سارا چکر معاشیات کا ہے۔۔اسد مفتی

پیارے قارئین اور دوستو!بہت دنوں کی چھٹی کے بعد واپس پلٹا ہوں ۔وطن عزیز اور ہمسایہ ملک میں  چار ہفتوں کی خاک چھاننے کے بعد  تھکن سے جوسب کا حال ہوتا ہے میرا اس سے کچھ سوا ہی ہوا ہے۔سوچا تھا ان چار ہفتوں کا آنکھوں دیکھا حال  اور کانوں سنی حکایتیں  آئندہ کے لیے اٹھا ررکھتے ہیں،  سوچا تھا آج میں آپ سے ہلکی پھلکی باتیں کروں گا تاکہ میں پھر سے اپنی جون میں آسکوں  لیکن کشور حسین شاد باد کی سیاسی،سماجی،ثقافتی ،آئینی اور ادبی صورتحال اتنی دگر گوں ہو  چکی ہے کہ وہاں ہر گام مسائل اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔اس وقت ملک عزیز میں چاروں طرف مسائل ہی مسائل ہیں ۔آئینی مسائل،سیاسی مسائل،مذہبی مسائل، علاقائی مسائل،گروہی مسائل،ثقافتی مسائل،تعلیمی مسائل،صحت عامہ کے مسائل،لسانی مسائل،فوجی مسائل،دفاعی مسائل،بے روزگاری مسائل،زندگی کے سارے مسائل۔۔۔اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ جہاں وسائل نہ ہوں وہاں مسائل اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔

ہر مسئلہ سو فیصد معاشی مسائل سے جڑا ہوا ہے۔تمام سیاسی و سماجی مسائل کی جڑیں  معاشی صعوبت اور پریشانی کی  تہہ میں گڑی ہوئی ہیں ۔مسائل حل نہ ہو رہے ہوں یا حل ہونے کی رفتار عوامی توقع اور صورت حال کے تقاضوں سے کہیں کم اور دھیمی ہو تو پریشان حال عوام کا پریشان ذہن ہونا فطری بات ہے۔صاف نظر آتا ہے کہ وہ رفتہ رفتہ حکومت انتظامیہ  ،عدلیہ منتخب اداروں اور معاشرے  سے مایوس  اور بدظن ہوتے جارہے ہیں ،جمہوری ادارے مضبوط نہیں ہو پارہے ہیں  مایوس عوام کا منفی سمتوں کی طرف چل نکلنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ،علاقائی اور مذہبی فرقہ پرستی کو فروغ دیا جارہاہے۔مسلکی فرقہ وارانہ بنیادوں پر گروہ اور جتھے تشکیل دے دیے گئے ہیں  اور ہنوز یہ عمل جاری و ساری ہے۔بنیاد پرستی اور انتہا پسندی زور پکڑ رہی ہے اور کئی لوگ اسلام کے نام پر خون خرابہ کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں ۔سو دو سو انتہا پسند کسی بھی شہر کا محاصرہ کرکے اسےمفلوج کرسکتے ہیں ۔نفرت اور عصبیت بڑی محنت اور “خلوص دل”سے پھیلائی جارہی ہے۔

معاشرہ میں رواداری اور برداشت کا مادہ ختم ہوچکا ہے۔معاشرہ جس طرح بے لگام ہورہا ہے۔بہت جلد وہ اس سے بھی سوا ہوجائے گا اور یہ بات ہر کس و ناکس جانتا ہے۔کہ جمہوریت صرف جمہوری عمل جاری و ساری رہنے اور بڑھاوا دینے ،ترقی کرنے اور نشوو نما کی  فروغ سے ہی مضبوط و مستحکم ہوسکتی ہے۔اس کے علاوہ کوئی چھومنتر ،کوئی ٹونہ ٹاٹکہ ،کوئی دوا دارو کوئی اکسیر نسخہ ،کوئی دعا،عبادت،کوئی الہ دین کا چراغ،کوئی گیڈر سنگھی، کوئی اوتار دھارا ،کوئی جادو کی چھڑی یا کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے۔لاہور میں میرے ساتھ ایک  ترقی پسند عابد منٹو نے ایک نہایت اہم اور پتے کی بات کہی ہے کہ سیاستدانوں نے موجودہ نظام کو تبدیل نہ کیا تو ملک کو معاشی  تباہی کا زبردست سامنا کرنا پڑے گا ۔میں یہاں اسحاق ڈار کی بات نہیں کروں گا ،بلکہ عابد منٹو کی بات کی تائید کرتے ہوئے ملک ِ عزیز کی معاشی  تباہی کے حل کے لیے اپنے حساب سے عرض کرو ں گا۔

میں نے پہلے بھی کہیں لکھا ہے کہ وہ شخص پاکستان کے بارے میں کیا جانتا ہے جو صرف پاکستان کے بارے میں جانتا ہے،آج کے پاکستان کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اصول ۔رواداری،برداشت اور جواز لوگوں کے ذہنوں سے،لوگوں کی زندگیوں سےاٹھتا جارہا ہے۔یہ الفاظ ہماری زندگی سے خارج ہو رہے ہیں ۔ عدم برداشت 14 اگست کی دین ہے،جس کے منفی  نتائج ہم تخلق اور تخلیقِ فکر پر بھی دیکھ رہے ہیں جو وہ کچرے کی صورت میں تیزی سے اگلتا جارہا ہے کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہماری زندگی بے شمار ثانوی اشیا کا مجموعہ ہے اور یہ کہ ثانوی چیزیں مل کر اسے قابل برداشت بناتی ہیں ۔پاکستان جا کر ایک بات کا احساس پھر تازہ ہوا اور یقین کی تصدیق بھی کہ ہر عہد کی ایک مخصوص فکر ہوتی ہے۔اور طرزِ  اظہار بھی۔۔ اور ماہ و سال کے آئینے میں عہد کو دیکھنا اور آواز کو سننا آسان نہیں ،کیفی دانا اور عارف ایسی صورتحال بتاتے ہیں  کہ جب کہنے سننے کو کچھ بھی نہیں رہ جاتا ۔

بات پھیلتی جارہی ہے میں اب اپنے اصل موضوع کی طرف لوٹ آتا ہوں ،کہ کشور حسین شاد باد کی معاشی تباہی کے حل کے لیے میں کیا کہنا چاہتا ہوں ۔

عام مفہوم میں ہم ایسا کہیں گے کہ جس طرح کوئی گھر یا خاندان چلتا ہے قومی معیشت کو چلانے کے لیے بھی وہی اصول ہیں ۔وہی بجٹنگ،وہی آمدن، وہی اخراجات ،وہی سیونگ،اور وہی انوسٹمنٹ۔قومیں  بھی اسی طرح چلتی ہیں جیسے گھرانے چلتے ہیں جب کسی گھرانے کے حالات ناگفتہ بہ اور تنگ ہوجائیں تو وہ دوسرے سے قرضہ لے کر کام چلانے کی کوشش کرتا ہےاور وہ وقت بھی آجاتا ہے یا آسکتا ہے جب دوسرے سے قرض لے کر کام چلانےکی کوشش کرتا ہے اور وہ وقت بھی آجاتا ہے یا آسکتا ہے،جب دوسرے عزیز قرض دینے سے انکار کردیتے ہیں کہ پہلے قرضوں کی واپسی کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی ۔اب اس گھرانے کے لیے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ ایک تو وہ اپنے افراد کا معیار زندگی کم کرے (میں یہاں غریب لوگو ں کی بات نہیں کررہا)اور  دوسرے اپنے اثاثے  کو فروخت یا رہن رکھوا کر روپیہ حاصل کرے،عام لفظوں میں  اس وقت پاکستانی معیشت ایسا ہی ایک گھرانہ ہے جس کا بال بال  (یہاں مراد بال بچے بھی ہیں )قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اور وہ وقت  آگیا ہے۔ جب قوم سال بھر میں جو کماتی ہے سب کا سب پرانے قرض اتارنے اور سالانہ سود اتارنے یا ادا کرنے پر لگ رہا ہے ،چنانچہ ہمارے پاس واحد اور میری  نظر میں یہی ایک راستہ ہے کہ ہم اپنی قومی معیشت کی از سرِ نو تشکیل یا  یا پیر سٹرٹیکا کے لیے خود اپنے وسائل پیدا کرنے کی غرض سے قومی اثاثے کو (liquidate )کریں ۔

آج تک کسی بھی سیاستدان یا معاشیات دان  نے ہمیں  یہ نہیں بتایا کہ ہماری وفاقی حکومت کے کُل اثاثے کتنے ہیں اور کہاں کہاں ہیں ؟عام  فہم پاکستانی معیشت کے بارے میں تھوڑی بہت سوجھ بوجھ رکھنے والے ایک شخص کے طور پر میرا اندازہ ہے کہ  وفاقی  حکومت کے اثاثوں  کی مالیت کسی طور بھی 125 ہزار کروڑ سے کم نہیں ۔سرفہرست 22 کا رپوریشنز اور پاکستان ریلوےکے 20 بڑے انڈسٹریل پلانٹس اور ورکشاپس  آتے ہیں جن کی مجموعی حالت اربوں ڈالرز ہے۔اس کے بعد آتے ہیں وہ جسے ہم دفاعی اثاثہ کہتے ہیں ۔واہ کمپلیکس حویلیاں  کمپلیکس ،کامرہ کمپلیکس اور کئی دوسری فیکٹریاں اور پلانٹس جن میں سے ایک ایک کی مالیت 9 سو ملین ڈالر جتنی یا زائد ہے اور وہ ہزاروں ایکڑ زمینیں ہیں جو مختلف دفاعی اداروں او رمحکموں کی ملکیت ہیں ۔ان کے بعد پی آئی اے ،پاکستان سپننگ،سول ایوی ایشن،ٹی اینڈ ٹی، واپڈا، پورٹس اور کئی دوسرے اثاثے آتے ہیں ۔جن کی مالیت بے پناہ ہے ۔یہ تمام کے تمام وفاقی حکومت کے اثاثے ہیں جن کی مجموعی مالیت پاکستان کو ڈوبنے سے بچاسکتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایک المیہ نہیں ہے کہ ملک کی بیمار معیشت کو جوں کا توں قائم رکھنے اور چلانے کے لیے  زبوں حال قوم کو بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبایا جارہا ہے ،اور وفاقی حکومت  کے یہ بے پناہ اثاثے اپنی جگہ محفوظ اور منجمد پڑے ہوئے ہیں ۔اتنا ہی المناک پہلو یہ ہے کہ حکومت کو اپنے اثاثوں کی محض دیکھ بھال اور انتظام و انصرام پر  ہر سال لگ بھگ 7 ہزار کروڑ سے زیادہ صرف کرنے پڑتے ہیں  ۔ایک طرف سفید ہاتھی پالے جارہے ہیں   تو دوسری طرف عوام کی بود و باش ،روزگار، صحت ، تعلیم و تربیت اور ترقی و بہبود پر صرف کرنے کے لیے حکومت کے پاس بڑے بڑے قرضے لینے کے باوجود کوئی پیسہ نہیں ہے۔میں مانتا ہوں کہ اس سلسلے میں معمولی کارروائیاں شروع ہو چکی ہیں ،مگر ان ساری کارروائیوں  سے ہمارئی معیشت یا ملک پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور اگر یہ خیال ہے کہ اس جزوی کارروائی کے نتیجے میں  ہمارے صنعتکار او رتاجر حضرات میں اعتماد پیدا ہوگا  تو  یہ  سراسر خام خیالی ہے۔اعتماد صرف  اسی  صورت میں پیدا ہوسکتا ہے کہ پوری کی پوری معاشی پالیسی ایک پیکج کی شکل میں آئے لیکن مجھے ڈر ہے کہ وفاقی حکومت کے یہ اثاثے دراصل وفاقی بیوروکریسی کے اثاثے بن چکے ہیں عوام کے اثاثے یہ ہرگز ہرگز نہیں ہیں ۔اب ایک آخری بات ۔

ایک کروڑ پتی ایم پی اے اپنے علاج کے لیے شہر کے ایک خیراتی ہسپتال میں داخل ہوا، انتظامیہ نے بتایا کہ یہ خیراتی ہسپتال ہے یہاں صرف غریبوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔کروڑ پتی نے کہا “میں غریبوں کا نمائندہ ہوں  ا س  لیے اس ہسپتال میں علاج کروانا میرا استحقاق ہے”

کون عاشق خدا کی ذات کا ہے

سارا چکر معاشیات کا ہے!

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *