کیا کریں عادت سے مجبور ہیں- پیامبر/ قادر خان یوسف زئی

مستحکم اور مربوط پالیسیوں کے تسلسل کے لئے ذاتی طور تمام تر تحفظات کے باوجود اس امرکی حمایت کرتا ہوں کہ پاکستان میں تبدیلی کی سو نامی کو پاور شو کرنے کے مواقع دئیے جائیں تاہم فیض آباد، ڈی چوک والی دھرنوں کی روایت بحال نہ کرنے دیں۔ کنٹینز جیسی اوچھی سیاست نہ کی جائے، پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنا اچھا عمل نہیں، تنخواہ لینے ہی واپس چلے جائیں، سول نافرمانی کی تحریک نہ چلائی جائے(ناکامی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں)، ترسیلات زر کے لئے ہنڈی کے استعمال کا مشورہ تو بالکل مت دیجیے گا۔ یوٹیلٹی بل سر عام نذر آتش نہ کریں۔ (اس سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے)۔ قرض لینے پر بھکاری ہونے کا طعنہ غیر اخلاقی طرز عمل ہے۔ یو ٹرن اور گو عمران گو کی نعرے بازی سے پرہیز کیاجائے۔(پرہیز بیماری سے بہتر علاج ہے)۔ ذاتی طور پر میں اس بات کا شدید مخالف ہوں کہ سیاسی جماعتیں یا کوئی بھی تنظیم کم از کم عام عوام کو پریشان کریں۔ یہ عمل پہلے بھی اچھا اقدام م نہیں سمجھتا تھا۔ اب بھی یہی گزارش ہے کہ گر جو کرنا ہے پارلیمان کے اندر کریں۔ حکومت کو ٹف ٹائم دیں تاکہ وہ عوام سے کئے جانے والے وعدے پورے کرے سڑکوں پر آکر قومی املاک پر قبضے اور جلاؤ گھبراؤ سے عام عوا م کا نقصان ہوتا ہے۔ (ارزہ کرم ایمپائر کو تنگ کرنا ختم کردیں)۔
پاکستان کی عوام پر بڑا کڑا وقت ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول اور ضروریات زندگی کی اشیا ء صرف کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ برقرار ہے(کوئی قیامت تو نہیں آئی)۔ اس کے علاوہ عوام گھاس کھائیں گے لیکن قرض لیں گے، کے بھی عادی بن گئے ہیں۔ ایٹم بم تو گھاس پھوس کھا کر بنا لیا۔ ایٹم بم بنانے کی بہت بڑی قیمت بھی دینا پڑی۔ ایٹمی تجربہ بھی کرلیا۔ سخت معاشی بحران بھی مسلسل آ رہے ہیں۔ لیکن عوام نے سب کچھ برداشت کیا۔ اب یہ دشوار گذاردور بھی کسی نہ کسی برداشت کر ہی لیں گے۔ گر کچھ مشکلات راہ میں حائل ہو رہی ہیں تو عدالت عظمی سے رجوع کیا جا سکتا ہے عدلیہ”آزاد“ہے۔
سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا بڑے مشکل وقت میں ساتھ دیا (شکریہMBS) لیکن یقیناََ یہ آوازیں ضرور اٹھیں کہ امداد کے بدلے میں کیا غیر اعلانیہ معاہدے کئے ہیں(دورہ تو ہو لینے دیں)۔ ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ ان آوازوں پر کان ہی نہ دھریں۔ اس بات پر کچھ اطمینان ہے کہ اب آ ئی ایم ایف کا دباؤ کم ہوجائے ہوگا)خوش فہمی سے گریز کرنا چاہے)۔ وزیر اعظم کی کوششیں گر رنگ لے آئیں تو ممکن ہے کہ کم از کم لاج رہ جائے کہ سب کچھ میرٹ پر ہوگا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے حکومت کے لئے مشکلات کھڑی کرنے کی قسم کھائی ہوئی ہے لیکن دیکھنا تو یہ ہے کہ پہلے یہ خود اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل بھی ہو سکیں گے کہ نہیں (ز خمی شخص کی بات نہیں ہو رہی)۔حکومت کے خلاف متفقہ محاذ فی الوقت بہت مہلت طلب ہے۔ کیونکہ عوام کا رویہ ابھی زبانی غم و غصہ تک محدود ہے۔ سڑکوں پر آنے کے لئے ابھی ذہنی طور پر تیار نہیں (سردی بھی بہت ہوگی)ورنہ اتنی مہنگائی اور حکومت کے خلاف سخت بیانات کے بعد تو ایسا لگ رہا تھا کہ عوام کے صبر کا پیمانہ کسی بھی لمحے لبریز ہو سکتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوا۔(شائد آر ٹی ایس سسٹم فعال نہیں ہے)۔بہرحال تمام تنقید و اعتراضات سے قطع نظر پاکستان کی عوام چاہتی ہے کہ ملک میں ایسی کوئی صورتحال پیش نہ آئے کہ انہیں ”میرے عزیز ہم وطنوں“ کے خطاب کے بعد مٹھائیاں تقسیم کرنا پڑیں۔ تحر یک انصاف کا بیانیہ “مقبول“ ہو رہا ہے لیکن حکومت میں آنے کے لئے انہیں انتظار کرنا ہوگا لہذا تھوڑا صبر کریں سب ٹھیک ہوجائے گا۔
پاکستانی خزانے خالی ہونے اور معاشی صورتحال کا کچھ ایسا نقشہ پیش کیا جاتا رہا ہے کہ سخت سے سخت دل بھی پسیج جاتا۔ اگر میڈیا انڈسٹری بحران کا شکار نہیں ہوتی اور الیکڑونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی دال روٹی کو لالے نہیں پڑ ے ہوتے تو یقین جانیں کہ ہمارے میڈیا ہاؤسز ایسے ایسے پروگرام لائیو چلاتے کہ امریکہ بھی پاکستان کی رو کی گئی امداد کو بحال کردیتا۔بس مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت میڈیا انڈسٹری کا بحران، جان کی امان پاؤں کی طرح ہو گیا ہے۔
یہ امر قابل اطمینان ہے کہ عرب دنیا سے بہتر تعلقات کو بہتر کرنے (ہونے) میں کامیا بی مل رہی ہے۔ چین اور روس کے وجہ سے امریکہ کی جانب سے ڈو مور کا مطالبہ نہیں ہو رہا، لیکن موصوف امریکہ کے بعد روس سے بھی تعلقات خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ پاکستان ایف ٹی ایف لسٹ سے اپنا نام نکالنے میں بھی کامیاب ہو چکا تاہم بھارت کشمیر میں اپنی حیوانی جبلت کا جو مظاہرہ کر رہا ہے اس کو لگام دینے کے لئے کمر کسنے کی منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ وزیر خزانہ بھی سخت دباؤ سے باہر آنا چاہتے ہیں۔ بلٹ ٹرین چلانے کی خبر کا مطلب شاید ریلوے کا خسارہ ختم ہوجائے گا۔ الیکشن کرانے سے حکومتی خسارہ بھی ختم ہوجائے(کھوکھلے دعوے)۔ تو ان خوش کن اعلانات پر وقت سے قبل تنقید کرنے سے بہتر ہے کہ امریکہ کی جانب سے کشمیر پالیسی پر توجہ مرکوز کرلی جائے۔(قرضے و امداد وغیرہ لینے کے لئے امریکہ سے دو دو ہاتھ نہ کریں)۔ ویسے امریکہ بھی جانتا ہے کہ خطے میں بھارت اس کا بہترین بغل بچہ ثابت ہو رہا ہے بیس برسوں کی ناکامی کا نزلہ پاکستان پر کتنا گرائیں گے۔ (عجیب دائمی نزلہ ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا)۔ امریکہ نے واضح کردیا کہ خطے میں اس کے مفادات صرف بھارت ہی پورے کر سکتا ہے۔
(فی الحال)ممکن نہیں ہے مشاورت ت کی جائے۔ کبھی عوام کو اعتماد میں لیتے تو اچھی بات ہوتی۔ پی ٹی آئی تو ایک ایک پوائنٹ کو لیکر خوب سیاست کرے گی اور کچھ تھوڑا بہت نقار خانے میں طوطی کی جتنی آواز لئے ہم بھی قلم تیز کریں گے(کیا کریں عادت سے مجبور ہیں)۔ لیکن خاطر جمع رکھیں راقم کا مقصد جاگتے رہو، میرے آسرے پر مت رہنا ہوگا۔کیونکہ میں ایسے خواب نہیں دیکھتا جس کی تعبیر نہیں ہوتی۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

قادر خان یوسفزئی
Associate Magazine Editor, Columnist, Analyst, Jahan-e-Pakistan Former Columnist and Analyst of Daily Jang, Daily Express, Nawa-e-Waqt, Nai Baat and others. UN Gold medalist IPC Peace Award 2018 United Nations Agahi Awards 2021 Winner Journalist of the year 2021 reporting on Media Ethics

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply