہ بہت عمومی تھا۔سفری پابندیوں کو چیلینج کرنے والی دو ریاستوں واشنگٹن اور مینیسوٹا کا کہنا ہے کہ یہ پابندی غیر آئینی ہے اور اس میں کاغذات رکھنے والے افراد کو بھی سفر سے روکا گیا۔مزید کہا گیا کہ اس میں مسلمانوں کو روک کر مذہبی آزادی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ڈیمو کریٹس اور بعض رپبلکن نے بھی صدر کی جانب سے عدلیہ کو نشانہ بنائے جانے پر تنقید کی ہے۔
صدارتی حکم نامے پر جس طرح کا ردعمل امریکی عوام اور ریاستیں دے رہی ہیں ،اور جس طرح ٹرمپ مذہبی آزدیوں کو نشانہ بنا کر یہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ مسلمان ہی دہشت گرد ہیں، اس سے ٹرمپ انتظامیہ کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ عدلیہ پر ٹرمپ کی تنقید نے ایک نئی بحث کو بھی چھیڑ دیا ہے۔اپنی صڈارت کے ابتدائی ایا م میں جس طرح کی مشکلات ٹرمپ کو پیش آ رہی ہیں شاید ہی دنیا کے کسی اور حکمران کو ایسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہو۔دنیا بھر کے عدل پسند ٹرمپ کو ایک غیر متوازن شخصیت اور متعصب شخص جانتے ہیں،جو آگے چل امریکیوں اور دنیا کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ٹرمپ کی پارٹی، اپوزیشن رہنماوں اور امریکہ کی اسٹیبلشمنٹ سمیت دیگر تھینک ٹینکس کو پالیسی سازی میں ٹرمپ کی معاونت کرتے ہوئے اسے سمجھانا چاہیے کہ وائٹ ہاوس کی حالیہ اقدامات سے دنیا میں امریکہ کے حوالے سے منفی سوچ پیدا ہو رہی ہے جو امریکی عوام اور دنیا کے لیے کسی بھی طرح نیک شگون نہیں۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *