مذہب اور طبقاتی نظام/انعام رانا

جوآنا کو والدہ سے ملوانے میں مجھے دو سال لگ گئے۔ پہلی شادی جو ایک “گوری” سے تھی کی ناکامی کے بعد ایک عدد نئی گوری کو بطور ممکنہ بہو ملوانا آسان نہ  تھا۔ والدہ نے اعلان کر رکھا تھا کہ اب تو دیسی بہو ہی آئے گی۔ خیر یہ الگ داستان  ہے کہ  کیسے دو سال وہ رشتہ تلاش کرتی رہیں اور کلاس سسٹم، میرا بڑا بیٹا جس پہ سب ذمہ داری ہو، میرا طلاق یافتہ ہونا اور اسے چھپانے سے انکار کرنا، میرا جہیز سمیت کئی رسومات سے پیشگی انکار اور سب سے بڑھ کر کئی بار تو میری سوشل میڈیا ایکٹیوٹیز نے انکی یہ کوشش کامیاب نہ ہونے دی۔ کیونکہ ممکنہ سسرال ذرا سی “ریسرچ” کے  بعد کہہ دیتا تھا کہ لڑکا پنگے بہت لیتا ہے ،جلد اٹھایا جائے گا۔

پھر اک دن میں نے ڈرتے ڈرتے ان کو اپنی پسند سے آگاہ کیا۔ کچھ تامل کے بعد کہ اب وہ خود بھی شاید تھک گئی تھیں ،اِسے ملنے پہ رضامند ہو گئیں۔ ملیں تو وہ انکو اتنی پسند آئی کہ دوسری بار ملنے پہ مغربی روایات کے بالکل برعکس اسے کہا اب تم دونوں شادی کر لو۔ وہ ہونق کچھ دیر تو ہم دونوں کا منہ دیکھتی رہی اور پھر کہنے لگی کہ یہ پیشکش انعام کرے گا تو ہی کچھ کہہ پاؤں گی۔ جواب تھا، اسکی کیا مجال بس میں نے ہاں کر دی ہے۔ ویسے تو اچھا ہوا، بیوی کو شادی سے بھی پہلے معلوم ہو گیا کہ چلنی ساس کی ہی ہے۔

صاحبو !جانے کیا ہے کہ میری دونوں شادیوں پہ کچھ مزے کا قصہ لازم ہوا۔ اس بار یوں ہوا کہ پاکستان سے ایک انتہائی دیدہ زیب لباس بن کر آیا جو دلہن پہ ٹرائی بھی ہوا۔ شادی کے شام کے فنکشن میں وہ زیب تن ہونا تھا اور شادی کے دن ہم ہی نے ہوٹل لے کر جانا تھا۔ سویر رجسٹری کی شادی (آپ سرکاری شادی کہہ لیجیے) کیلئے ہم تیار ہو کر سیدھا رجسٹری پہنچے۔ دلہن نے سفید یورپی شادی کا روایتی لباس پہنا تھا۔ شادی ہوئی اور ہم ہوٹل آ گئے جہاں نکاح اور پھر شادی کا کھانا تھا۔ اب جو ڈھونڈ پڑی تو معلوم ہوا کہ شام کا جوڑا ہمارے “بیسٹ مین” غیور علی خان گھر ہی چھوڑ آئے ہیں۔ گھر ہال سے اتنے فاصلے پہ تھا کہ اسے لاتے فنکشن گزر جاتا۔ جب میں بیگم کے کمرے کی جانب اسے بتانے چلا تو مجھے یقین تھا کہ میں وہ پہلا دلہا ہوں گا جسے اسکی شادی والے دن طلاق ہو جائے۔ سہیلیوں میں گھری بیوی کو جا کر صاف کہا کہ بلنڈر ہو گیا ہے اب دو صورتیں ہیں یا تو یہ سفید ہی پہنے رکھو یا پھر امی نے جو فنکشن میں پہننا تھا وہ پہن لو۔ جواب تھا کہ کوئی بات نہیں وہ والا پاکستان ولیمہ پہ پہن لیں گے ابھی تم امی کا لا دو۔ کمرے سے باہر آدھی عوام جو انگریزی گالیوں کی منتظر تھی اسی خوشی سے گزری جو عموما ً عمران خان کی تقریر بخیر گزر جانے پہ ہوتی ہے۔

شادی کے واقعہ اور پھر بیگم اور والدہ کے باہمی پیار اور مل جل کر رہنے پہ میں نے شکر کا سانس لیا کہ ایک خوف ہمیشہ موجود رہا تھا اور اسی وجہ سے شادی بھی دیر سے ہوئی تھی۔ اب ساس بہو کا پیار ایسا مثالی تھا کہ مجھے لگتا تھا جیسے میں گھر داماد ہوں اور ماں بیٹی کے ساتھ رہتا ہوں۔ میری والدہ نے اسے کھانے پکانے سکھائے، اس نے اردو کے سو الفاظ یاد کر لیے تاکہ گفتگو میں آسانی رہے اور والدہ نے بھی ایک انگریزی کورس کر لیا۔

صاحبو! ماں اور بیوی کی نبھ رہی ہو تو شوہر اور بیوی کی خود بخود نبھ جاتی ہے۔ مرد کی زندگی کا پچاس فیصد مسئلہ ہی بیگم اور باقی کے گھر والوں کے باہمی تعلقات ہوتے ہیں۔ یہ درست ہوں تو باقی پچاس فیصد سے نپٹنے کا حوصلہ مل جاتا ہے۔

والدہ نے شادی سے قبل پوچھا کہ جوآنا مسلمان ہو گی؟ یہ ہی سوال اُس نے پوچھا کہ کیا مجھے مسلمان بھی ہونا ہو گا۔ دونوں سے کہا کہ اہل کتاب سے شادی کی اجازت قرآن و سنت میں موجود ہے سو میں یہ شرط کیوں رکھوں۔ یہ اپنی ترجیح یا خدا کی نعمت ہے اور اس میں زبردستی یا شرط کی کوئی گنجائش میں نہیں پاتا۔ والدہ نے بھی اک دو بار سوائے خواہش کہ کاش مسلمان ہو جائے کبھی دوبارہ ذکر نہ  کیا۔

Advertisements
julia rana solicitors

اک دن میں نے والدہ سے کہا کہ جوانا کھانا بناتی ہے، برتن دھوتی ہے، وہ آپکا منہ چومتی ہے اور آپ اس کا؛ کیا کبھی آپکو کراہت آئی؟ کہنے لگی کیوں، مجھے کیوں آئے گی۔ میں نے کہا عیسائی جو ہوئی۔ کچھ دیر خاموشی کے بعد کہا نہیں کبھی نہیں۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا تو پھر ماسی پروین(پاکستان میں ہماری عیسائی ملازمہ) کے برتن آج بھی علیحدہ کیوں ہیں؟ اس سوال کے جواب میں موجود خاموشی ہمارے پورے سماج پہ چھائی ہے۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply