بس!بہت ہوچکا/پروفیسر رفعت مظہر

ہمارے ہاں الیکٹڈ کوئی نہیں ہوتا۔ کوئی سلیکٹڈ، کوئی امپورٹڈ وزیرِاعظم۔ اب ترقی کا ایک اور زینہ چڑھتے ہوئے ہم نے جوڈیشل وزیرِاعلیٰ بھی متعارف کرا دیا۔ پَس ثابت ہوا کہ ”جمہور“ صرف ووٹ تک محدود مگر وہ بھی ”زورآوروں“ کی مرضی پر منحصر جن کا ”حسنِ کرشمہ ساز“ جب اور جہاں جی چاہے بازی پلٹ دے۔ اِسی لیے جب کوئی کہتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت ہے تو ہم اِس لطیفے پر کھلکھلا کر ہنس دیتے ہیں۔ یہ لطیفہ ہی تو ہے کہ۔۔۔ فرشتوں نے جسے سجدہ کیا تھا۔۔۔وہ کل فُٹ پاتھ پر مُردہ پڑا تھا۔ہم اُن مزدوروں کی لاشوں کی حکمرانی کا دعویٰ کرتے ہیں جنہیں کوئٹہ کی سڑک پر رکھ کر لواحقین نے احتجاج کیا کہ جب تک وزیرِاعظم خود نہیں آئیں گے، لاشیں دفن نہیں ہوں گی۔ اُدھر وزیرِاعظم کی ضد کہ جب تک لاشیں دفن نہیں ہوں گی، وہ کوئٹہ نہیں آئیں گے۔ بالآخر لواحقین کی ہار ہوئی اور وزیرِاعظم کی جیت۔ کیا اِسی کا نام جمہوریت ہے؟۔ اگر پھر بھی یقین نہ آئے تو چشمِ تصور میں نشتر ہسپتال ملتان کی چھَت پر پڑی گلی سڑی لاشوں کو دیکھ لیں۔ آپ کو اِن لاشوں میں اشرافیہ کی کوئی لاش نظر آئے گی نہ اونچے ایوانوں کے مکینوں کی، کسی جج کی نہ کارپردارانِ اسٹیبلشمنٹ کی۔ یہ تو وہ مجبورومقہور ہیں جنہیں پسِ مرگ کفن بھی نصیب نہ ہوا۔ کیا اِسی کا نام جمہوریت ہے؟۔ کیا یہی عوام کی حکومت، عوام کے لیے اور عوام پرہے؟۔ کیا ادیانِ عالم میں سے کوئی بھی دین اِس کریہہ وقبیح فعل کی اجازت دیتا ہے؟۔ مآل اِس کا کیا ہوگا؟،ا ٓئیے تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں۔

انقلابِ فرانس کے بارے میں تو بہت سے لوگوں نے سُن رکھا ہوگا اور تاریخ کے طالب علم یہ بھی جانتے ہوں گے کہ بدبو دار کسانوں نے21 جنوری 1793ء کو فرانس کے شاہ لوئی کو قتل کرکے پیرس کی گلیوں میں اُس کی کھوپڑی کے ساتھ فُٹ بال کھیلا۔16 اکتوبر 1793ء کو فرانس کی عوامی عدالت نے فرانس کی ملکہ کو بھی سزائے موت دے دی۔ آئیے! اب انقلابِ فرانس کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں۔ امریکہ کے بانیان میں ایک تھامس جیفرسن بھی تھے جو امریکہ کے ٍتیسرے صدر بھی رہے۔ اُنہوں نے 1821ء میں خودنوشت میں لکھا ”میرا ہمیشہ یہ ماننا تھا کہ اگر کوئی ملکہ نہ ہوتی تو کوئی انقلاب بھی نہ آتا“۔ اُن کے خیال میں فرانس کی ملکہ مَیری انتوانیت کی فضول خرچی شاہی تخت کو لے ڈوبی۔ تھامس جیفرسن 1785ء سے 1789ء تک فرانس میں امریکہ کے سفیر رہ چکے تھے اور اُنہوں نے شاہ لوئی 16 کے دربار کی شاہ خرچیاں بھی دیکھی ہوئی تھیں اِس لیے کہا جا سکتا ہے کہ اُس کا بیان تاریخی حقیقت ہے۔ تھامس جیفرسن کے مطابق ملکہ مغرورومتکبر تھی، اعتدال پسندی اُسے چھو کر بھی نہیں گزری تھی اور وہ اپنی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو کچل کر لذت حاصل کرتی تھی۔ اُس کی شاہ خرچیوں کی بدولت خزانہ تیزی خالی ہو رتھا لیکن شاہ لوئی سمیت اُس کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہ تھا۔ جیفرسن کے خیال میں اگر میری انتوانیت نہ ہوتی تو بادشاہ قومی اسمبلی کو اختیارات دے کر خود ثانوی حیثیت میں رہنے پر رضامند ہو جاتا لیکن ملکہ کو یہ کسی صورت منظور نہ تھا کیونکہ وہ بادشاہوں کو حاصل خُدائی حقوق پر یقین رکھتی تھی۔ اُس کے لیے یہ ناقابلِ یقین تھا کہ شاہ لوئی کسی کے آگے جھُک کر اُس کی مرضی قبول کر لے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

صرف ملکہ میری انتوانیت ہی انقلابِ فرانس کی واحد وجہ نہیں تھی بلکہ کئی اور وجوہات بھی تھیں۔ شاہ لوئی کے دَور میں فرانس 3 واضح گروپوں میں منقسم تھا۔ پہلے گروپ کی نمائندگی چرچ کے پاس تھی جو فرانس کی 10 فیصد زمین کا مالک تھا۔ بادشاہ کی طرف سے چرچ کو مختلف اقسام کے ٹیکس لگانے کی کھلی چھوٹ تھی۔ چرچ کے بشپ ہمیشہ اشرافیہ سے آتے جنہیں عام آدمی کی کسمپرسی کا مطلق احساس نہیں تھا۔ دوسرا گروہ فیوڈل اشرافیہ کا تھا جو فرانس کے 45 فیصد زرعی وسائل کے مالک تھے۔ اُنہوں نے کسانوں پر تقریباََ 15 قسم کے مختلف ٹیکس لگا رکھے تھے۔ یہی نہیں بلکہ اُنہیں مزید ٹیکس عائد کرنے کی بھی آزادی تھی۔ تیسرا گروہ شہری ورکرز کا تھا جنہوں نے بعد میں تشدد آمیز کارروائیوں میں بھرپور حصّہ لیا۔ اِسی گروپ میں عام کاشتکار بھی شامل تھے۔ اِن کے پاس فرانس کی 55 فیصد زرعی زمین تھی مگر یہ ٹیکس کے نظام میں اِس بُری طرح سے جکڑے ہوئے تھے کہ اِنہیں آتشِ شکم کی سیری کے لیے شہروں میں بطور سستے مزدور کام کرنا پڑتا تھا۔ بشپ، سیاسی اشرافیہ اور شاہی اختیارات کی چکّی میں پستے غریب عوام ہی بالآخر انقلابِ فرانس کا سبب بنے۔ وہ بدبودار کسان جن کے پسینے کی بُو سے اشرافیہ کراہت محسوس ہوتی تھی وہی اشرافیہ کے خون سے ہولی کھیلتے ہوئے یوں نظر آئے کہ پیرس کی گلیوں میں سوائے خون اور سَربریدہ لاشوں کے کچھ باقی نہ بچا۔

معزز قارئین! میرا انقلابِ فرانس کی مختصر تاریخ بیان کرنے کا مقصد محض یہ ہے کہ آجکل وطنِ عزیز میں افراتفری عروج پر ہے۔ اگر آپ انقلابِ فرانس کی تاریخ کو موجودہ ملکی حالات پر منطبق کریں تو شاید آپ کو سرِمو بھی فرق نظر نہ آئے۔ مثلاََ کوئی مانے یا نہ مانے مجھے تو بشریٰ بی بی کے کردار میں فرانسیسی ملکہ میری انتوانیت کی جھلک نظر آتی ہے۔ شاہ لوئی انتوانیت کے قبضہئ قدرت میں تھااور بشریٰ بی بی کی حاکمیت کے چرچے گلی گلی۔ آج کی سیاسی اشرافیہ وہی کردار ادا کر رہی ہے جو فرانس کی سیاسی اشرافیہ نے ادا کیا۔ آج خزانہ خالی ہے اور ہم ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے دَر دَر کے بھکاری بنے بیٹھے ہیں۔ اگر کہیں سے قرض کی نوید ملتی ہے تو ہماری آنکھوں کی چمک دوچند ہو جاتی ہے حالانکہ بقول غالب
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دِن

قرض نے پہلے کسی کا بھلا کیا نہ اب کر سکتا ہے۔ انقلابِ فرانس کی وجہ مجبور ومقہور بدبو دار کسان بنے اور آج کا کسان بھی دَربدر اپنے حقوق کی تگ ودَو میں احتجاج کرتا ہوا۔ پاکستان کا کلرک، اساتذہ، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف پر مشتمل ورکر گروپ اپنے مطالبات منوانے کے لیے سڑکوں کی خاک چھانتا ہوا۔ انقلابِ فرانس کی ایک بڑی وجہ ٹیکسوں کی بھرمار تھی، آج وہی عالم پاکستان میں ہے۔ بے محابہ ٹیکسز نے زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ حکومت اُتنا دیتی نہیں جتنا واپس لے لیتی ہے۔ صرف بجلی کے بلز کی مثال ہی لے لیجئے۔ جتنا صرف شدہ یونٹس کا بِل بنتا ہے، اُتنے ہی ٹیکسز بھی لگا دیئے جاتے ہیں۔ آج پاکستان کا شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جو یوٹیلٹی بِلز پر نوحہ خوانی کرتا نظر نہ آئے۔ مہنگائی کا عفریت مُنہ پھاڑے ہر کہ ومہ کو نگلنے کو تیار۔ پاکستان کی تاریخ میں اتنی مہنگائی پہلے کبھی نہیں ہوئی جتنی آج ہے۔ حکمرانوں کو احساس نہ ادراک کہ عوام مہنگائی کی چکّی میں کس طرح پِس رہے ہیں۔ مارچ 2022ء تک نوازلیگ کی مقبولیت عروج پر تھی اور تحریکِ انصاف کی پاتال میں لیکن آج معاملہ یکسر اُلٹ۔ بگڑتی ہوئی معاشی صورتِ حال پر اوّل تو نوازلیگ سمیت اتحادیوں کو تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے حکومت سنبھالنی ہی نہیں چاہیے تھی لیکن اگر سنبھال ہی لی تو پھر قوم کو یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ اِس ساری صورتِ حال کی ذمہ دار تحریکِ انصاف کی حکومت ہے جس کے ساڑھے تین سالہ دَور میں ملکی حالت ڈیفالٹ تک آن پہنچی۔ حقیقت مگر یہ کہ اِس معاملے میں اتحادی حکومت مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے۔ آج سوشل میڈیا کا دَور ہے اور تحریکِ انصاف اُس پر چھائی ہوئی۔ اُس کا جھوٹ بھی سچ بن کر سامنے آتا ہے جبکہ اتحادی حکومت کی سچائیوں کا کوئی خریدار نہیں۔ یہ بجا کہ نوازلیگ معیشت کی بحالی کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ سوال مگر یہ کہ اِس تگ ودَو کی تحسین کرنے والے کتنے ہیں۔
میں اِنہی کالموں میں لکھ چکی ہوں کہ
پکڑ کے زندہ ہی جس درندے کو تم سدھارنے کی سوچتے ہو
بدل سکے گا نہ سیدھے ہاتھوں وہ اپنے انداز دیکھ لینا

Advertisements
julia rana solicitors

لیکن حکمران پتہ نہیں کس سوچ میں گُم ہیں۔ ملک آہستہ آہستہ انارکی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہزاروں، لاکھوں نہیں،صرف درجنوں شَرپسند پورے ملک کی شاہراہوں کو بند کر دیتے ہیں لیکن وفاقی حکومت کا صرف بڑھکوں پر اکتفا۔ اگراتحادی انقلابِ فرانس جیسے کسی خونی انقلاب کے انتظار میں نہیں تو پھر اُنہیں اپنی رِٹ قائم کرنا ہوگی کیونکہ ”بَس اب بہت ہوچکا“۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

پروفیسر رفعت مظہر
" پروفیسر رفعت مظہر کالمسٹ “روز نامہ نئی بات قطر کے پاکستان ایجوکیشن سنٹر (کالج سیکشن)میں ملازمت کی آفر ملی تو ہم بے وطن ہو گئے۔ وطن لوٹے تو گورنمنٹ لیکچرار شپ جوائن کر لی۔ میاں بھی ایجوکیشن سے وابستہ تھے ۔ ان کی کبھی کسی پرنسپل سے بنی نہیں ۔ اس لئے خانہ بدوشوں کی سی زندگی گزاری ۔ مری ، کہوٹہ سے پروفیسری کا سفر شروع کیا اور پھر گوجر خان سے ہوتے ہوئے لاہور پہنچے ۔ لیکن “سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں“ لایور کے تقریباََ تمام معروف کالجز میں پڑھانے کا موقع ملا ۔ زیادہ عرصہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں گزرا۔ درس و تدریس کے ساتھ کالم نویسی کا سلسلہ بھی مختلف اخبارات میں جاری ہے۔ . درس و تدریس تو فرضِ منصبی تھا لیکن لکھنے لکھانے کا جنون ہم نے زمانہ طالب علمی سے ہی پال رکھا تھا ۔ سیاسی سرگرمیوں سے ہمیشہ پرہیز کیا لیکن شادی کے بعد میاں کی گھُٹی میں پڑی سیاست کا کچھ کچھ اثر قبول کرتے ہوئے “روزنامہ انصاف“ میں ریگولر کالم نگاری شروع کی اور آجکل “روزنامہ نئی بات“ میں ریگولر دو کالم “قلم درازیاں“ بروز “بدھ “ اور “اتوار“ چھپتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply